تازہ ترین

جلد از جلد بائیفرکیشن کا مسئلہ آئین اور رولز کے مطابق حل کیا جائے۔آل گورنمنٹ ایمپلائیز گرینڈ الائنس چترال لوئر

چترال (چترال ایکسپریس)آل گورنمنٹ ایمپلائیز گرینڈ الائنس اگیگا ضلع چترال لوئرکے عہدیداران کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کے بعد  ایک بیان میں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا  کہ 2018 میں چترال کو دو ضلعوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ قانون کے مطابق دونوں اضلاع کے تمام ڈسٹرکٹ کیڈر کے ملازمین کو ڈومیسائل کی بنیاد پر بائیفرکیٹ کرنا لازمی تھا۔ محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت کے علاوہ باقی تمام محکموں میں یہ عمل مکمل ہو چکا ہے لیکن ان دو محکموں نے اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ جس کی وجہ سے محکمہ تعلیم کے ملازمین کی سنیارٹی بری طرح متاثر ہوئی۔ حالانکہ 2020 میں اس وقت کے ڈپٹی کمشںنر نوید احمد نے تمام محکموں کو 1973 کے سروس رولز کے مطابق بائیفرکیشن کا حکم جاری کیا تھا۔ ان کے بعد موجودہ ڈپٹی کمشنر حسن عابد  نے بھی تمام قانونی اور زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام محکموں کے سربراہان کو رولز کے مطابق اپنے ماتحت تمام ڈسٹرکٹ کیڈر کے ملازمین کو فورًا بائیفرکیٹ کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ جس پر مذکورہ بالا دونوں محکموں میں کام جاری ہے۔ در حقیقت اس عمل کو رکوانے کے لیے ہی اپر چترال کے چند ملازمین جن کی اکثریت کا تعلق صوبائی کیڈر سے ہے انہوں نے منفی پروپیگنڈا کرکے پہاڑ سر پر اٹھا رکھا ہے۔ مختلف پریس کانفرنس اور پریس ریلیز کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس سے فضا مکدر ہوگی اور دونوں اضلاع کے لوگوں میں نفرت بڑھے گی۔ حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ کیونکہ یہی چند عناصر غیر قانونی طور پر دونوں اضلاع کے حقوق غصب کررہے ہیں۔ کیونکہ ایک بندہ بیک وقت خود کو دونوں اضلاع کا باشندہ قرار دے کر دونوں اضلاع سے ذاتی مفادات حاصل کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے محکمہ تعلیم ضلع چترال لوئر کے ملازمین کی سنیارٹی متاثر اور پروموشن رک چکی ہے۔جو کہ سراسر ظلم اور نا انصافی ہے۔ مزید یکہ لوئر چترال کے ملازمین کی طرف سے عین آئینی اور قانونی بات کہنے پر بھی سیخ پا ہوکر نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں اور ذات، قوم، قبیلہ اور علاقائیت کا رنگ دے کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جس کا کوئی اخلاقی، قانونی اور شرعی جواز نہیں بنتا۔

یاد رہے کہ اس بائیفرکیشن کے حوالے سے کسی بھی سیاسی جماعت یا محکمے کو لاعلم نہیں رکھا گیا ہے۔ ورنہ سابق ڈپٹی کمشنر نوید احمد  اور موجودہ ڈپٹی کمشنر حسن عابد نے تمام آئینی اور قانونی دفعات کا حوالہ دے کر تمام محکموں کو بائیفرکیشن کا حکم کیوں جاری کیا؟ یہ افواہ سراسر بدنیتی پر مبنی ہے۔ اس میں اپر چترال کے ان چند ملازمین کا ذاتی مفاد ہی ہوسکتا ہے۔ ہم ان چند مفاد پرست ملازمین کی خاطر کسی قانونی عمل کو روکنے اور اپنی مرضی کا فیصلہ مسلط کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

جہاں تک اگیگا پر پابندی لگانے کی بات کی گئی ہے، اگیگا میں شامل تمام عہدیداران با ضابطہ طور پر اپنے اپنے کیڈر کے ملازمین سے اعتماد کا ووٹ لے کر ہی منتخب ہوئے ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہ نمائندے ملک کے آئین اور قانون کے مطابق ملازمین کے حقوق کے تحفظ کیلیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

رہی بات ان ملازمین کی جو اگیگا ضلع چترال لوئر پر پابندی لگانے کی بات کر رہے ہیں وہ پہلے اپنی پوزیشن واضح کریں کہ آیا وہ اپر چترال کے ملازمین کے نمائندے ہیں یا لوئر چترال کے۔ یا صرف انتشار پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔

وہ ملازمین جن کی تعیناتی، پروموشن اور سینیارٹی ڈویژن یا صوبائی سطح پر ہوتی ہے وہ بالکل چترال لوئر میں ڈیوٹی دے سکتے ہیں۔ ان کا اگیگا کے خلاف بیان دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کے پیچھے کون سے محرکات کار فرما ہیں، ان کا پتا لگانا متعلقہ محکموں کی ذمہ داری ہے۔

مندرجہ بالا حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اگیگا ضلع چترال لوئر مطالبہ کرتی ہے کہ جتنا ممکن ہو سکےجلد از جلد بائیفرکیشن کا مسلہ آئین اور رولز کے مطابق حل کیا جائے۔

اجلاس سے صدر اگیگا امیر الملک، جنرل سیکرٹری اگیگا ضیاءالرحمان، صدر پیرامیڈکس ایسوسی ایشن ڈی ایچ او جمال الدین، صدر آل ٹیچرز ایسوسی ایشن نثار احمد، صدر پیرامیڈکس ایسوسی ایشن ڈی ایچ کیووقار احمد، صدر کلاس فور ہیلتھ محمد الیاس، صدر وی سی سیکرٹریز آفتاب عالم، صدر پیپلز ٹیچرز فورم محمد موسی، صدر انصاف ٹیچرز ایسوسی ایشن عبدالغنی، صدر وحدت اساتذہ مفتی سعیدالحق، جنرل سیکرٹری SST ویلفیر ایسوسی ایشن امتیازالدین، جنرل سیکرٹری کلاس فور محکمہ تعلیم ضیاءالرحمان، سینئر نائب صدر آل پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن حسن بصری، سرپرست اعلی آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن چترال سمندر خان، صدر لیبر یونئین سی اینڈ ڈبلیو شکیل احمد و دیگر مقررین نے خطاب کیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔