تازہ ترین

وزیراعلی محمود خان کی خصوصی ہدایات پر صوبہ بھر میں محکمہ اوقاف کی جائیدادوں پر تجاوزات کے خاتمے کے لئے بڑے پیمانے پر آپریشن کا سلسلہ شروع

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں صوبہ بھر میں محکمہ اوقاف کی جائیدادوں پر تجاوزات کے خاتمے کے لئے بڑے پیمانے پر آپریشن کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور گزشتہ ایک مہینے کے دوراں صوبے کے مختلف اضلاع میں مجموعی طور پر تقریبا چار ہزار کنال زمین واگزار کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ان تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران ضلع مردان میں 331 کنال، بنوں میں 2166 کنال، ڈی آئی خان میں 1460 کنال ، کوہاٹ میں 15 کنال جبکہ پشاور میں چھ کنال زمینیں واگزار کی گئیں ہیں۔ اسی طرح ضلع مانسہرہ، چارسدہ اور صوابی سمیت دیگر اضلاع میں بھی بڑے پیمانے پر اوقاف کی جائیدادوں پر تجاوزات کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے خلاف عنقریب آپریشن کیا آغاز کیا جائے گا۔
یہ بات گزشتہ روز وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر محکمہ اوقاف کی کارکردگی کا جائزہ اور محکمے میں متعارف کئے جانے والے اصلاحات پر پیشرفت کا جائزہ لینے منعقدہ ایک اجلاس میں بتائی گئی۔ وزیر اعلی کے معاون خصوصی برائے اوقاف ظہور شاکر، سیکرٹری اوقاف عمر خیام اور وزیر اعلی کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان کے علاوہ محکمہ خزانہ اور منصوبہ بندی کے متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بتایا گیا کہ محکمہ اوقاف کی جائیدادوں پر سب سے زیادہ تجاوزات ضلع مردان میں پائی گئی ہیں اور ان تجاوزات کے خاتمے کے لئے ضلعی انتظامیہ کی مدد سے آپریشن کا عمل جاری ہے۔ وزیر اعلی نے مردان میں محکمہ اوقاف کی جائیدادوں پر غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے کے لئے ایک مہینے کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ معاملے پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے ایک مہینے بعد دوبارہ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ اسی طرح وزیر اعلی نے محکمہ اوقاف کی وصولیوں کے عمل میں سو فیصد شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے جملہ امور کو ڈیجیٹائز کرنے کے لئے دو مہینے کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے محکمہ اوقاف کے حکام کو ڈیجیٹلائزیشن کا عمل دو مہینوں میں ہر لحاظ سے یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو بتا گیا کہ صوبے میں اوقاف کی جائیدادوں کو مارکیٹ ریٹس کے حساب سے لیز پر دینے کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جارہا ہے اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کی تکنیکی معاونت سے اوقاف کی جائیدادوں کی مارکیٹ ریٹ کے حساب سے کرایہ اور لیز کی رقم متعین کرنے پر کام جاری ہے۔ اجلاس میں محکمہ اوقاف کی زرعی زمینوں کو لیز پر دینے کے سلسلے میں کسی ایک شخص کو لیز پر دی جانے والی زمین کا رقبہ زیادہ سے زیادہ 50 کنال مقرر کرنے کا اصولی فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو معاملہ حتمی منظوری کے لئے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔
بشمول ضم اضلاع صوبے کے آئمہ مساجد کو اعزازیہ کی فراہمی پر پیشرفت کے حوالے سے بتایا گیا کہ صوبہ بھر سے 21493 آئمہ مساجد اور 293 اقلیتی مذہبی رہنماؤں کا ڈیٹا اکھٹا کیا گیا ہے، ان اعزازیوں کی ادائیگی کے لئے فنڈز اضلاع کو ٹرانسفر کئے گئے ہیں اور عنقریب سہ ماہی بنیادوں پر ان اعزازیوں کی ادائیگی کی جائے گی۔ مزید بتایا گیا کہ وزیر اعلی کے احکامات کی روشنی میں بندوبستی اضلاع کے رجسٹرڈ دینی مدارس کے طلبہ کو سکالرشپس کی فراہمی کے لئے 500 ملین روپے جبکہ ضم اضلاع کے لئے 250 ملین روپے کی اسکیم صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے جبکہ منصوبے کا پی سی ون منظوری کے لئے متعلقہ فورم کو ارسال کردیا گیا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔