تازہ ترینمضامین

نرسز کی یکجہتی, لیڈرز کی محنت, نرسز کے نومینکلیچر بن گئے جلد ہی پروموشن شروع ہونگے۔۔۔ ناصر علی شاہ

بدلتی دنیا کیساتھ خود کو بدلنے کا جذبہ ہی انسان کی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے پوری دنیا میں علاج و معالج کا طریقہ کار تبدیل ہورہا ہے, بے انتہا اسانیاں پیدا ہوچکی ہیں تو ایسے میں علاج مہیا کرنے والوں کی تبدیلی معنی رکھتا ہے پیشے کو آگے لیجانے کی تبدیلی کو سامنے رکھتے ہوئے پروینشل نرسز ایسوسیشن خیبر پختنخواہ نرسنگ لیڈرشپ نے پیشے کے اندر تبدیلی پیدا کرنے کی غرض سے حکومت کے سامنے سفارشات رکھے تھے جس کے بعد 2018 میں جلسہ کیا گیا تھا مطالبات منظور کا لولی پاپ دیکر واپس کیا گیا تھا جس کا کچھ وقت بعد احساس ہوا, اس کی وجوہات نرسز کا نرسز کے مخالف کھڑا ہونا تھا مگر کسی صورت ہار قبول نہیں تھا اس لئے 2021 میں ینگ نرسز اور پروینشل نرسز ایسوسیشنز کے عہدیداروں کی میٹنگ کال کرکے الائنس بنایا گیا جس کو خیبر پختنخواہ نرسز الائنس کا نام دیکر جدوجہد کا آغاز کیا گیا ان میں چیرمیں فضل مولا, صدر عنایت الحق جنرل سیکڑی سجاد حسین,وائس پریذیڈنٹ جاوید اقبال, وائس چیرمیں شائستہ جدون ترجمان ناصرعلی شاہ, فائننس عبدالوہاب جبکہ ڈویژن وائز بھی زمہداریاں سونپی گئی پھر حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتیں ہوئی نتیجہ صفر.
ان تمام صورتحال کے بعد بھرپور احتجاج کا فیصلہ ہوا اور تمام ڈسٹرکٹ سے نرسز کو لیکر پوری قوت کیساتھ مظاہرہ اور دو دن دھرنے دینے کے بعد حکومت ہوش میں ائی اور ہمارے آٹھ مطالبات تسلیم ہوئے.ہمارے دو مطالبات پہلے ہی تسلیم کرکے کام ہورہا ہے اب تیسرا مطالبہ بھی ہوگیا جو تمام نرسز اور نرسنگ پیشے کی تبدیلی کی جانب اہم قدم ہے..
نام کے بے غیر پروموشن ممکن نہیں تھا جن لوگوں نے رولز کے اوپر کام کئے ان کا ذکر الگ کرونگا مگر اب یہاں یہ اضافہ کرتا چلوں کہ تحریک کے دوراں مشکل موڑ آئے تھے مگر ہم لوگوں نے کسی بھی سٹاف کو محسوس نہ ہونے دی کہ ہم کس قدر مشکل سے دوچار ہیں اور ہمیں کیسے پریشرائز کیا جارہا ہے بہرحال جو ہوا اچھا ہوا اور ہمارے مطالبات تسلیم ہوئے اور کمیونٹی کے سامنے سرخرو ہوئے.
مطالبات تسلیم ہونے کے بعد دفاتر کا چکر ایک الگ کہانی ہے جسمیں زیادہ تر وقت چیرمیں فضل مولا نے دی گرمی دھوپ کی پرواہ کئے بغیر ہر دفتر پہنچنا, لیٹ ہونے پر برہمی اور کہی پہ گزارش کرکے کام کو آگے بڑھاتے گئے اس دوراں فرید اللہ ڈپٹی ڈائیریکٹر نرسنگ کی گزارش کی گئی اور وہ آنے کے بعد شاندار انداز میں کام کرکے رولز آگے بڑھانے میں مدد کی اور یوں محنت کا صلہ مل گیا اور آج ان تمام لوگوں کی وجہ کمیونٹی میں خوشی کی لہر ہے..
نوٹ. ڈسٹرکٹ کے پریذیڈنٹ صاحبان و صاحبات جس شاندار انداز میں سینٹرل کیبنٹ کو مضبوط کئے اس کی مثال نہیں ملتی اور ایم ٹی ائی ہسپتال ایل آر ایچ, پی ائی سی کے نرسز نے احتجاج کو کامیاب بنانے میں جو کردار ادا کئے قابل تعریف ہے حالانکہ ان کے نکلنے پر پابندی بھی لگائے گئے تھے.

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔