تازہ ترین

ٹیکس وصولی کا کوئی بھی ادارہ 2023سے قبل ملاکنڈڈویژن اور پاٹا سے ٹیکس وصول نہیں کر سکتا۔وزیراعلی محمود خان

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق سابقہ پاٹا کا علاقہ سال 2023تک ہر قسم کے ٹیکسوں سے مستثنیٰ ہے اس لئے ٹیکس وصولی کا کوئی بھی ادارہ اس علاقے سے ٹیکس وصول نہیں کر سکتا، جو بھی ادارے 2023سے قبل ملاکنڈ ڈویژن سمیت سابقہ پاٹا میں ٹیکس وصولی کے لئے اپنے دفاتر کھول رہے ہیں و ہ بلا وجہ عوام میں بے چینی پھیلارہے ہیں جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔
ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ نے جمعرات کے روز سوات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے ان کے دفتر میں ان سے ملاقات کی اور سوات میں کاروباری اور صنعتی شعبے سے وابستہ لوگوں کو درپیش مسائل اور علاقے میں صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ سیکرٹری صنعت ہمایون خان، وزیراعلیٰ کے اسپیشل سیکرٹری محمد خالق اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وفد نے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا کہ ٹیکس وصولی کا ایک وفاقی ادارہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس وصولی کے لئے دفاتر کھول رہا ہے اورادارے کی طرف سے علاقے میں بعض لوگوں کو ٹیکس ادائیگی سے متعلق پیغامات بھی موصول ہو رہے ہیں جس سے علاقے کے لوگوں میںبے چینی پائی جاتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت نے سال 2023تک سابقہ پاٹا کے علاقوں کو ٹیکسوں میں چھوٹ دی ہے تب تک کوئی بھی ادارہ ٹیکس وصول نہیں کر سکتا اس کے باوجود کوئی بھی ادارہ وہاں سے ٹیکس وصول کرنے کی کوشش کرے گا وہ حکومتی فیصلے کی خلاف ورزی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس وصولی کے ادارے کی جانب سے قبل از وقت دفتر کے قیام کا معاملہ وفاقی سطح پر متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ ان علاقوں کی پسماندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع دی جائے جس کے لئے معاملہ وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھایا جائےگا۔ وفد کے ضلع سوات میں انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کے مطالبے پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت پہلے ہی سے سوات میں انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جبکہ منصوبے کا پی سی ون بھی تیارکر لیا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لئے رہائشی علاقوں میں قائم ماربل فیکٹریوں کو دیگرموزوں مقامات پر منتقل کر رہی ہے ۔ پشاور میں ورسک روڈ پر قائم ماربل فیکٹریوں کو مہمند ماربل سٹی منتقل کیا جارہا ہے ۔ اسی طرح سوات میں بھی شہر کے اندر قائم ماربل فیکٹریوں کو شہر سے باہر منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے تجارتی اور کاروباری حلقوں پر زور دیا کہ وہ ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے کے لئے صوبائی حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون کرےں کیونکہ ماحول کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور موجودہ حکومت اس سلسلے میں بہت سنجیدہ ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت صنعت و تجارت کے فروغ کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھار ہی ہے جن کا حتمی مقصد اس شعبے کو ترقی دیکر لوگوں کے لئے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنا ہے۔صنعتوں کی ترقی و فروغ کے لئے انڈسٹریل پالیسی مرتب کی گئی ہے جس کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں اکنامک زونز کا قیام، بند صنعتوں کی بحالی کے علاوہ دیگر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔