تازہ ترین

ایسوسی ایشن فاراکیڈیمک کوالٹی (آفاق) کی طرف سے اپراورلوئرچترال میں آفاق انسائیکلوپیڈیا کوئزٹیسٹ کا اہتمام

چترال (چترال ایکسپریس)ایسوسی ایشن فاراکیڈیمک کوالٹی (آفاق) کی طرف سے اپراورلوئرچترال میں آفاق انسائیکلوپیڈیا کوئزٹیسٹ کا اہتمام کیا گیا جس میں اپراورلوئرچترال کے67سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے 992طلباء و طالبات نے حصہ لیا، ٹیسٹ کا مقصد بچوں کو مستقبل میں کثیرالانتخابی طرز امتحانات سے روشناس کرانا اور ان کے جنرل نالج کو بہتر بنانا تھا۔اپراورلوئرچترال میں کل 13سنٹرز قائم کئے گئے ہیں جماعت سوئم سے ششم تک لیول ون اورکلاس ساتویں سے دسویں تک کے طلباء وطالبات کولیول ٹو کے حساب سے ٹیسٹ میں بیٹھایاگیاہے۔اس ٹیسٹ میں بچوں سے 100سوالات پر مشتمل خانہ پری طرز کے سوالات پوچھے گئے تھے جن میں سائنس دانوں، ایجادات، ممالک اور جانوروں سے متعلق سوالات شامل تھے، بچوں نے اس ٹیسٹ میں نہ صرف دلچسپی لی بلکہ اس اقدام کو اپنی معلومات اور علم کے لئے بہت موثر اقدام قرار دیا۔اس موقع پر ایسوسی ایشن فاراکیڈیمک کوالٹی (آفاق) چترال کے ایریاہیڈذوالفقارعلی خان نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ آفاق کے زیر اہتمام اس ٹیسٹ کا انعقاد بچوں کے جنرل نالج کو بڑھانا اور صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرانا ہے تاکہ مستقبل میں خانہ پری طرز کے امتحانات کے لئے وہ تیار بھی ہوجائیں اور ان کو طریقہ کار بھی واضح کیا جائے، انہوں نے کہا کہ چونکہ مستقبل میں تمام تر امتحانات این ٹی ایس اور ایٹا طرز پر خانہ پری کے طور پر لئے جائیں گے اس لئے آفاق کی کوشش ہے کہ سرکاری اور نجی سکولز کے بچوں کو اس سے روشناس کرکے انکے جنرل نالج کو پروان چڑھا یا جاسکے۔اس ٹیسٹ میں پوزیشن لینے والے طلباء وطالبات کو نقدانعامات،شیلڈاوردیگرانعامات سے نوازجائے گا۔پروفیسروجہہ الدین،پروفیسرحسام،عبدالحفظ اوردیگرنے کہاکہ آفاق بچوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے،ذہنی افق کووسعت دینے، اُن کی تخلیقی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے اور علمی استعداد میں اضافہ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ آفاق تعلیمی میدان میں گرانقدر خدمات سر انجام دے رہا ہے جو یقیناًبچوں میں علمی و قومی فکر پروان چڑھانے میں بہت کارگر ثابت ہونگی۔آفاق پاکستان کا یہ اقدام قابل تحسین ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔