تازہ ترین

ہسپتالوں سے زاتی رنجش یا آنا کا مسئلہ بنا کر نرسز کو ریلیو کرنا درست نہیں،ترجمان خیبرپختنوخواہ نرسز الاٗنس ناصر علی شاہ

پشاور(چترال ایکسپریس)ترجمان خیبرپختنوخواہ نرسز الاٗنس ناصر علی شاہ نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ ہسپتالوں سے زاتی رنجش یا آنا کا مسئلہ بنا کر نرسز کو ریلیو کرنا درست نہیں, پروپر انکوائری کرکے ریلیو کرنے والے ایم ایس, ڈی ایم ایس اور نرسنگ ڈائیریکٹرز کے خلاف بھر پور کاروائی کا نظام متعارف کرایا جائے

اُنہوں نے کہا کہ نرسز ہسپتالوں کے اندر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں نرسز سال بارہ مہنے دن رات مریضوں کی خدمت پر مامور ہوتے ہیں ان کی وجہ سے ہسپتالوں کی ساکھ برقرار رہتی ہے.
کچھ وقت سے خود ساختہ نظام بنایا جاچکا ہے جو ظلم و جبر کیساتھ مریضوں کی علاج و معالج میں خلل ہے زاتی آنا اور رنجش یا کئی سالوں کا غصہ دل میں رکھ کر ہسپتالوں سے مختلف بہانہ بنا کر نرسز کو دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیتے ہیں. ہسپتال کے اندر من پسند سٹاف کی ڈیمانڈ, پسند نا پسند پر بے جا تنگ کرنے کی وجہ سے نرسز اپنے ایسوسی اشن ( جو آئین و قانون کے مطابق نرسز کے لئے کام کرنے کا پابند ہوتا ہے) کو شامل کرکے ایشو پر بات کرواتے ہیں جس کا زور طاقت کا غیر منصفانہ استعمال کرکے بدلا لیا جاتا ہے جو اخلاقیات اور آئین و قانون کو روندنے کے مترادف ہے..
اُنہوں نے وزیرصحت خیبر پختونخواہ تیمور جھگڑا سے گزارش  کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایس, ڈی ایم ایس اور ڈی ایچ او سے ریلیو کرنے کا اختیار لے لیا جائے تاکہ نرسز کو بے جا تنگ کرنے کا سلسلہ رک جائے اور اس ریلیونگ مسئلہ کی سدباب کے لئے ہر ہسپتال کے اندر کمیٹی بنایا جائے جسمیں ایک ڈاکٹر, ایک نرس, اور ایک پیرامیڈیکل سٹاف شامل ہو اور اس کمیٹی کا نوٹیفیکشن ڈائیریکٹر جنرل ہیلتھ خود کرے تاکہ ہسپتال کا نظام پرامن طریقے سے آگے بڑھے اور بے جا ہنگامہ کئے بغیر مسئلہ کا حل نکال لیا جائے تاکہ مریضوں کی علاج و معالج میں بھی کوئی خلل نہ پڑے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔