تازہ ترین

کسی کو غیر معیاری اور ذائدالمیعاد اشیا فروخت کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی ۔اے ڈی کنزیومر پروٹیکشن اینڈ انڈسٹریز چترال عرفان عزیز

چترال ( محکم الدین)اسسٹنٹ ڈائریکٹر کنزیومر پروٹیکشن اینڈ انڈسٹریز چترال عرفان عزیزنے کہا ہے ۔ کہ انسانی جان سب سے قیمتی ہے ۔ اس لئےکسی کو غیر معیاری اور ذائدالمیعاد اشیا فروخت کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی ۔کیونکہ ایسی اشیاءکے استعمال سے انسانی جانوں کو نقصان پہنچنےکاخد شہ ہے اور ایسے گھناونے کاروبار کرنے والے افراد کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی اور رو رعایت نہیں رکھی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز اپنے آفس میں میڈیا سے بات کرتےہوئےکیا انہوں نے کہا کہ ہمارا عزم ہے۔ کہ ہم چترال کے لوگوں کو معیاری اور صحت مند اشیاءخوردو نوش اور اشیاء صرف مہیا کریں ۔ اس لئےبازاروں کی مسلسل چیکنگ کی جاتی ہے ۔ غیر معیاری خوراک کی اشیاءاور دیگر ضرورت کی اشیاءپر کڑی نظر رکھی جاتی ہے اور خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں کی سامان کی ضبطگی کے ساتھ بھاری جرمانے کئے جاتےہیں ۔ تاکہ وہ راہ راست پر آ کر آیندہ کیلئے عوام کے جانوں سے نہ کھیلیں ۔ انہوں نے اپنے آفس میں ضبط شدہ بچوں کے بسکٹ ، کیک ، مصالحہ جات ، چپس اور کاسمیٹکس کے سامان وغیرہ صحافیوں کو دیکھاتے ہوئے کہا کہ ایکسپائری تاریخ گزرے چھ مہینے ہو گئے ہیں ۔ لیکن دکاندار اب بھی یہ چیزیں فروخت کررہےہیں ۔ ان لوگوں کے خلاف کاروائی نہ کریں ۔ تو کیا کریں۔ جو بار بار ہدایات کے باوجود لوگوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہم کسی کے قانونی اور صاف کاروبارکےبالکل مخالف نہیں ہیں ۔ بلکہ ہماری کوشش ہے ۔ کہ گران فروشی ، ناجائز منافع خوری ، غیر معیاری اور ذائدالمیعاد جیسے نقائص سے پاک اچھے ، صاف ستھرے کاروبارکرنے والوں کو فروغ مل سکے ۔ انہوں نے کہا کہ چترال بازار کی موجودہ کابینہ ناقص اشیاء فروخت کرنے والے دکانداروں کے خلاف کاروائی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے ۔ اور روز نئے نئے عہدہ داروں کی ایک قطار آفس کا چکر لگاکر کام میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ انہوں نےکہا ۔ کہ ہم اخلاقی طور پر تجار یونین کے عہدہ داروں کی قدر ضرور کریں گے ۔ لیکن کسی کی غلط بات اور سفارش بالکل نہیں مانیں گے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔