تازہ ترین

زنانہ ڈگری کالج دروش کے لئے فوری طور پر پانی کامستقل بندوبست کی جائے۔قاری جمال عبدالناصر

چترال(چترال ایکسپریس) معروف مزہبی سماجی وسیاسی شخصیت قاری جمال عبدالناصر نے ایک اخباری بیان کہا ہےکہ   دوسال پہلے وزیر اعلی خیبر پختونخواہ زنانہ ڈگری کالج دروش کے افتتاح کے لئے ائے تو ہمارا موقف واضح تھا کہ نامکمل کام کا افتتاح نہ کی جائے کیوںکہ اس وقت کالج میں بجلی اور پانی نہیں تھا کالج کےلئے ہمسائیوں کے گھروں سے ایک دن کے لئےبجلی لائین اور ادھ انچ پانی کا پائیپ لاکر افتتاح کیا گیا بجلی کا مسئلہ اس دوسال کے اندر مین لائین کا حل ہوا لیکن سب سے اہم مسئلہ پانی کا جوں کی توں ہے اور ہیڈ ٹینک تیار ہے لیکن پانی اس میں پانی نہیں۔انہوں نے کہا کہ کروڑوں روپے خرچ کرکے کالج تو بنایا گیا لیکن سب سے پہلے جس بات کو اہمیت دینے کی ضرورت تھی وہ پانی کا مسئلہ تھا اس مسئلے پر ہائر ایجوکیشن نے بھی سرد مہری کا مظاہرہ کیا جبکہ سی اینڈ ڈبلیو مین لائین اسٹمیٹ میں شامل نہ کرکے اس پراجکٹ کو ادھورا چھوڑنے میں مجرم ثابت ہوئے کیونکہ پراجکٹ کے لئے اسیسمیٹ بناتے وقت ان چیزوں کا خیال رکھناضروری تھا اب دروش پائیپ لائین سے کالج کو پانی دینا اس لئے بھی ناممکن ہے کہ خود عوام کے لئے یہ پانی نا کافی ہےجبکہ پپلک ہیلتھ والوں کا موقف واضح ہے کہ کسی بھی محکمہ کی قانونی زمہ داری ہے کہ وہ پانی کا مسئلہ اپنے پراجکٹ اسٹیمیٹ میں شامل کرے اور اس علاقے کے مکینوں کا موقف بھی واضح ہے کہ کالج کے لئے الگ پانی کا بندوبست ہو۔ اب بلی تھیلے سے باہر ائی ہے۔ اور ہیڈ ٹینک تیار ہے لیکن پانی نہیں ہے شاید ہائر ایجوکیشن اور سی این ڈبلیو کے زمہ داران نے سوچا ہوگا کہ ٹینگی بھرنے کے لئے ہیلی کاپٹر کا استعمال ہوگا چونکہ اللہ اللہ کرکے کلاسیں شروع کرنے کا تو فیصلہ ہوا جو خوش ائیند ہے اب کالج کے زمہ دارن کلاس شروع کرنے کے بعد پانی کا مسئلہ کیسے حل کرئینگے انہوں نے ہا ئیر ایجوکیشین سےمطالبہ کیا کہ فوری طور پر اج ہی  میسنگ فیسیلٹی کے تحت کالج کے لئےمستقل پانی کابندوبست کرنے کے لئے الگ اسٹیمیٹ بنائے دورسے ہو یا نزدیک سے۔مستقل پانی ضروری ہے ورنہ بغیر پانی کے کالج چلانا محال ہے جب تک پانی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا پر اجکٹ نا مکمل تصور ہوگا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔