تازہ ترینمضامین

چترال کی ترقی کے منصوبے…محمد شریف شکیب

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے چترال کے لئے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ اپنے دورہ چترال کے دوران وزیراعلیٰ نے 40 ایکڑ اراضی پر محیط چترال اکنامک زون کا تجارتی بنیادوں پر اجراء کیا۔اکنامک زون میں 62 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور آٹھ ہزار ملازمتوں کے مواقع متوقع ہیں۔ وزیراعلیٰ نے سنگور پل،دنین بائی پاس روڈ اور ایون کیلاش ویلی پل کا افتتاح کیاجن پر مجموعی طور پر 83کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ساڑھے 6کروڑ کی لاگت سے تعمیر ہونے والے ریسکیو سٹیشن اور 9 کروڑ روپے کی لاگت سے ڈگری کالج میں قائم بی ایس بلاک کا افتتاح بھی کیا۔ وزیراعلیٰ نے کلکاٹک چترال روڈ، بروز پل اورکریم آباد روڈ کا بھی افتتاح کیا۔یہ منصوبے 44کروڑ روپے کی لاگت سے اگلے دو سالوں میں مکمل ہوں گے۔وزیراعلیٰ نے 28 کروڑ روپے کی لاگت کے بیوٹی فکیشن آف لوئر چترال منصوبے کا اجراء بھی کیا۔وزیراعلیٰ نے چترال میں زمینوں کی سٹلمنٹ کے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے اور سرکاری ملازمین کا فائر وڈ الاؤنس 45 روپے روزانہ سے بڑھا کر 100 روپے روزانہ کرنے کا اعلان کیا۔جو بلاشبہ صوبائی سرکاری ملازمین کے لئے بڑا ریلیف ہے۔ وزیراعلیٰ نے صحافیوں کیلئے میڈیا کالونی، ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال کی اپ گریڈیشن، ویمن ریسورس سنٹر، دروش میں سٹیڈیم کی تعمیر،دروش بائی پاس روڈاور غوچھارکوہ ایریگیشن چینل کی تعمیر کا بھی اعلان کیا۔جلسہ عام سے اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ نے بتایا کہ لوئر چترال میں سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر، دروش اور گرم چشمہ میں کالجز کا قیام بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل کیاگیاہے۔چترال یونیورسٹی کیلئے رواں بجٹ میں ایک ارب 28 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔لوئر چترال کی ترقی کیلئے 33 ارب روپے کے منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی تکمیل سے ضلع میں ایک مثبت تبدیلی رونما ہو گی۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ چترال بونی مستوج روڈ پر بھی کام جلد شروع کیا جائے گا۔2013کے عام انتخابات میں چترال سے پی ٹی آئی کو کامیابی نہیں ملی۔قومی اسمبلی کی نشست پر آل پاکستان مسلم لیگ اور صوبائی سطح پر اپر اور لوئر چترال سے پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ اس کے باوجود پی ٹی آئی نے خواتین کی خصوصی پر فوزیہ بی بی کو کامیاب کروایا۔ 2018کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست متحدہ مجلس عمل اور صوبائی اسمبلی کی اکلوتی نشست پر جے یو آئی کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ نامزد امیدواروں کو عام انتخابات میں کامیابی نہ ملنے کے باوجود پی ٹی آئی نے اقلیتوں کی خصوصی نشست پر کیلاش قبیلے سے وزیرزادہ کو ایم پی اے اور بعد ازاں وزیراعلیٰ کا معاون خصوصی بنایا اور سینٹ کی نشست پر چترال کی خاتون ورکر فلک ناز کو ٹکٹ دے کر کامیاب بنایا۔تحریک انصاف کی حکومت نے ہی چترال کے عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے اپر چترال کو الگ ضلع بنادیا۔ تاہم ضلع اپرچترال کو انتظامی عملہ کی تعیناتی کے سوا الگ ضلع بننے کے ثمرات ابھی تک نہیں ملے۔ ضلعی ہیڈ کوارٹر کے دفاتر بھی کرائے کی عمارتوں میں قائم ہیں۔سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں بروغل، ریچ، تریچ اور دوسرے دور افتادہ علاقوں تک رسائی کے لئے ہموار سڑک موجود نہیں۔دنیا کے بلندترین قدرتی سٹیڈیم شندور کو جانے والا راستہ بھی نہایت تنگ، پرپیچ اور خستہ حال ہے۔ اپرچترال کے عوام کو توقع تھی کہ وزیراعلیٰ اپنی پہلی ترجیح میں نوزائیدہ ضلع اپرچترال کا دورہ کرکے وہاں کے مسائل سے خودآگاہی حاصل کریں گے اور ان کے حل کے لئے اقدامات کریں گے۔وزیراعلیٰ کی لوئرچترال سے واپسی پر اپرچترال کے عوام میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ توقع ہے کہ وزیراعلیٰ اپنی پہلی فرصت میں گوناگوں مسائل سے دوچار ضلع اپرچترال خود جاکر وہاں عوام کے دکھوں کا مداوا کریں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔