تازہ ترینمضامین

پس و پیش …محتاط سفارت  …اے۔ایم۔خان

جنوری 2018ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ ٹوئٹ  اُس وقت ایک سیاسی ہلچل مچا دی جسمیں اُس نے پاکستان کے کردار کے حوالے سے سوال اُٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ پندرہ سال سے امریکہ نے پاکستان کو 33بلین سے زیادہ ڈالر مہیا کی ہے لیکن اس نے ہمیں دھوکہ اور جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں دیا ، یہ سوچتے ہوئے کہ ہمارے رہنما بیوقوف ہیں۔

 گلوبل پالٹکس کے مطابق ریاستی اہلکار  قومی مفادات کے تحفظ پر مامور ہوتے ہیں۔ حکومت کی پالیسی اور سفارت کاری کا حاصل اس کی بین الاقوامی کردار اور حصول  ہوتی ہیں۔ حکومت آتے اور جاتے ہیں اور حالات کے مطابق حکومتی پالیسی وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی صدر بننے کے بعد افعانستان سے انخلاء کے حوالے سے حتمی فیصلہ لینا اور ساتھ پاکستان اور اس کے کردار کے حوالے سے پاکستانی حکومت کو ہمیشہ اڑے وقت اور حالات سے گزارنا اس کی حکومتی پالیسی رہی ۔  

اس سال اگست کے مہینے افعانستان میں طالبان کا حکومت  میں  آنے کے بعد دوبارہ امریکی کانگریس میں  پاکستان کا کردار دوبارہ زیربحث آگئی ہے۔ طالبان کا حکومت میں آنے سے پہلے اور آنے کے بعد جسمیں کئی ایک ممالک کے حوالے سے سوالات اُٹھا ئے جاتے ہیں جسمیں خصوصاً پاکستان کے کردار کے حوالے سے حکومت سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔ اس سے پہلے امریکی سیکرٹری خارجہ ایوان نمائندگان میں افعانستان میں پاکستان کے مختلف مفادات ، جسمیں بعض امریکی مفادات کے تضاد میں ہیں،  کا حوالہ دیتے ہوئے خارجہ امور کے کمیٹی  سے ایک ممبر کو جواب دیتے ہو ئے یہ کہا کہ واشنگٹن  پاکستان کے ساتھ تعلقات پر غور کررہا ہے اور اسے اب کیا کردار افعانستان میں ادا کرنا ہوگا؟

بدھ کے روز امریکی کانگریس کے ایوان بالا میں ایک بل  “افعانستان کاونٹر ٹریریزم ، اورسائٹ ، اینڈ  اکاونٹبیلٹی ایکٹ” ان خدشات میں مزید اضافہ کر دی جسمیں نہ صرف بائیڈن حکومت کا افعانستان سے جلد بازی میں واپسی کے فیصلے اور تباہی پر سینٹ میں ایک  وسیع رپورٹ کا مطالبہ ہوا ہےبلکہ گزشتہ 20 سال سے کس نے طالبان کی مدد اُس وقت کی جب وہ افعانستان پر قابض ہوئے اور پنجشیر کی وادی کو اپنے گھیرے میں لے آئے؟   اس کے علاوہ  یہ بھی اس بل کے مطابق وضاحت طلب ہے کہ کونسے ریاستی اور غیر ریاستی عناصر  ،جسمیں پاکستان بھی شامل ہے ،  سن 2001سے 2020ء تک طالبان کی مدد کیں؟

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ جو حالات افعانستان میں رونما ہوجاتے ہیں اُن کا خمیازہ پاکستان کو دوسرے ہمسایہ ممالک سے زیادہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی سطح پر بگھتنا پڑتا  ہے۔ افعانستان میں طالبان حکومت کو  اگر مدد مل نہیں جاتا تو بحران ناگزیر خیال کیا جاتا ہے جو ورلڈ ہیلتھ ارگنائزیشن کا صحت کا انتظام درہم برہم ہونے،  اور اقوام متحدہ کا انسانی اور معاشی بحران کا عندیہ پہلے سے دے چُکا ہے۔

 پاکستان کی طرف سے طالبان کی کامیابی اور حکومت بنانے پر  اسے تسلیم کرنے کے حوالے سے سیاسی اور سفارتی بیانیہ گلےپڑ چُکی ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک اس بیانیے کو دوسرے تناظر میں دیکھ رہے ہیں ۔  گزشتہ 20  سال تک افعانستان پر قابض رہ کر افعانستان کو اس طرح تباہی کے دہانے پر پہنچانے ، بدعنوانی اور اپنی سفارتی ناکامی پر غور کرنے کے بجائے امریکی حکومت دوسرے ممالک اور عناصر پر سارا ملبہ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے۔

پاکستان میں موجودہ حکومت کیلئے نہ صرف  معاشی حالات کے تناظر میں مشکلات درپیش ہیں جسمیں آئی۔ایم۔ ایف اور ایف۔اے۔ٹی۔ایف کے شرائط کو پورا کرنا ہے بلکہ افراط زر پر قابو کرنے کے ساتھ عوام کو ریلیف کی ضرورت اہمیت لے چُکی ہے۔ سفارت کاری ایک ہنر ہے ۔سفارتی لحاظ سے پاکستان کیلئے سفارتی اور بین الاقوامی سطح پر جو امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک میں پاکستان کے حوالے سے حالات بننے جارہے ہیں اس پر محتاط سفارتی کردار اہمیت کا حامل ہے تاکہ جو حالات بنتے دیکھائی دے رہے ہیں جس سے ملک میں معاشی مشکلات زیادہ ہونے ،  سفارتی اور بین الاقوامی سطح پر  تعلقات ناگفتہ بہ ہوسکتے ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔