تازہ ترینمضامین

داد بیداد …غیر ضروری مبا حثے …ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی 

تبدیلی، تقرری، معزولی، تو سیع، عدم تو سیع ایسے مبا حثے ہیں جنکی ضرورت نہیں اسی طرح اعتما د، عدم اعتما د بھی غیر ضروری مبا حثے ہیں انگریزی میں ایسی باتوں کو نا ن ایشو کہا جا تا ہے جس ملک میں کوئی مسئلہ نہ ہو وہاں ”نا ن ایشو ز“پر بات کی جا تی ہے جس ملک میں چاروں طرف مسا ئل ہوں وہاں مسا ئل پر بحث ہوتی ہے ”نا ن ایشوز“ کو نہیں چھیڑا جا تا ہمارے دوست شا ہ جی کہتے ہیں کہ نا ن ایشوز یا غیر ضروری مبا حثے ہماری تہذیبی روا یا ت میں شا مل ہیں، بچہ اگر چا قو، چُھری، قینچی یا کسی اور نوک دار چیز کو ہاتھ لگا نے کی ضد کرے تو یہ مسئلہ بن جا تا ہے ایشو بن جا تا ہے ما ں باپ اگر بچے کو منع کریں تو وہ روتا ہے پورا گھر سر پر اٹھا لیتا ہے اس لئے ماں باپ ”نا ن ایشو“ کی طرف رخ کر تے ہیں بچے سے کہتے ہیں وہ دیکھو کتنا پیا را چو ہا ہے ابھی اپنے بِل سے نکل آئے گا وہ دیکھو سبز اور سرخ رنگ کا چو ہا نکلا ہی چا ہتا ہے بچہ چوہے کو ڈھونڈ نے لگتا ہے بل پر نظریں جما تا ہے اتنے میں ماں باپ سامان سمیٹ لیتے ہیں چاقوچھریاں وغیرہ چھپا لیتے ہیں ہماری تہذیبی روایت میں نا ن ایشو سے اور بہت سے کا م لئے جا تے ہیں جب اصل مسئلہ کا حل نہ ہو تو نا ن ایشو کے ذریعے اصل مسئلے کو دبا یا جا تا ہے چوہا، پرندہ، بھو ت پریت وغیرہ ایسے وقت پر کا م آتے ہیں سر کارکو بھی عوام کے لئے ما ں باپ کا درجہ حاصل ہے عوام جب بے چینی کا اظہار کریں، بے قراری دکھا ئیں سرکار کو تنگ کریں تو سر کار اصل مسا ئل کو چاقو اور چھری کی طرح چھپا نے کے لئے نا ن ایشوز کا سہا را لیتی ہے عوام نا ن ایشو میں کھو جاتی ہے سرکار کی سردردی میں افا قہ ہوتا ہے پھر کوئی مسئلہ پیش ہو نے لگے تو پھر کسی نا ن ایشو سے کا م لیا جا تا ہے ان دنوں ہمارے ہاں ملا زمین کی تبدیلیوں اور تقرریوں کا غیر ضروری مبا حثہ زوروں پر ہے حالا نکہ سرکار ی ملا زم کی تقرری یا تبدیلی کوئی مسئلہ ہی نہیں اخبارات میں یا ٹیلی وژن پر یا سو شل میڈیا کے ذریعے سرکاری ملا زمین کی تقرری یا تبدیلی کا واویلا با لکل فضول ہے یہ کو ئی قو می یا بین الاقوامی مسئلہ نہیں عوام کو در پیش گھمیبر مسائل سے اس کا کوئی تعلق نہیں ملا زمین کی تقرری یا تبدیلی سے تیل ارزاں نہیں ہو گا آٹے کے نر خ میں کمی نہیں آئے گی، گھی اور دالیں سستی نہیں ہو نگی سی این جی، ایل این جی اور ایل پی جی کے مسائل حل نہیں ہو نگے ایک پہاڑی مقام پر 85سال کی عمر میں ایک بڑھیا اماں ٹیلی وژن پر تبدیلی، تقرری، اعتماد، عدم اعتماد والی خبریں سن رہی تھی ان کے پو تے نے کہا نا نی اماں آپ یہ خبریں اتنی دلچسپی کے ساتھ کیوں سنتی ہیں؟ نا نی اماں نے کہا بیٹا! میں نے گاوں میں یہ باتیں بہت دیکھی ہیں اس لئے مجھے ان باتوں میں دلچسپی ہے ہمارے پڑوس میں جب کسی گھر میں نئی بہو آتی ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ بہو کیسی ہے؟ اگر گھر کو نئی چیزوں سے سجا ئے، نئے نئے پکوان لے آئے، نئے نئے کپڑے سی کر دے دے تو کہتے ہیں اچھے گھر کی بیٹی ہے سلیقہ مند ہے لا ئق اور فائق ہے اگر نئی بہو پرانے بر تنوں کو ادھر ادھر پھینکنا شروع کرے پرانے بر تنوں کو آپس میں ٹکرا کر شور برپا کرے تو کہتے ہیں کہ اچھے گھر کی بیٹی نہیں سلیقہ شعار نہیں نا لا ئق اور نکمی ہے ملک میں نئی حکومت بھی نئی بہو کی طرح ہو تی ہے اس لئے میں خبروں میں دلچسپی لیتی ہو ں یہ تبدیلی، تقرری کے شوشے مجھے ایک آنکھ نہیں بھا تے اعتماد عدم اعتماد مجھے با لکل پسند نہیں مہنگا ئی کی بات کرو غر بت اور بے روز گاری کی بات کرو پوتے نے نا نی اماں کو سمجھا یا تبدیلی اور تقرری کے کھیل میں پیسہ ہے جوا ہے اعتماد اور عدم اعتما د بھی سر ما یہ کاری ہے ایک مہینے میں 10ارب روپے کا سو دا ہوا ہے مزید دو چار ارب روپے لگا نے کے بعد کھیل انجام کو پہنچیگا نا نی اماں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی وہ غربت، بے روز گاری اور مہنگا ئی کو اصل مسئلہ سمجھتی ہے باقی ساری باتیں اس کو غیر ضروری مبا حثے لگتے ہیں اسی طرح ہو تا ہے شب و روز تما شا میرے آگے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔