تازہ ترین

وزیراعلی محمود خان کے زیر صدارت دوبئی ایکسپو میں شرکت کے سلسلے میں انتظامات اور تیاریوں سے متعلق ایک اجلاس

پشاور(چترال ایکسپریس)خیبرپختونخوا حکومت صوبے کی طرف زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور صوبے کے مثبت تشخص کو بین الاقوامی سطح پر اُجاگر کرنے کیلئے متحدہ عرب امارات میں منعقدہونے والی بین الاقوامی دوبئی ایکسپو میں شرکت کرے گی جس میں غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے صوبائی حکومت کے اہم منصوبوں کو پیش کیا جائے گا۔ ان منصوبوں میں سیاحت، زراعت، صنعت ، معدنیات، توانائی، انفراسٹرکچر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے منصوبے شامل ہوں گے ۔صوبے کی تہذیب و ثقافت اور مقامی مصنوعات کو بین الاقوامی سطح پر اُجاگر کرنے کیلئے دوبئی ایکسپو میں صوبے کی تہذیب، ثقافت اور آثار قدیمہ سے متعلق چیزوں کے علاوہ مقامی سطح پر تیار کی جانے والی مصنوعات کی بھی نمائش کی جائے گی اور ثقافتی شو کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔
دوبئی ایکسپو میں شرکت کے سلسلے میں انتظامات اور تیاریوں سے متعلق ایک اجلاس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منگل کے روز منعقد ہوا ۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، سیکرٹری صنعت ہمایون خان، ڈائریکٹر جنرل کلچر اینڈ ٹوارزم اتھارٹی کامران آفریدی، چیف ایگزیکٹیو آفیسرخیبرپختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈحسن داﺅد اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو دوبئی ایکسپو میں شرکت کیلئے صوبائی حکومت کے انتظامات ،مجوزہ سرگرمیوںاور دیگر اُمور کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایکسپو میں پاکستان سمیت 192 ممالک شرکت کریں گے اورخیبرپختونخواحکومت اگلے سال جنوری میں اس بین الاقوامی ایکسپو میں شرکت کرے گی ۔
مزید بتایا گیا کہ ابتدائی شیڈول کے مطابق ایکسپو میں یکم جنوری 2022 کو کے پی پویلین قائم کیا جائے گااور صوبے کی مختلف مصنوعات جن میں لیدر، ٹیکسٹائل ، ہینڈی کرافٹ ، کاٹیج اور دیگر مصنوعات کی نمائش منعقدکی جائے گی ۔6 اور7 جنوری 2022کو رشکئی اسپیشل اکنامک زون ، غازی اکنامک زون ، چترال اکنامک زون اور مجوزہ درابن اسپیشل اکنامک زون سے متعلق اسپیشل اکنامک زونز انوسٹمنٹ کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا ۔ 10 اور11 جنوری کو مائنز اینڈ منرلز انوسٹمنٹ کا نفرنس کے انعقاد کے ساتھ ساتھ قیمتی پتھر وں کی نمائش بھی کی جائے گی ۔ 14اور 15 جنوری کو انیٹگریٹیڈٹوارزم زونز کے حوالے سے ٹوارزم ،کلچر اور آرکیالوجی انوسٹمنٹ کا نفرنس بھی منعقد کی جائے گی۔18 اور19 جنوری کو انرجی اینڈ پاور پراجیکٹس کے شعبے میں کروڈ آئل ریفائنری کی تعمیر ، ایل پی جی سٹوریج اور بوٹلنگ پلانٹس کی تعمیر ،22میگاواٹ پتراک شیرینگل ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ، 47 میگاواٹ بریکوٹ پتراک ہائیڈرو پاور پراجیکٹ،20 میگاواٹ گوربند خوار ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، 496 میگاواٹ کری مشکور ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور 377 میگاواٹ غریت سویر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے حوالے سے کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔ 22 جنوری کو پشاور ۔ڈی آئی خان موٹروے ، سوات ایکسپریس وے ، دیر موٹروے ،بونیر ایکسپریس وے کے حوالے سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ 23 جنوری کو بلین ٹری سونامی منصوبے کی نمائش کی جائے گی ۔ 24 اور25 جنوری کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے میں صوبائی حکومت کے منصوبوں کے حوالے سے کانفرنس منعقد کی جائے گی ۔ 29 اور30 جنوری کو ایگریکلچر اور لایﺅسٹاک منصوبوں کے حوالے سے بھی ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں کے پی۔ فوڈ شو بھی شامل ہو گا۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ بزنس ٹو بزنس ماڈل کیلئے بھی حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے جس میںصنعتکاروںکی نمائندہ تنظیموں کے ذریعے نجی شعبے کے منصوبوں کوبھی ایکسپو میں شامل کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایکسپو میں خیبرپختونخوا حکومت کی شرکت اور وہاں پر صوبائی حکومت کی سرگرمیوں سے متعلق جملہ اُمور کی نگرانی خیبرپختونخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کرے گا اور ایکسپو میں پیش کرنے کیلئے تمام متعلقہ محکمے اپنے اپنے منصوبوں کو 15 اکتوبر تک حتمی شکل دیں گے ۔ صوبے کی طرف سے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے دوبئی ایکسپوکو ایک بہترین موقع قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ایکسپو میں صوبائی حکومت کے ایسے منصوبوں کو پیش کیا جائے جو غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے موزوں ہوں اور جن کی فزبیلٹی اسٹڈیز اور ماسٹر پلانز تیار ہو چکے ہوں۔ وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ ایکسپو میں شرکت کے سلسلے میں انتظامات اور تیاریوں کو بروقت حتمی شکل دی جائے تاہم اس سارے عمل میں صوبائی حکومت کے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کو ہر لحاظ سے یقینی بنایا جائے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔