تازہ ترینمضامین

ہم نصابی سرگرمیوں کے مقابلے۔۔۔سیدالابرارمغلاندہ چترال

نعمان عزیز والدین کا بڑا بیٹا ہونے کے نا طے خاندان کی ساری توجہ کا محور تھا. باب کالج میں پروفیسر تھا . ماں اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت سلجھی ہویی خاتون تھی . مذہبی پس منظر رکھنے والی ماں بچوں کی تربیت کے حوالے سے بہت حساس تھی. نفسیاتی اصولوں کے مطابق بچوں کی نگہداشت میں کوی کسر نہیں چھوڑتی. ان کے اخلاق و کردار کو سنوارنے پر زور دیتی. نعمان گفتار کے قابل ہوا تو بنیادی عقاید اس کو سمجھانے کی بھر پور کوشش کی گیی. ماں نے قران و سیرت کی تعلیمات سے بچے کے ذہن کو مزین کیا صحابہ رضوان اللہ علیہ کی عملی قربانیوں سے روشناس کرایا . باب بچے کے دل میں ادبی اور تاریخی چاشنی پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا. نعمان کی ہمہ جہت پرورش میں کوی کسر فروگذاشت نہ کی گی. والد کی کتابوں سے کھیلتے کھیلتے نعمان کو مطالعہ کا چسکا لگ گیا. نعمان اعلی ذہانت کے مالک تھے . گھر اور سکول کے ماحول نے سونے پہ سہاگہ کا کام کیا. تعلیمی کارکردگی بہتریں رہی. ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی سکول میں اکثر پوزیشن لیتا رہا. سکول کے انجمن بزم ادب کا صدر منتخب ہوا. کرکٹ اور فٹ بال بھی اچھا کھیلتا تھا. سکول کی دونوں ٹیموں میں کھیلنے لگا جس کی اکثر ماں کی طرف سے مخالفت ہوتی رہی لیکن باپ ہمیشہ یہ کہہ کر آڑے آجاتا “کھیلوں میں شمولیت بےشک ضروری ہے لیکن پڑھایی متاثر نہیں ہونی چاہیے.”
ماں اپنی شفقت اور مثالی برتاو سے نعمان کے دل میں سچایی سے محبت بٹھا چکی تھی.جھوٹ ,دھوکہ دہی اور منافقت سے اس کو نفرت ہو گی تھی.ماں کے یہ سنہرے الفاظ اس کے کانوں میں اکثرگونج اٹھتے”بیٹا صداقت ,دیانت ,عدل اور ایثار زندگی کے ماتھے پر جھومر کی حیثیت رکھتے ہیں .یہ دنیا ان اقدار کے دم سے قایم و دایم ہے. جھوٹ ,بددیانتی ,ناانصافی اور خود غرضی انسانیت کے چہرے پر بدنما داغ ہیں.ہمیشہ حق و صداقت اور عدل و انصاف پر ڈٹے رہنا ,دونوں جہانوں میں سرخرو ہو جاوگے.وہ کہتا “ماں حق بات کہنے سے اکثر لوگ ناراض ہو جاتے ہیں ” .
وہ کیسے بیٹا؟ ” آج سکول میں رشید اور شہاب کی لڑایی ہویی.میں نے بطور عینی گواہ جو دیکھا تھا استاد کے سامنے بیان کیا .رشید مجھ سے اب سیدھے منہ بات کرنے کو تیار نہیں “. ماں نے ہچکچاتے ہوے جواب دیا”بیٹا ناراضگی ضرور ہوتی ہے لیکن عارضی.آخرکار صحیح اور غلط میں فرق ثابت ہوکے رہتا ہے.اکثر یت لوگوں کی نااصافی کو پسند نہیں کرتی.” “ماں سر شفیق بھی ہہی کہتا ہے ,حسن,صداقت اور عدل فطرت انسانی کے جزلا لاینفک ہیں .انسان ان کے بغیر کبھی چین نہیں پاسکتا.. انسان ان اصولوں کے بر عکس عمل کر تے ہوے در حقیقت اپنی فطرت سے جنگ کر رہا ہوتا ہے.”
نعمان کے والد ماں اور بیٹے کی باتیں سن رہا تھا.کتاب میز پر رکھ کر کہنے لگا”جی ہاں بیٹا آپ کے استاد نے بجا فرمایا ہے.فطرت کے ان سنہرے اصولوں سے ہم آہنگی سکون اور مسرت کی ضمانت ہے.جو کویی ان اصولوں کو توڑتا ہے حقیقتاً وہ اپنے وجود کو توڑتا ہے “. انکے ایسے مکالمے اکثر اان کے اردو کے استاد سر شفیق سے بھی ہوتے رہتے.سر شفیق اپنے اعلیٰ علمی ذوق اور مثالی کردار کی وجہ سے نعمان کے پسندیدہ استاد تھے.
ایک مرتبہ کیریر کونسلنگ کے بارے میں بات کرتے ہوے طلباء سے انکے پسندیدہ کیریر کے بارے میں سر شفیق نے سوال کیا تو نعمان اپنے ساتھیوں سے ہٹ کر کہا “سر میں جج بننا چاھتا ہوں تاکہ سستے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنا سکوں. ” یقینا تم بن سکتے ہو. با صلاحیت ہونے کے ساتھ ساتھ تم محنت کے جذبہ سے بھی سر شار ہو”.
ضلعی سطح پر ہم نصابی سرگرمیوں کا آغاز ہوا , نعمان نے اردو تقریری مقابلہ کے لیے تیاری شروع کی . سر شفیق سے بھی مدد لی. تقریر کا عنوان تھا ” عدل و انصاف کچھ حشر پہ موقوف نہیں “دوسری طرف فٹ بال اور کرکٹ کی ٹیموں میں بھی بھر پور شرکت کی ٹھانی. پہلے ادبی مقابلوں کا اغاز ہوا. اردو تقریر کےمختلف راونڈکا مقابلہ جیتے ہوے نعمان فاینل تک پہنچا. فاینل میزبان سکول کے بژے ہال میں منعقد ہو رہا تھا. سامعین کی جم غفیر بیٹھی تھی. نعمان نے خوب داد سمیٹھی. وہ بغیر پرچی دیکھے فطری انداز سے بول رہا تھا. ہال تالیوں سے گونج اٹھی . ایک سامع نے مو قع پر ہی کیش انعام سے نوازا. لیکن جب مقابلہ کا فیصلہ سنایا گیا. تو میزبان سکول کے طالبعلم کو پہلے نمبر پر رکھا گیا تھا. سامعیں بھی حیران وپریشان تھے لیکں نعمان اور اس کے استاد کو اس ناانصافی پر سخت صدمہ پہنچا تھا. ججوں نے انتہایی جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوے اپنے شاگرد کو پہلی پوزیشن عطا کی تھی جس کا وہ حقدار نہیں تھا. متن اور انداز دونوں لحاظ سے نعمان کے مقا بلے میں وہ فروتر تھا. سب سے بژھ کر اس نے کاغذ پر لکھا پڑھ کر سنایا تھا. نعمان کو رنج اس بات پر نہیں تھا کہ اس نے مقابلہ ہارا تھا بلکہ یہ بات اس کے دماغ میں اٹک گیی تھا کہ استاد اتنے جانب دار کیون کر ہوسکتے ہیں . سر شفیق نے اس کو حوصلہ دینے کی کوشش کی.” ہار جیت مقابلہ کا جز ہیں ہار کر برداشت کرنا اور اپنی کوششیں مذید تندہی سے جاری رکھنا انسان کو آخرکار چمپین بنادیتا ہے. ”
فٹ بال اور کرکٹ کے مقابلوں میں بھی نعمان کے تجربات تلخ رہے. دونوں کھیلوں میں ایمپایرز نے واضح ناانصافی کا مظاہرہ کیا. ناانصافی اور جانبداری کے ان فیصلوں کا نعمان کے دل پر گھاو سا لگا . وہ کیی دنون تک گم سم رہنے لگا . عملی زندگی کی چند جھلکیاں نعمان کے شیشہ دل کو کرچی کرنے کے لیے کافی تھیں. کیونکہ وہ مثالیت پسندی کے آسمان سے خودغرضی کی زمیں پر گرا تھا. نعمان پھر بھی خوش قسمت تھا اس کے والدین اپنے بچےکے چہرے پر تاثرات جلدی بھانپ لیتے تھے. باب نے سمجھانے کی کوشش کی.” ناامیدی کفر ہے بیٹا! نا مساعد حالت سے نبردآزما رہنے کا نام ہی ذندگی ہے. شمع رات کی تاریکی کو مٹانے کے لیے جلایی جاتی ہے. ظلم کی سیاہ رات کو علم کی روشنی سے ہی منور کیا جاسکتاہے. دل چھوٹا مت کر, اپنے حصہ کا دیا جلاتے جا ایک دن تم سے ضرور انصاف کا بول بالا ہوگا.”
باب کے الفاظ یقینا انمول تھے . لیکن پھر بھی نعمان کے ذہن میں یہ سوال گھوم رہا تھا علم بانٹنے والے اگر ناانصافی کے فیصلے کرنے لگیں تو ظلم کی سیاہ رات کیا روشن صبح میں تبدیل ہو سکتی ہے؟ سونے کو اگر زنگ لگ جایے تو لوہے کا کیا بنے گا؟ وہ چراغ کیا روشنی دے گا جو ہوا کی ہلکی جنبش کو نہ سہار سکے ؟ یہ سوالات نہیں تھے بلکہ نعمان کے کلیجے پر پیوست وہ تیر تھے جو شاید زندگی بھر کےلیےاسکے ساتھ چمٹ گیے تھے . یہ تیر اکھاڑنا اس کے لیے شاید ہی ممکن ہو . یہ زخم مندمل ہونے والا نہیں تھے. سر شفیق کی زہانت اور تجربہ اس روگ کو مٹا سکتا تھا نہ والدین کی شفقت بھری رہنمایی سے یہ ختم ہوسکتا تھا . نعمان عزیز نے نے قسم کھایی کہ وہ آیندہ ایسی کسی بھی ہم نصابی مقابل میں حصہ نہیں لے گا.
وہ جب بھی اپنے اردگرد معاشرتی مسایل پر غورو خوض کرتا تو ہال میں بطور منصف بیٹھے وہ اساتذہ اس کی آنکھوں سامنے گھومنے لگتے وہ اپنے آپ سے کہتا یہ بیمار معاشرہ شاید ان جیسےاساتذہ کا دین ہے جس میں ہر جا انصاف کی گرانی ہی گرانی ہے
اس کو اب یقین ہو گیا کہ معماران قوم جب تک اپنی مثالی کردار سے نونہالوں کی تربیت نہیں کر پاییں گے یہ قوم اخلاقی گراوٹ سے اوپر کبھی نہیں اٹھ سکتی. ملکی اداروں میں بدعنوانیوں کی کہانیاں جب بھی اس کے کانوں میں پڑتی ہیں ان اساتذہ کی تصاویر اس کے ذہن کے اسکرین پر آجاتی ہیں اور وہ دل ہی دل میں تقریر کے وہی اشعار اکثر گنگناتا ہے
عدل و انصاف کچھ حشر پہ موقوف نہیں
زندگی خود ہی گناہوں کی سزا دیتی ہے.

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔