تازہ ترین

الخدمت فاؤنڈیشن کا ضلع لویرچترال کی تاریخ میں پہلی بار نادار اور مستحق جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کا اہتمام

چترال(چترال ایکسپریس  )الخدمت فاؤنڈیشن خیبر پختونخوا نے صوبے کے دورافتادہ ضلع لویرچترال کی تاریخ میں پہلی بار نادار اور مستحق جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کا اہتمام کردیا۔ 15یتیم اورنادارجوڑوں کی اجتماعی شادیوں کے سلسلے میں سینٹینیل ماڈل ہائی سکول نزد شاہی مسجد چترال سٹی سے متصل فٹ بال گراونڈ میں ایک پروقاردعوت ولیمہ کا اہتمام کیا گیا اس موقع پرامیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اور الخدمت فاونڈیشن پاکستان کے مرکزی نائب صدر ڈاکٹر مشتاق مانگٹ مہمانان خصوصی تھے۔اجتماعی شادیوں کی تقریب کی صدارت الخدمت فاونڈیشن کے صوبائی صدر خالدوقاص نے کی۔ تقریب میں جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکرٹری عبدلواسع،رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبرچترالی،سابق ضلع ناظم چترال معفرت شاہ امیر اخونزادہ رحمت اللہ،سماجی شخصیت حاجی لقمان الدین الخدمت فاونڈیشن چترال کے صدر نوید احمد بیگ سابق صوبائی وزیر قاری روح اللہ مدنی،الخدمت کے صوبائی ذمہ داران حافظ حمید اللہ،فدا محمد،نورالواحدجدون اورمحمد وسیم سمیت ضلعی انتظامیہ کے اعلی حکام اور زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ معززین شہر نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے 15جوڑوں کا نکاح پڑھایا۔ اجتماعی شادیوں کے موقع پر الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے 15یتیم اورنادار جوڑوں کو لاکھوں روپے مالیت کے روزمرہ گھریلوں استعمال کی اشیاء فراہم کی گئی جن میں ڈبل بیڈ،واشنگ مشین،بیدسٹل فین،سنگارمیز،سلائی مشین،استری،چائے اور ڈنر سیٹ سمیت روزمرہ اشیاء کی 43اشیاء فراہم کی گئیں۔اس موقع پر ہر جوڑے کو ایک لاکھ بیس ہزار روپے تک کے ضروری گھریلوں اشیاء فراہم کی گئیں۔اجتماعی شادیوں کی اس تقریب کے جملہ اخراجات مخیر شخصیت حاجی لقمان الدین اور چترال سٹی کی مقامی مخیرشخصیات نے سپانسر کئے جبکہ اس موقع پرنئی جوڑوں کے عزیزواقارب اور دوست احباب پر مشتمل 1000مہمانوں کے لئے پرتکلف دعوت ولیمہ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔الخدمت خواتین کی جانب سے اس موقعہ پر خواتین کے لئے بنائے گئے الگ پنڈال میں 15دلہنوں کو تخائف بھی فراہم کئے گئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔