تازہ ترین

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنے پارٹی کے ڈیکلئر چوروں کو پناہ دے رہا ہے۔ایم۔این۔اے عبدالاکبرچترالی

چترال ( محکم الدین ) ممبر قومی اسمبلی چترال مولانا عبد الاکبر چترالی نے کہا ہے ۔کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنے پارٹی کے ڈیکلئر چوروں کو پناہ دے رہا ہے۔لیکن اپوزیشن کے جن لوگوں پر الزام ہے۔ ان کو قیدو بند کی سزائیں دی جارہی ہیں۔ منگل کے روز چترال پریس کلب میں امیر جماعت اسلامی چترال اخونزادہ رحمت اللہ و دیگر رہنماوں کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان تحریک انصاف چترال کے رہنما عبداللطیف پر شدید تنقید کرتےہوئےکہا۔ کہ مذکورہ شخص چترال کے علماء کے خلاف دشنام طرازی اور زہر افشائی پرتلا ہوا ہے ۔ یونین کونسل الیکشن جیتنے کی اہلیت نہیں ہے ۔ سرکاری سطح پر جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کامجرم ٹھہر چکا ہے۔ 68لاکھ روپےجرمانےکی سزا ملی ہے ۔ اس کے باوجود پی ٹی آئی کے پردےمیں چہرہ چھپا کر حالات کو مکدر بنا نے کی کوشش کر رہا ہے ۔ خد نخواستہ فضااگر خراب ہوا ۔ تو حالات کی تمام تر ذمہ داری عبد اللطیف پر ہوگی۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جنگلات کو تباہ کرنے والے اس مجرم کو چھ کروڑ روپے جرمانہ کی بجائے کمیشن کی طرف سے صرف 68 لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا تعین کرنا سوالیہ نشان اور افسوسناک ہے ۔ جبکہ حکومت جنگلات کی افزائش کیلئے بلین ٹری سونامی کے تحت اربوں روپے شجر کاری پر خرچ کر رہی ہے ۔ مولانا عبد الاکبرنے اس موقع پرچترال کے سڑکوں کے بارےمیں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا۔ کہ میری جدو جہد کےنتیجےمیں کلکٹک سے چترال شہر تک مین روڈ کی دوبارہ بلیک ٹاپنگ کیلئے 30کروڑ روپےمنظور ہوئےہیں ۔ جس سے سڑک کی حالت بہت بہتر ہو جائے گی ۔ انہوں نے بونی بوزوند روڈ کےکام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ۔ کہ 12 کروڑ پہلے ریلیز ہو چکے ہیں ۔ 12 کروڑ 90لاکھ اب ریلیز کئے جائیں گے ۔ پل کی تعمیر کا کام بھی تیزی سےجاری ہے۔ تاکہ سردیوں کی آمد سے پہلے سیمنٹ کا کام مکمل ہو سکے ۔ مولانا چترالی نے چترال میں 17 موبائل ٹاورز کی تنصیب کو بھی ایک اہم کام قرار دیتے ہوئے کہا ۔ کہ 3جی اور 4جی کے ٹاورز لگنے کے بعد عوام کو معلومات اور رابطہ کاری میں مزید سہولتیں دستیاب ہوں گی ۔ مولانا چترالی نے اپر چترال ڈسٹرکٹ میں بعض محکمہ جات کے اسامیوں میں غیر مقامی افراد کی بھرتیوں کی شدید مذمت کی اور کہا۔ کہ فوری طور پر مذکورہ اپوائنٹمنٹ شدہ افراد کی بھرتیوں کو منسوخ کرکے مقامی افراد کو متعین کیا جائے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔