تازہ ترین

وزیراعلی محمود خان کے زیر صدارت خیبرپختونخوا ہائی ویز کونسل کا بیسواں اجلاس

پشاور(چترال ایکسپریس)خیبرپختونخوا ہائی ویز کونسل کا بیسواں اجلاس منگل کے روز وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مالی سال 2021-22 کیلئے خیبرپختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کے سالانہ مینٹینینس پلان کی مشروط منظوری دی گئی اور پی کے ایچ اے حکام کوہدایت کی گئی کہ گزشتہ مالی سال کے دوران مینٹینینس پلان کے تحت مختص فنڈز اور کاموں کی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے ۔ مینٹننس پلان پر 1672 ملین روپے لاگت آئے گی جس میں سے 1200 ملین روپے صوبائی حکومت جبکہ 472 ملین روپے پی کے ایچ اے اپنے وسائل سے فراہم کرے گا۔ سالانہ مینٹننس پلان کے تحت صوبہ بھرمیں تقریباًتین ہزار کلومیٹر لمبی سڑکوں اور شاہراہوں کی دیکھ بھال کی جائے گی جس میں ان سڑکوں کی ضروری مرمت ، سیلاب سے متاثرہ سڑکوں کی بحالی، نئے ٹول پلازوں کی تعمیر، پی کے ایچ اے کیلئے فیلڈ آفس کی تعمیر و مرمت اور دیگر کام شامل ہیں۔ اجلاس میں مالی سال 2021-22 کیلئے پی کے ایچ اے کے مجوزہ بجٹ پر تفصیلی غور و خوض کے بعد اسے حتمی منظوری کیلئے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی بھی منظوری دے دی گئی ۔ صوبائی کابینہ اراکین اشتیاق ارمڑاور ریاض خان کے علاوہ سیکرٹری مواصلات اعجاز حسین انصاری، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، ایم ڈی پی کے ایچ اے اور کونسل کے دیگر ممبران نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلا س میں صوبائی حکومت کے دیگر خود مختار اداروں کے طرز پر پی کے ایچ اے کے سالانہ بجٹ کی منظوری کا اختیار ہائی ویزکونسل کو دینے کیلئے پی کے ایچ اے ایکٹ میں ضروری ترامیم کرنے کا اُصولی فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ترامیم کا مسودہ صوبائی کابینہ کے اگلے اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ۔ اجلا س میں پی کے ایچ اے کے زیر انتظام شاہراہوں پر مال بردار گاڑیوں کی اوور لوڈنگ کی روک تھام کیلئے موثر حکمت عملی تربیت دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ محکموں اور اداروں کو مل بیٹھ کر ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دے کر منظوری کیلئے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ۔ علاوہ ازیں کونسل نے صوبے کے چار مختلف مقامات پر سڑکوں کو پی کے ایچ اے کی تحویل میں دینے کی بھی منظوری دے دی تاکہ ان کے بہتر انتظام و انصرام اور دیکھ بھال کو یقینی بنایا جاسکے ۔ ان سڑکوں میں 35 کلومیٹر شرینگل پتراک روڈ، 126 کلومیٹر ٹوپی بونیر روڈ ،85 کلومیٹر تھاکوٹ دربند روڈ اور 61 کلومیٹر بنوںمیرانشاہ روڈ شا مل ہیں ۔ اجلاس میں پی کے ایچ اے کو مستحکم بنانے اور اس کی استعداد کار میں اضافہ کرنے کیلئے درکار نئی آسامیوں کی تخلیق کی بھی منظوری دیدی گئی ۔ اجلاس کو پی کے ایچ اے کے تحت سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل سڑکوں اور شاہراہوں کے نئے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ شاہراہوں کے چھوٹے منصوبے رواں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کئے گئے ہیں جن کی مجموعی لاگت چھ ارب روپے سے زائد ہے۔ مزید بتایا گیا کہ پی کے ایچ اے کے تحت سڑکوں کے دو اہم منصوبے اے آئی پی میں بھی شامل کئے گئے ہیں جن میں بنوں۔ میرانشاہ روڈ کو دو رویہ کرنے اور تھل پاڑہ چنار روڈ کی بحالی و بہتری کے منصوبے شامل ہیں ان منصوبوں کی مجموعی لاگت 8.6 ارب روپے ہے ۔ اجلاس سے اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کوسالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل سڑکوں کے نئے منصوبوں پر ٹائم لائنز کے مطابق پیشرفت جبکہ جاری منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ حکومت صوبے کے مختلف علاقوں میں لوگوں کو آمدورفت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے کیلئے شاہراہوں اور سڑکوں کی تعمیر کے متعدد منصوبوں پر خطیر وسائل خر چ کر رہی ہے ۔ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ہر صور ت یقینی بنایا جائے تاکہ عوام بلاتاخیر ان کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں ۔ وزیراعلیٰ نے پی کے ایچ اے کے حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ صوبے میں سڑکوں کے اہم منصوبوں اور ادارے کی مجموعی کارکردگی کے بارے میں عوام کو آگہی دینے کیلئے بھی اقدامات اُٹھائے جائیں۔

<><><><><><><>

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔