تازہ ترین

وزیراعلیٰ محمود خان کا سکول کرکٹ چیمپئن شپ 2021 کے انعقاد کا فیصلہ۔

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے میں کھیلوں کے فروغ کیلئے ایک اور اہم قدم کے طور پر سکول کرکٹ چیمئین شپ کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔ خیبرپختونخوا سکول کرکٹ چیمپئن شپ 2021 قومی سطح پر کرکٹ کا سب سے بڑا ایونٹ ہو گا جس سے صوبہ بھر کے سکولوں کے 4000 کھلاڑیوں پر مشتمل 276 ٹیمیں حصہ لیں گی جس میں سکول کرکٹ چیمپئن شپ 2021کے انعقاد کے سلسلے میں ایک اجلاس وزیراعلیٰ محمود خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذیلی ادارے خیبر پختونخوا کرکٹ بورڈ اکے چیف ایگزیکٹیوبابر خان ، سیکرٹری سپورٹس عابد مجید، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس اسفندیار خان اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سکول کرکٹ چیمپئن شپ تین مرحلوں پر مشتمل ہوگا جو ایک مہینے میں اختتام پذیر ہوگا۔ پہلے مرحلے میں 510 میچز، دوسرے مرحلے میں 50 جبکہ تیسرے مرحلے میں 21 میچز کھیلے جائیں گے۔ اس کرکٹ چیمپئن شپ کا آغاز اگلے مہینے کی 7 تاریخ سے متوقع ہے۔ چیمپئن شپ کے لئے سکولوں اور گراو¿نڈز کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 16 اور 16 سال سے کم عمر طلبہ اس چیمپئن شپ میں حصہ لے سکتے ہیں۔چیمپئن شپ کے اختتام پر بیٹنگ ، باولنگ اور کیپنگ کے شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 20، 20 کھلاڑیوں کو مزید ٹریننگ کے لئے شارٹ لسٹ کیا جائے گا۔ ٹرائلز کے بعد ان 20 کھلاڑیوں میں سے منتخب دس کھلاڑیوں کی نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر لاہور میں کوچنگ کی جائے گی۔ ان منتخب کھلاڑیوں کو اپنی تعلیم جاری رکھنے اور کرکٹ کھیلنے کے لئے معاونت فراہم کی جائے گی۔سکول کرکٹ چیمپئن شپ پاکستان کرکٹ بورڈ، محکمہ اسپورٹس اور محکمہ تعلیم کے باہمی اشتراک سے منعقد کیا جائے گا۔ وزیر اعلی نے متعلقہ حکام کو سکول کرکٹ چیمپئن شپ کے کامیاب انعقاد کے لئے انتظامات کو بروقت حتمی شکل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کا فروع موجودہ حکومت کی ترجیحات کا اہم حصہ ہے ہاکی لیگ 2021 اور سکول کرکٹ چیمپئن شپ کا انعقاد ان کھیلوں کو دوبارہ سے فروغ دینے میں سنگ میل ثابت ہونگے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان سرگرمیوں کے انعقاد سے نچلی سطح کے ٹیلنٹ کو سامنے لانے میں مدد ملے گی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔