تازہ ترین

خسرہ سے بچاو کی ویکسی نیشن مہم 15نومبرشروع ہوکر27 نومبر تک جاری رہے گی

چترال(چترال ایکسپریس)ورلڈ ہیلتھ آرگنائریشن (ڈبلیو ایچ او) کے تعاون سے ضلع لوئرچترال سمیت ملک بھر میں خسرہ ٹائپ مرض جسے میزلس روبیلا کا نام دیا گیاہے اس سے بچاو کی ویکسی نیشن مہم شروع کی جارہی ہے۔یہ 12روزہ مہم 15 سے 27 نومبر 2021 تک جاری رہے گی۔اس مہم کے دوران ضلع لوئرچترال میں 9 ماہ سے 15 سال کی عمر تک کےایک لاکھ 20ہزار بچوں کو میزلس روبیلا(خسرہ) سے بچاو کی ویکسین لگائی جائے گی۔جمعہ کے روزچترال میں گورنمنٹ سکولوں کے میل فیمیل فوکل پرسن سے گفتگوکرتے ہوئے ای پی آئی کواڈینٹر چترال ڈاکٹرفرمان نظار نے کہاکہ اس مہم کولوئرچترال میں کامیاب بنانے کے لئے 118ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جس میں میل اورفیمیل ویکسینیٹرز شامل ہیں وہ صبح کے ٹائم سکولوں میں ویکسی نیشن کریں گے سکول چھٹی ہونے کے بعدکمیونٹی میں جائیں گے تاکہ کوئی بھی بچہ رہ نہ جائے ۔انہوں نے کہاکہ اگرخدانخواستہ کسی بچے کی طبیعت ویکسی نیشن سے خراب ہوجائے کوئی خطرے والی بات نہیں ہے جس کے لئے ہریوسی میں ایک ڈاکٹرکابھی ڈیوٹی لگائی گئی ہے ۔جوٹیلی فونیگ رابطے پروہاں پہنچےگا۔انہوں نے کہا کہ ایک یونین کونسل کوبارہ بلاک میں تقسیم کیاگیااہے تاکہ عوام کوآسانی ہو۔انہوں نے مزید کہاکہ خسرہ سے انسانی جانوں کو محفوظ بنانے میں حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کردی ہیں تاہم فوری طورپر اس ضمن میں تمام ہسپتالوں، صحت کے بنیادی مراکز اور دیگر سرکاری طبی اداروں میں خسرہ کی مفت ویکسی نیشن مہیا کردی گئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام ان اقدامات سے بھرپورفائدہ اٹھائیں اور کسی بھی غلط فہمی میں مبتلا ہونے کی بجائے اپنے بچوں کی بروقت اورضرورت کے مطابق ویکسی نیشن کرائیں۔ اس موقع پرایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر لوئرچترال حافظ اللہ ،ڈپٹی ڈی او محکمہ تعلیم لوئرچترال احمدالدین ،شاہدحسین،ایس ڈی اوفیمیل دروش محکمہ ایجوکیشن شاکرہ اوردوسروں نے کہاکہ کسی بھی وبائی امراض کا ہونا یا نہ ہونا ایک الگ مسئلہ ہے مگر اس کے ویکسی نیشن کرانا بہت ضروری ہے اور اس میں سب سے اہم ذمہ داری والدین کی ہے جو اپنے بچوں کو فوری طورپر ایسی تمام بیماریوں کی ویکسی نیشن کرائیں جو ان کے پیداہونے کے فوری بعد ضروری سمجھی جاتی ہیں۔ انتہائی خوش قسمتی کی بات ہے کہ خسرہ ایسی بیماری ہے جس کا وائرس صرف انسانوں میں پایا جاتا ہے اس لیے اس پر کنٹرول کرنا زیادہ آسان ہے۔ انہوں نے اپنے تمام اسٹاف کوانتہائی ذمہ داری سے اس مہم کوکامیاب کرنے کی ہدایت کی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔