تازہ ترین

محکمہ جنگلی حیات خیبر پختونخواہ کا مارخور ٹرافی ہنٹنگ کے پرمیٹ فیس میں چترال کے مقامی آبادی کا حصہ(21- 2020) بذریعہ چیکس تقسیم

چترال(چترال ایکسپریس)محکمہ جنگلی حیات خیبر پختواہ کی طرف سے مارخور ٹرافی ہنٹنگ کے پرمیٹ فیس چترال کے مقامی آبادی کا حصہ(21- 2020) بذریعہ چیکس تقسیم کی ایک تقریب چترال کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔
تقریب کے مہمانان خصوصی ڈاکٹر سید فضل باقی کاکاخیل کنزرویٹر وائلڈلائف ملاکنڈ سرکل، پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شیر بہادر خان اور خالد خان رکن پی ٹی آئی نے مارخور ٹرافی ہنٹنگ کے چیک تقسیم کئے۔توشی شاشا مارخور کنزروینسی سے آئے ہوئے 12 ویلیج کنزرویش کمیٹیوں کے صدور نے اپنے اپنے کمیٹیوں کے چیک وصول کئے۔ وی سی سی کے کلسٹر تنظیم کے چیرمین نے محکمہ جنگلی حیات خیبر پختونخواہ کے کاویشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مارخور ٹرافی ہنٹگ توشی شاشا مارخور کنزروینسی کے ترقی میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ جو تعریف کے مستحق ہیں اور یہ عہد کیا کہ مقامی آبادی مستقبل میں بھی محکمہ جنگلی حیات خیبر پختواہ کے شانہ بشانہ جنگلی حیات کے انتظام اور حفاظت کیلئے کام کرینگے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئےمہمان خصوصی ڈاکٹر سید فضل باقی کاکاخیل نے کہاکہ خیبر پختونخواہ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے مقامی آبادی کی تقریب میں شمولیت پر خوشی ہوئی۔اُنہوں نے کہا کہ مقامی آبادی کی علم میں ہے کہ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے برسرپیکار ہے اور مختلف قسم کے اقدامات اٹھا رہی ہے ان میں سے ایک کامیاب کوشش مارخور ٹرافی ہنٹنگ ہے جو سائنسی اعتبار سے بھی ایک موثر ماڈل کے طور پر دنیا بھر میں ماناجاتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا نے مقامی آبادی سے اشتراکیت کی بنیاد پر مارخور ٹرافی ہنٹنگ کا آغاز کیاجس کے تحت مقامی لوگوں کو نہ صرف جنگلی حیات کے تحفظ میں ایک موثر شراکت دی گئی ہے بلکہ وسائل میں بھی ان کا حصہ دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا آغاز 1983 ء میں چترال سے کیا گیا جو شروع میں ڈیپار ٹمنٹ خود لیڈ کر رہی تھی لیکن1998ء سے باقاعدہ مقامی کمیونٹی کو اس پروگرام میں شامل کیا گیا۔آج اس کا میاب ماڈل کی نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی پذیرائی کی جاتی ہے۔کنزرویشن کے نقطہ نظر سے اس کامیاب پروگرام کا ثبوت یہ ہے کہ مارخور جو کہ IUCN کے ریڈ لسٹ میں Endangered یعنی خطرے سے دوچار تھا آج اس کاسٹیٹس Near Threatened ہے جو کہ اس کی افزائش اور بحالی کی عکاس ہے۔ مقامی سطح پر اس پروگرام کی کامیابی کے دو indicators ہیں ایک Ecological indicator ہے جو کہ اس کی تعداد کی اضافے کی صورت میں ہے اور بفضل خدا ان کی تعداد آج چترال وائلڈلائف ڈویژن ضلع چترال لوئر میں خاطر خواہ حد تک بڑھ چکی ہے اور کئی مقامات پر دریا کے کنارے ان کے جھُنڈ دیکھے جا سکتے ہیں۔ دوسرا Developmental Indicator ہے جو کہ مختلف وی سی سیز میں کروڑوں روپے کے فلاحی کاموں، انفراسٹرکچر کے منصوبوں اور کنزرویشن سے متعلق ہے۔لہذا آج کی پروگرام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔اُنہوں نے وی سی سیز کا ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ تعاون پر دل کی گہرائیوں سے اُن کا شکریہ ادا کیا اور امیدظاہر کی کہ یہ تعاون اور معاونت وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہونگی اور اس کے ثمرات آنے والی نسلوں کو منتقل ہوں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔