تازہ ترینمضامین

خیبرپختونخواہ بلدیاتی انتخابات۔۔۔محمد شریف شکیب

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوامیں نومبر میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کے لئے 14اکتوبر کو اہم اجلاس طلب کرلیا ہے۔اور صوبائی حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ صوبہ میں بلدیاتی انتخابات کے مرحلہ وار انعقاد کا مکمل شیڈول الیکشن کمیشن کے اجلاس میں پیش کرے تاکہ ان انتخابات کے لئے بروقت تیاریاں مکمل کی جاسکیں۔ الیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات کے لئے انتخابی فہرستوں پر نظر ثانی کا بھی فیصلہ کر لیااور عام انتخابات کے انعقاد سے قبل تمام ضروری انتظامات کی بروقت تکمیل کو بھی یقینی بنانے کا حکم دے دیا، الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے لئے نئی حلقہ بندی حکومت کی طرف سے شائع شدہ آبادی کے اعدادوشمار کو سامنے رکھ کرازسرنو کی جائے گی۔الیکشن کمیشن نے دیگر صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ الیکشن کمیشن کے تحریری فیصلے کا انتظار کئے بغیر فوری طور پر آئندہ بلدیاتی انتخابات کی مرحلہ وار ترتیب اور اضلاع کی تفصیل مہیا کی جائے۔خیبر پختونخوا حکومت نے پہلے ہی اعلان کیاتھا کہ وہ رواں سال نومبر اور دسمبر میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروانے کے لئے تیار ہے۔ پہلے مرحلے میں صوبے کے میدانی علاقوں میں انتخابات ہوں گے۔اگر حکومت 20نومبر کے بعد انتخابات کرانا چاہتی ہے تو حکومت کے پاس صرف ڈیڑھ مہینے کی مہلت باقی ہیں۔الیکشن شیڈول کا اعلان ہونا ہے۔ امیدواروں کو کاغذات نامزدگی جاری کئے جائیں گے۔ان کی وصولی اور جانچ پڑتال ہوگی، حتمی فہرست جاری کی جائے گی۔ امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ ہوں گے اور انتخابی مہم چلانے کے لئے بھی کم از کم دو ہفتوں کی مہلت درکار ہوگی۔ اس سارے عمل کے لئے ڈیڑھ ماہ کا عرصہ بہت کم ہے۔انتخابی عمل کے علاوہ کئی دیگر عوامل کا فیصلہ بھی ہونا باقی ہے۔ ابھی تک یہ طے نہیں ہوا کہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے یا غیر جماعتی ہوں گے۔ بلدیاتی اداروں کی ہیئت کیا ہوگی۔ کیا ضلع کونسل کے انتخابات بھی ہوں گے یا صرف میونسپل کارپوریشن، ٹاون کونسل، تحصیل، نیبرہڈ اور ویلج کونسل کے ہی انتخابات ہوں گے۔ صوبائی حکومت کورونا کی وباء کے پیش نظر بلدیاتی انتخابات اگلے سال مارچ میں کرانا چاہتی تھی تاہم الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور انتخابات ہر صورت میں اسی سال کرانے کی ہدایت کی۔بلدیاتی اداروں کی غیر موجودگی میں نچلی سطح پر عوامی مسائل گذشتہ دو سالوں سے جوں کے توں ہیں۔جن میں گلیوں کی پختگی، نالیوں کی تعمیر، صفائی کے انتظامات، بجلی، گیس سے متعلق چھوٹے چھوٹے مسائل، اسناد کی تصدیق وغیرہ شامل ہیں۔ ان کاموں کے لئے لوگ ایم پی اے، ایم این اے اور سینیٹرز کے پیچھے جانے سے قاصر ہیں اور ان سے ملاقات بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک اہم قومی ضرورت ہی نہیں بلکہ ایک آئینی تقاضا بھی ہے۔ تاہم عجلت میں ادھورے اور غلط فیصلے کرنے سے بہتر ہوگا کہ بلدیاتی انتخابات نومبر کے بجائے میدانی علاقوں میں دسمبر اور پہاڑی علاقوں میں مارچ میں کرائے جائیں تاکہ اداروں اور امیدواروں کو تیاری کا مناسب موقع مل سکے۔اس عرصے میں حکومت کو بھی نئے بلدیاتی ڈھانچے کی نوک پلک درست کرنے کا بھی موقع ملے گا۔ بلدیاتی اداروں کو جمہوریت کی نرسری قرار دیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں جمہوری نظام کمزور ہونے کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ یہاں بلدیاتی انتخابات کو جمہوری حکومتوں کی سرپرستی حاصل نہیں رہی۔ غیر جمہوری حکومتوں نے بلدیاتی ادارے قائم کئے اور جمہوری حکومتیں ان کی بساط لپیٹتی رہیں۔ اگر حکومت بلدیاتی انتخابات غیر سیاسی بنیادوں پر کرانے کا اعلان کرے تو زیادہ پڑھے لکھے، قابل اور اہل لوگ بلدیاتی اداروں میں منتخب ہوکر آسکتے ہیں جس سے اس نظام کو تقویت بھی ملے گی۔اور زیادہ اہل لوگ صوبائی اور قومی سطح کی سیاست میں آئیں گے۔ جس سے جمہوریت کو استحکام حاصل ہوگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔