تازہ ترینمضامین

چترال کے تعلیمی میدان کا ایدھی:…تحریر: اشتیاق احمد

ضلع چترال تعلیمی لحاظ سے اور اپنی بہتر خواندگی شرح کی وجہ سے صوبہ بھر کے اضلاع میں سے ایک نمایاں حیثیت کا حامل ضلع ہے اور یہاں کا %75 سے بھی زیادہ آبادی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہے اسی تعلیمی شرح کو دیکھ کر اس کو صوبے میں ہی نہیں پورے ملک کے باقی اضلاع میں بھی نمایاں پوزیشن دلوانے کے لئے ہدایت اللّٰہ نام کے ایک شخص نے” ROSE (Regional Organization For Supporting Education) نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کا قیام عمل میں لاتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ نام زباں زد عام ہو جاتا ہے۔

ہدایت اللّٰہ صاحب زمانہ طالب علمی سے ہی تعلیم کے ساتھ شغف رکھتے تھے اور طلبہ کے مسائل حل کرنے کیلئے پاکسان کے سب سے بڑے طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے، ناظم اسلامی جمعیت طلبہ چترال کے طور پر خدمات سر انجام دئے اور پھر تعلیم سے فراغت کے بعد شباب ملی(جس کو بعد میں جماعت اسلامی یوتھ ونگ ) کا نام دیا گیا کے ضلعی صدر رہے پھر جماعت اسلامی پاکستان کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست کا آغاز کیا اور مختلف ذمہ داریوں پہ فائز رہے جس میں جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی ضلع چترال قابل ذکر ہے ،( یہ وہ واحد شخص ہیں جن کی انتھک کوششوں کی بدولت الخدمت فائونڈیشن یہاں کے طلبہ کے مسائل کو بھانپتے ہوئے الخدمت یوتھ ہاسٹل کا قیام کرتے ہیں اور یہی ہدایت اللّٰہ سب سے پہلے اس کمپلیکس کے وارڈن مقرر کر دئے جاتے ہیں اس کا بھی سارا کریڈٹ ان ہی کے سر جاتا ہے)۔طالب علموں اور تعلیم کے ساتھ ان کی محبت کم نہ ہو سکی چونکہ چترال ایک پسماندہ ضلع ہعنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی میدان میں نامور سپوت پیدا کر چکی ہے اور اس میں مزید تیزی اور جدت پیدا کرنے اور غریب اور اہل طالب علموں کے مسائل حل کرنے کیلئے ROSE کو اتنا فعال کیا کہ پورے ملک میں اس کی گونج گونجنے لگی۔اس میں چترال کے نامی گرامی ایجو کیشنسٹس کو مدعو کرکے ان سے اپنا نقطہ نظر شیئر کرتے ہیں اور پھر اس کو مزید فعال بنا دیا جاتا ہے۔

“تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو؛؛ ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے اسے پھیر کے مصداق ہدایت صاحب نے طلبہ کے مسائل حل کرنے اور ان کو صرف اور صرف تعلیم سے وابستہ کرنے کا تہیہ کرکے پورے ملک کے تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہیں اور ان تعلیمی اداروں میں چترالی طلبہ کو داخل کرانے کا بار گراں اپنے نا تواں کندھوں پہ لئے جب ان اداروں کے سربراہاں سے ملاقات کرتے ہیں تودامے درمے قدم سخنے وہ ان کو خوش آمدید کہتے ہیں شروع شروع میں تو مسائل ان کو گھیر لیتے ہیں لیکن ” یقین محکم،عمل پیہم، محبت فاتح عالم “” جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں کا عملی جامہ بنتے ہوئے جہد مسلسل کو اپنی زندگی کا شیوہ بناتے ہیں، ثابت قدمی اور یقین محکم سے لیس آگے کی جانب بڑھتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سارے پرائیوٹ یونیورسٹیز جن میں داخلہ عام غریب طلبہ کے لئے مشکل ہی نہیں نا ممکن خواب ہوتا ہے وہ شرمندہ تعبیر ہو جاتا ہے اور پاکستان کے ٹاپ رینک کے یونیورسٹیز جن میں قابل ذکر(UMT,CECOS,ABASYN,QURTABA,SUPERIOR,PAC,RIPAH) ہیں ان کے ساتھ MOU,s پہ دستخط کرتے ہیں اور یوں چترالی طلبہ کے لئے ان کے در کھول دئے جاتے ہیں ۔

ہدایت صاحب شروع میں تواکیلے تھے لیکن ‘میں اکیلے ہی چلا تھا جانب منزل مگر : لوگ آتے گئے اور کاروان بنتا گیا کے مصداق آج ایک قافلے کے سالار بنے ہوئے ہیں۔آج پورے پاکستان کے پرائیوٹ تعلیمی ادارے جو چترال جیسے پسماندہ علاقے کے طالب علموں کو خوش آمدید بھی کہ رہے ہیں اور یہ سارا کریڈٹ بھی ہدایت صاحب کے ہی سر جاتا ہے کہ ان کے ساتھ مستقل رابطے میں رہے اور ان سے چترال کے طلبہ کے مسائل بیان کئے اور ان کو اس با ت پہ راضی کر لیا کہ وہ ان طلبہ کو اپنے اداروں میں داخلہ دلوا کر ان کو مزید علم کی روشنی سے مزین کریں ۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہدایت اللّٰہ صاحب کا نام سن کے یہاں کے سارے لوگ با آواز بلند ان کو اپنا مسیحا مانتے ہیں چاہے جن کا تعلق کسی بھی کمیونٹی اور کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے ہو ان کو سپورٹ کرتے ہیں اور ان کی سادگی خلوص، محنت اور لگن اور یہاں کے طلبہ کے مسائل کے حل کیلئے ان کی خدمات اور کاوشوں پر آنکھیں بند کرکے یقین کرتے ہیں اور بھر پور تعاون کرتے ہیں۔

ان کے ادارے “ROSE” چترال نے ابھی تک پانچ سو سے زائد طالب علموں کو پاکستان کے مختلف یونیورسٹیز میں داخلے دلوا چکی ہے اور کچھ نادار اور مالی مشکلات سے دوچار طالب علموں کے ہاسٹلز کے فیس تک ادا کر دی جاتی ہے ۔

ہدایت اللّٰہ صاحب نے اپنے اس تنظیم کا مقصد یہاں کے طالب علموں کو علم سے روشناس کرانے پر صرف کیا ہوا ہے اور اس سے مستفید ہونے والے طلبہ سے باقاعدہ تحریری طور پر لکھوا کر لیتے ہیں کہ وہ طالب علم عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد اپنے جیسے ایک طلب علم کے تعلیم کاخرچہ اپنے ذمہ لے لیتا ہے چونکہ یہ طالب علم قابل اور اچھے کیرئیر کے متحمل ہوتے ہیں جو ان کے لئے چنداں مشکل نہیں ہوتا اور اسی طرح یہ مشن آگے نسل تک منتقل ہو رہی ہے۔

ابھی تک اس ادارے سے مستفید طلبہ جن میں پی ایچ ڈیز ،ایم فل، ایم۔ایس سی، ایم اے،ایم ایڈ، ایم بی اے، بی بی اے ، ایم بی۔بی۔ایس، بی۔ایس سی۔انجینئرنگ اور دیگر شعبوں میں ایک سو اسی ایسے طالب علم ہیں جو علم حاصل کر رہے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اس سے استفادے کے بعد عملی میدان میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور اپنے علاقے اور ملک کی خدمت کے علاوہ اس تنظیم کے لئے بھی نیک نامی کا باعث بن رہے ہیں۔

چونکہ یہ ایک غیر سرکاری ادارہ ہے یہ مخیر حضرات کے تعاون جس میں بہت سے اہل علم اور اہل ثروت مردو خواتین اور ادارے شامل ہیں جو اس نیکی کے کام میں ان کے دست بازو بنے ہوئے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اہم اور نیک مشن میں نادار اور اہل طالب علموں کی مالی مدد کی جائے اور ان کو اس معاشرے کا اہم شہری بنانے کے لئے اور ان کی کیرِیئیر کونسلنگ کے ساتھ ساتھ کردار سازی پہ توجہ دے کر ان کو اعلٰی تعلیم کر زیور سے اراستہ کیا جا سکے اور پاکستان میں بھی غربت کے خاتمے اور تدارک اور پاکستان کو تعلیم کے شعبے میں ان ممالک کے صفوں میں لانے کے لئے ہمبسب کو ہداہت اللّٰہ بن کے کام کرنا پڑے گا اور انشاء اللّٰہ وہ وقت دور نہیں جب ان کا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے گا۔۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔