تازہ ترینمضامین

انسانی بقاء کو درپیش سنگین خطرات…محمد شریف شکیب

عالمی ادارہ صحت نے فضائی آلودگی کوانسانی صحت کے لیے سب سے بڑاخطرہ قرار دیا ہے عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی آلودگی سے سالانہ 70 لاکھ افراد قبل از وقت ہلاک ہو جاتے ہیں یہ تعداد دنیا بھر میں کورونا وائرس سے مرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔ڈبلیو ایچ او نے ہوا کے معیار سے متعلق گائیڈ لائن کو مزید سخت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ گائیڈ لائنز سے تجاوز کرنا انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے گائیڈ لائنز کا مقصد لوگوں کو فضائی آلودگی کے منفی اثرات سے بچانا ہے اور حکومتوں کو ان معیارات کی تکمیل کے لیے قانونی طور پر پابند کرنا ہے ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ فضائی آلودگی انسانی صحت پر مہلک اثرات مرتب کرتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی نئی گائیڈ لائنز میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ کی مقدار کو ہوا میں کم کرنے پر زور دیا گیا۔ہم عام طور پرفیکٹریوں،کارخانوں اور بھٹہ خشت کی چمنیوں سے اٹھنے والے دھواں،کیمیکل ملے پانی، کوڑا کرکٹ، اورگرد و غبارکو ہی آلودگی سمجھتے ہیں۔ اور آلودگی ختم کرنے کی ذمہ داری حکومت پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دیتے ہیں۔ آلودگی پھیلانے اور ماحول کو خراب کرنے کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے ہم اپنے گھر کی صفائی کرکے کوڑا کرکٹ دروازے یا کھڑکی سے باہر گلی میں پھینک دیتے ہیں جانوروں کی آلائشات گلی کے نکڑ پر کھلی جگہ ڈال دیتے ہیں، کتے، بلیاں اور پرندے انہیں پوری گلی میں پھیلادیتے ہیں اور ایک گھر کی لاپرواہی سے پورا محلہ غلاظت کے ڈھیر میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ ہم جب کھٹارہ گاڑیاں لے کر سڑکوں پر نکلتے ہیں تو ہمیں پروا نہیں ہوتی کہ گاڑی سے نکلنے والا زہریلا دھوئیں کتنی جانوں کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ہم اتنے عجلت پسند اور بے صبرے واقع ہوئے ہیں کہ ٹریفک سگنل میں چند سیکنڈ کے لئے رکنے کی تاب نہیں لاتے۔سامنے گاڑیوں کی قطار لگی ہوتی ہے اور ہم پریشر ہارن بجا کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں ہمیں یہ اندازہ ہی نہیں کہ پریشر ہارن کے شور سے بھی انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فضائی آلودگی سے بچاؤ میں درخت، جنگلات، پودے اور سبزہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آبادی میں اضافے کی وجہ سے لہلہاتے کھیت کھلیان اور باغات کنکریٹ کے جنگلوں میں تبدیل ہورہے ہیں۔ جنگلات کی بے دریغ کٹائی جاری ہے۔ خیبر پختونخوا میں ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژن کے جنگلات تیزی سے ختم ہورہے ہیں۔ جس کی وجہ سے قدرتی ماحول متاثر ہورہا ہے۔ عالمی حدت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے گلیشئیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں سیلاب سے بڑی پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہورہا ہے۔ موجودہ حکومت نے خیبر پختونخوا میں بلین ٹری سونامی کے نام سے شجرکاری مہم شروع کررکھی ہے جبکہ مرکزی حکومت نے بھی اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں دس ارب درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ گذشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بھی بلین ٹری منصوبے کی تعریف کی ہے۔ ا ن کا کہنا تھا کہ دنیا پاکستان کے بلین ٹری منصوبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، تمام ملکوں کو پاکستان کے شاندار منصوبے کی پیروی کرنی چاہیے، عالمی درجہ حرارت میں 1.5 درجے کمی کیلئے تمام ممالک کو مل کر کوششیں کرنی ہونگی اوردنیا کو ماحولیاتی اور فضائی آلودگی سے بچانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔قدرتی ماحول کو بچانے کی ذمہ داری صرف حکومتی اداروں یا غیر سرکاری تنظیموں پر نہیں چھوڑی جاسکتی۔ قدرتی ماحول کو آلودگی سے بچانے کے لئے سول سوسائٹی، تعلیمی اور صحت کے اداروں،محکمہ ماحولیات، محکمہ جنگلات اور شہریوں کو بھی اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ کیونکہ قدرتی ماحول کو آلودگی سے بچانا ہماری بقاء کا مسئلہ ہے۔ جس سے براہ راست قوم کا مستقبل وابستہ ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔