تازہ ترین

بیوٹی فی کیشن فنڈز کی تقسم میں لٹکوہ وادی کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کسی صورت قبول نہیں، عمائدین لٹکوہ

گرم چشمہ(نمائندہ چترال ایکسپریس) لٹکوہ ڈیویلپمنٹ فورم کے زیر انتظام گرم چشمہ میں ایک ہنگامی اجلاس کا انعقادکیا گیا جس میں علاقے کے عمائدین اور ایل ڈی ایف کے ممبران نے شرکت کی۔ ہنگامی میٹنگ میں ضلع لوئر چترال کو بیوٹی فی کیشن فنڈکی مد میں ملنے والی رقم اور اس کی غیر منصفانہ تقسیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ مذکورہ فنڈزکے سلسلے میں  ہونے والے ٹینڈر کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ اجلاس سے بات کرتے ہوئے ایل ڈی ایف کے چیئرمین قیمت خان نے کہا کہ لٹکوہ  کے ساتھ ہمیشہ سے سوتیلی ماں کا سلوک ہوتا رہا ہے ہماری آواز ذمہ داروں تک پہنچانے اور حق کے لئے آواز اٹھانے کے لئے لٹکوہ کے پاس ہمیشہ سے لیڈرشپ کی کمی رہی ہے جس کی وجہ سے ہمارے حقوق پر ہمیشہ قبضہ ہوتا رہا ہے مگر اب ہم کسی صورت یہ ناانصافی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ہم اپنے حق کے لئے ہر ذمہ دار کے دروازے تک جانے کو تیار ہیں۔ صدر ایل ڈی ایف نصرت الہی نے کہا کہ بیوٹی فی کیشن کے فنڈز کی تقسیم کا طریقہ کار ہماری سمجھ سے بالاتر ہے حالانکہ یہ فنڈز سیاحتی مقامات کی تزائیں آرائش کے لئے ہے مگر لوئر چترال میں اس کا استعمال کسی بھی صورت حکومت کے اس موقف کی تائید نہیں کرتا۔ لٹکوہ وادی صرف گرم چشمہ پر مشتمل نہیں ہے آرکاری اور کریم آباد دو گنجان آباد اور سیاحتی مقامات بھی لٹکوہ کا حصہ ہیں کریم آباد کا مشہد اور آرکاری کا اکرام دو بہترین سیاحتی علاقے ہیں مگر روڈ کی حالت انتہائی ناگفتہ بہہ ہونے کی وجہ سے ان علاقوں تک سیاح پہنچنے سے قاصر ہیں۔ حکومت اگر سیاحت کو فروغ دینے میں واقعی دلچسپی رکھتی ہے تو گرم چشمہ کے ساتھ کریم آباد اور آرکاری وادی کے سیاحتی مقامات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک بہترین موقع ہے کہ لٹکوہ کے تمام علاقوں پر مذکورہ بیوٹی فی کیشن فنڈ استعمال کرکے ان علاقوں تک پہنچنے کو سیاحوں کے لئے آسان بنایا جائے۔ نظار شاہ نے اجلاس سے اپنے خطاب میں کہا کہ گرم چشمہ کا واحد پولو گراؤنڈ گزشتہ چھ سال سے کھنڈرات کا منظر پیش کررہا ہے یہ نہ صرف پولو گراؤنڈ ہے بلکہ پورے علاقے کے بچے یہاں آکر فٹ بال اور کرکٹ بھی کھیلا کرتے ہیں۔ ایل ڈی ایف کے ممبران اس گراؤنڈ کی بحالی کے لئے ہر دروازے تک جا چکے ہیں اور کوششیں اب بھی جاری ہیں کیا بیوٹی فی کیشن فنڈ کی مد میں ملنے والی رقم غیر ضروری جگہوں پر لگانے کے بجائے اس گراؤنڈ پر لگانا مناسب نہیں ہے۔ تاکہ انتظامیہ کی طرف سے پیدا کردہ پولو گراؤنڈ کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہوجائے۔

میٹنگ میں موجود علاقے کے عمائدیں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہم اپنی بات انتظامیہ تک پہنچانے کے لئے ہر ممکن ذرائع استعمال کریں گے۔ اگر یہ ٹینڈر منسوخ نہیں ہوئے تو علاقے کے عوام ڈی سی آفس کے سامنے غیر معینہ مدت کے لئے دھرنا دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ہمیں علاقہ لٹکوہ کے ساتھ یہ ناانصافی کسی صورت قبول نہی

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔