تازہ ترینمضامین

اصلاحات کیساتھ قانون سازی بھی کریں….محمد شریف شکیب

2005کے ہولناک زلزلے سے خیبرپختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں اسکولوں کی عدم تعمیر پر ازخود نوٹس کی سماعت کی کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں کرپشن اتنی زیادہ ہے کہ عوام کو کچھ ڈلیور نہیں ہو سکتا،عدالت عظمیٰ نے ایرا کی رپورٹ کوآنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسکول اب بن رہے ہیں 16 سال بچے کیا کرتے رہے؟ کتنے بچے اسکول نہ ہونے کی وجہ سے حصول تعلیم سے محروم ہوگئے جیسی عمارتیں بن رہی ہیں وہ تو چھ ماہ میں گر جائیں گی، بچوں اور اساتذہ کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ سپریم کورٹ نے ایرا کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے کر مسترد کردی۔ عدالت عظمی نے ایرا سے مکمل کیے گئے تمام منصوبوں کی تفصیلات تصویری شواہد سمیت طلب کرلیے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ زلزلہ متاثرین کی مدد تو قوم نے کی تھی، کراچی سے بھی لوگ متاثرین کی امداد کے لئے پہنچ گئے تھے، لوگوں نے تو حج کا پیسہ بھی زلزلہ متاثرین کو دے دیا تھا، ایرا نے کیا کیا؟ بین الاقوامی امداد بھی آئی، لوگوں نے بھی پیسہ دیا اور حکومت نے بھی فنڈ قائم کیا، متاثرہ علاقوں میں تو مثالی ترقی ہونی چاہیے تھی، عدالت میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ دہشت گرد ٹھیکیداروں سے بھتہ مانگ رہے ہیں اور دھمکیاں دے رہے ہیں، کئی ٹھیکیدار بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں کام چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔سرکاری اداروں میں رشوت ستانی وکرپشن اور ترقیاتی منصوبوں میں کمیشن کا خاتمہ تحریک انصاف کا انتخابی منشور تھا اور مروجہ کرپٹ نظام سے دلبرداشتہ عوام نے بدعنوانی ختم کرنے کی امید پر پی ٹی آئی کو صوبے میں دو مرتبہ بھاری مینڈیٹ دیا تھا۔صوبائی حکومت نے مختلف شعبوں میں عوامی فلاح و بہبود کے بہت اچھے کام کئے ہیں خصوصاً صحت کے شعبے میں غیر معمولی تبدیلیاں آئی ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت اب پہلے سے بہت بہتر ہے۔ صحت انصاف کارڈ سے صوبے کے غریب لوگ مہنگائی کے اس دور میں دس لاکھ روپے سالانہ تک مفت علاج کروا سکتے ہیں۔ گھوسٹ سکولوں کا خاتمہ کردیا گیا۔ سرکاری ملازمین بائیو میٹرک حاضری سسٹم کے ذریعے ڈیوٹی دینے پر آمادہ کیاگیا۔ماحولیاتی آلودگی میں کمی کے لئے بلین ٹری سونامی منصوبے کی عالمی سطح پر بھی پذیرائی ہورہی ہے۔ سیاحت اور معدنیات کے شعبے میں بھی کافی اچھا کام ہورہا ہے۔ تاہم سرکاری اداروں میں کرپشن کم کرنے میں حکومت کو اب تک کامیابی نہ مل سکی۔ آج بھی سرکاری محکموں میں رشوت دیئے بغیر کام نہیں ہوتا۔ آج بھی سرکاری محکموں کے اہلکار ترقیاتی منصوبوں پرکمیشن لیتے ہیں۔ آج بھی منتخب نمائندے سرکاری نوکریاں اپنے کارندوں کی وساطت سے بیچ رہے ہیں۔آج بھی پولیس اہلکار کھلے عام رشوت لیتے ہیں۔ تھانے آج بھی عقوبت خانے بنے ہوئے ہیں۔کوئی شریف شہری تھانوں کے سامنے سے گذرنے سے بھی ہچکچاتا ہے۔ سرکاری سطح پر کرپشن کی وجہ سے تبدیلی کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ پارہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سات عشروں میں کرپشن کا جو نظام پنپتا رہا اسے چند سالوں میں ختم نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اصلاحات کا عمل اگر موجودہ رفتار سے ہی جاری رہا تو اصلاح احوال میں مزید نصف صدی لگ سکتی ہے۔ کرپشن، رشوت ستانی، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، قبضہ گیری اور دیگر معاشرتی جرائم کو سخت ترین قوانین کے نفاذ کے ذریعے ہی قابو کیا جاسکتا ہے صوبائی حکومت کو تبدیلی کے ثمرات عوام تک پہنچانے اور اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لئے موثر قانون سازی پر توجہ دینی ہوگی۔ عدالت عظمیٰ
نے نظام میں جن خامیوں کی نشاندہی کی ہے اس کے تدارک کے لئے فوری، نتیجہ خیز اور نظر آنے والے اقدامات کرنے ہوں گے۔ یہی عوامی مینڈیٹ کا تقاضا اور موجودہ وقت کی بنیادی ضرورت ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔