تازہ ترینمضامین

اوور بلنگ اورلوڈ شیڈنگ کے مسائل…محمد شریف شکیب

واپڈانے یہ نوید سنائی ہے کہ حالیہ دنوں میں پن بجلی گھروں سے نیشنل گرڈ کو 8ہزار854میگاواٹ بجلی فراہم کی گئی جو ایک ریکارڈ ہے۔رپورٹ کے مطابق تربیلاسے چار ہزار 926میگاواٹ، منگلا ہائیڈل پاور سٹیشن سے 920میگاواٹ، غازی بروتھا سے1450میگاواٹ،نیلم جہلم سے 850میگاواٹ جبکہ دیگرچھوٹے بجلی گھروں سے 708میگاواٹ پن بجلی قومی گرڈ کو مہیا کی جارہی ہے۔ ملک بھر میں واپڈا کے پن بجلی گھروں کی تعداد 22ہے جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 9 ہزار 406میگاواٹ ہے، جو نیشنل گرڈ کوسالانہ 37 ارب یونٹ سستی پن بجلی مہیا کرتے ہیں،رپورٹ کے مطابق پانی سے بجلی پیدا کرنے کے مختلف منصوبے اگلے سات سالوں کے دوران مکمل ہوں گے ان منصوبوں کی تکمیل سے واپڈا کی پیداواری صلاحیت9ہزار 406میگاواٹ سے بڑھ کر 18ہزار 431میگاواٹ ہو جائے گی اور نیشنل گرڈ کو مہیا کی جانے والی سستی اور ماحول دوست بجلی بھی 37ارب یونٹ سے بڑھ کر 81ارب یونٹ سالانہ ہو جائے گی۔سابقہ حکومت کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے ملکی ضروریات سے زیادہ بجلی کی پیداوار حاصل کرنے کا ہدف حاصل کیا تھا۔ موجودہ حکومت بھی بجلی کی پیداوار میں مزید ہزاروں میگاواٹ اضافے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ اس کے باوجود لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے عوام کو نجات نہیں مل رہی۔ واپڈا کا موقف ہے کہ ملک میں بجلی کی کوئی کمی نہیں،تاہم ڈسٹری بیوشن کا نظام بوسیدہ ہے اور پرانی ٹرانسمیشن لائنیں زیادہ لوڈ نہیں اٹھا سکتیں۔ لوڈ شیڈنگ صرف ان علاقوں میں ہوتی ہے جہاں بجلی چوری ہوتی ہے اور بل ادا نہیں کئے جاتے۔ بجلی کی چوری ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کے بیشتر سرکاری ادارے واپڈا کے اربوں کے مقروض ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں 50فیصد حکومتی ادارے بجلی چوری میں ملوث ہیں۔ 40فیصد چوریاں صنعت کار اور کارخانے دار کرتے ہیں عام صارفین میں سے صرف 10فیصدکنڈے لگاتے ہیں۔اگرتمام نادہندہ سرکاری ادارے اپنے ذمے کے بقایاجات ادا کریں تو شاید واپڈا کو بجلی کی قیمت آئے روز بڑھانے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملک میں صرف چالیس فیصد بجلی پانی سے پیدا کی جاتی ہے جبکہ ساٹھ فیصد ضروریات تیل، ایٹمی ٹیکنالوجی، سولر، ونڈ ملز اور کوئلے سے بجلی پیدا کرکے پوری کی جاتی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے بجلی کی پیداواری لاگت بھی بڑھتی ہے اور قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوجاتا ہے۔قیمتوں میں اضافے کے علاوہ اووربلنگ بھی صارفین کے لئے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ملک میں بجلی اور گیس کے استعمال کی مقدار بڑھنے کے ساتھ اس کے ریٹ بھی تبدیل ہوتے ہیں۔ ایک سو یونٹ استعمال کرنے پر بجلی کی فی یونٹ قیمت بارہ روپے بنتی ہے۔ دو سویونٹ کے استعمال پر فی یونٹ قیمت سولہ روپے بنتی ہے۔ تین سو یونٹ استعمال پر فی یونٹ بائیس، چار سو یونٹ پر اٹھائیس اور پانچ سو یونٹ سے زائد استعمال پر بتیس روپے فی یونٹ صارفین سے وصول کئے جاتے ہیں۔ کاروبار کا اصول یہ ہے کہ آپ جتنی زیادہ مقدار میں چیزیں خریدیں گے پرچوں کے بجائے تھوک وصولی کی جائے گی۔ اصولی طور پر ایک یونٹ سے ایک ہزار یونٹ تک بجلی کے استعمال کا ایک ہی ریٹ ہونا چاہئے۔ صارفین کا اعتماد بحال کرنا بجلی اور گیس کی تقسیم کار کمپنیوں کی پہلی ترجیح ہونی چاہئے۔لائن لاسز بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس پر قابو پانے کے لئے جامع حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ پاور کمپنیوں نے اپنے ملازمین کے لئے مفت بجلی کی سہولت فراہم کردی ہے۔ مفت بجلی کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے اور بیشتر ملازمین اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو بھی کنکشن دیتے ہیں۔یہ کمپنیاں اگر مفت بجلی دینے کے بجائے مقررہ یونٹ کی ملازمین کو نقد ادائیگی کریں اور تمام ملازمین سے بلاتحصیص بل وصول کریں تو پندرہ سے بیس فیصد بجلی کی بچت ہوسکتی ہے۔ حکومت اور بجلی پیدا کرنے والے کمپنیاں اپنے طور پر اصلاح احوال کے لئے کوششیں کررہی ہیں لیکن اس کے ثمرات صارفین تک نہیں پہنچ پاتے۔ عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لئے پالیسیوں پر نظر ثانی اور جامع حکمت عملی وضع کرنا ازحد ضروری ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔