تازہ ترینمضامین

ندامت کے آنسووں کی تاثیر .. تحریر: اقبال حیات اف برغذی

ایک کتاب میں ایک بزرگ سے منسوب واقعہ نظروں سے گزراتھا جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے قابل توجہ اور چشم کشا ہے فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک گلی سے گزرنے کا اتفاق ہوا۔ یکاک ایک گھر کا دروازہ کھلا ۔ایک خاتون ایک سات آٹھ سال کی عمر کے لڑکے کو دھکے دیکر باہر نکالتی ہوئی کہنے لگی کہ “نکل جاو” تم نا فرمان ہوگئے ہو۔کوئی بات سننے کے لئے تیار نہیں اور ہروقت دل آزاری کرتے رہتے ہو۔اب کے بعد یہ دروازہ تمہارے لئے بند ہے۔ اور دوبارہ اس کی طرف سے رخ کرنے کی کوشش کی تو جان سے مار دونگی۔

اس بچے کا ردعمل دیکھنے کے لئے میں وہاں کچھ دیر کھڑا رہا ۔وہ لڑکا کافی عرصہ روتے رہے پھر اٹھ کر خرامان خرامان گلی کے کونے میں جاکر کھڑا رہا اور ہاتھ سے پیشانی کومروڑتے رہے اور واپس گھر کی طرف روانہ ہوا۔ اور دروازے پر آکر بیٹھ گیا رو رو کر تھک گیا تھا اس لئے تھوڑے ہی دیر میں سوگئے۔

ماں نے جب دوبارہ دروازہ کھولی تو بیٹے کو چوکٹ پر سر رکھے سوتے ہوئے دیکھی ۔ماں کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔ اس نے بچے کے سر کے بال پکڑ کر جھنجھوڑتی ہوئی کہنے لگی کہ بد تمیز لڑکا میں نے تم سے کہہ دی تھی کہ آئندہ کےلئے اس دروازہ کا رخ نہ کرنا۔ اور اپنا شکل مجھے نہ دکھانا ۔ لڑکا چیخ کر روتے ہوئے ہچکی لےکر ماں سے کہنے لگا کہ ” اے میری پیا ری ماں مجھے ماکر کر دروازے سے باہر پھینکنے پر میں نے سوچا کہ کیوں نہ بازار جاکر بھیگ مانگ کر یا بوٹ پالش کرکے زندگی کے ایام گزاروں۔ مگر گلی کے کونے پر پہنچنے کے بعد میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ” اے نادان لڑکا” تم جہاں بھی جاو گے ہر طریقے سے اپنا پیٹ بھر سکوگے۔ مگر ماں کی مامتا اور پیار کی نعمت عظمی سوائے اس در کے تمہیں کہیں بھی نصیب نہ ہوگی۔ دل میں پیدا ہونے والے اس خیال نے میرے قدم روکے اور واپس مڑکر مہرومحبت سے لبریز اس چوکھٹ پر سر رکھتے ہی سکوں کی نیند سے مستفید ہوا اب زندہ حالت میں کسی صورت بھی اس چوکھٹ کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔

ان جذبات کو سن کر ماں کے رحم بھرے دل کی حالت بدل گئی  اور یہ کہتی ہوئی اسے گلے لگائی ۔کہ اگر تم میں میرے بارے میں اتنی سمجھ اور احساس پیدا ہوا ہے۔ تو تمہارے لئے اس گھر کے دروازے کو بند کرنےکاکوئی جواز ہی نہیں اور یہ ہمیشہ تمہارے لئے کھلا رہیگا یوں اس لڑکے کو گلے لگاکر اندرچلی گئی۔

موصوف اس واقعے کے تناظر میں کہتے ہیں کہ اگر ایک نافرمان اور گناہگار بندہ ندامت کے آنسو بہائے اپنے عظیم ور مہربان پرودگار کی حقا نیت پر کامل ایمان کے ساتھ مغفرت کےلئے استدعاکرے گا۔ تو خداوند کریم اس کے احساسات کو قدردانی سے کبھی بھی محروم نہیں کریں گے۔ کیونکہ اپنے گناہگار بند ے کے ساتھ آپ  کی محبت ماں کی محبت سے ستر گنا زیادہ ہے۔ مگر افسوس ہم اپنے رحیم اور کریم پرودگار کو پہچاننے میں کوتاہی کرتے ہیں اور ان کے دروازے کو کھٹکھٹانے میں غفلت کا ارتکاب کرتے ہیں۔

تو آئے آج ہی اس عظیم ذات کے سامنے ہاتھ پھیلائے ،گڑ گڑا کر اپنے اعمال بد کےلئے معافی مانگیں۔ کیونکہ زندگی کا چراغ گل ہونے میں دیر نہیں لگتی ۔ قرآئین اور آثار سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مہربان ذات ہم سے ناراض ہیں۔

                                                ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔