تازہ ترین

آل پارٹیز چترال کا ایون اینڈ کلاش ویلیز روڈ کو بلا تاخیر شروع کرنے کا مطالبہ۔ وزیرزادہ کواپنی کمیونٹی اور علاقے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔مسلم اینڈ کالاش ڈیفنس کونسل پریس کانفرنس

ایک مہینے کے اندر سڑک پر کام شروع نہ کرنے کی صورت میں کالاش کمیونٹی سمیت پارلیمنٹ ہاوس اسلام آباد کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) آل پارٹیز چترال نے ایون اینڈ کلاش ویلیز روڈ کو بلا تاخیر شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مسلم اینڈ کالاش ڈیفنس کونسل کے زیر اہتمام چترال پریس کلب میں آل پارٹیز اجلاس و پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کالاش ویلیز روڈ بین الاقوامی اہمیت کا حامل روڈ ہے اور گذشتہ حکومت میں اس کی سیاحتی اور دفاعی اہمیت کے پش نظر تعمیر کی منظوری دے کر ٹینڈر طلب کئے گئے تھے لیکن موجودہ حکومت اس کی تعمیر شروع کرنے کی بجائے مسلسل روڑے اٹکا رہی ہے۔ چترال پریس کلب میں مسلم لیگ ن کے رہنما سید احمد کی زیر صدارت اجلاس میں آل پارٹیز کے قائدین عبدالولی ایڈوکیٹ، نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ، محمد کوثر ایڈوکیٹ،صفت زرین مسلم لیگ ن،عالمزیب ایڈوکیٹ پاکستان پیپلز پارٹی، عیدالحسین عوامی نیشنل پارٹی، مولانا خلیق الزمان خطیب شاہی مسجد چترال،عبد الجبار پاکستان تحریک انصاف،جمیلہ کالاش خاتون، محمد صابرصدر ٹرانسپورٹ یونین،وجیہ الدین جماعت اسلامی،فضل ربی جان اور مسلم اینڈ کالاش ڈیفنس کونسل کے رہنما عبدالمجید قریشی، وجیہ الدین، جندولہ خان، صالح نظام نے کہا کہ کالاش ویلی روڈ مقامی کمیونٹی اور سیاحوں کا بنیادی مسئلہ ہے۔ دنیا بھرکے سیاح اس راستے سے کالاش وادیوں کی سیر کیلئے آتے ہیں۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اس روڈ کی تعمیر میں سردمہری کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ حالانکہ ٹینڈرکے بعد چار سال گزر گئے ہیں۔جس کی وجہ سے سیاح دوبارہ اس علاقے کانہ خود رخ کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی منع کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سیاحتی روڈکی تعمیر آیندہ سیاحتی موسم کی آمد سے پہلے مکمل کیا جائے۔ بصورت دیگرمشکلات میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ معاون خصوصی وزیر زاد ہ کے عہدے پر ہم خوشی کا اظہار کرتے ہیں لیکن انہیں چترال بھر کا دورہ کرکے منصوبوں کے اعلانات کی بجائے اپنی کمیونٹی اور علاقے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جنہیں صرف اور صرف مختلف تہواروں اور دوسروں موقع پر مہمانوں کے لئے ناچایا جاتاہے اور ان کی اپنی کمیونٹی کے لوگ شکستہ حال کالاش ویلی روڈ کی وجہ سے مصیبت سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپر چترال میں وزیرزادہ کی طرف سے کیے گئے اعلانات صرف اور صرف اعلانات کی حد تک محدود ہیں وہاں کوئی بھی ترقیاتی کام شروع نہیں ہوا۔اُنہوں نے کہا کہ ایک مہینے کے اندراگر سڑک پر کام شروع نہ کیا گیا تو کالاش کمیونٹی سمیت پارلیمنٹ ہاوس اسلام آباد کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔
اس موقع پر اجلاس میں منظور کردہ متفقہ قرارداد صالح نظام نے پڑھ کرسنایا، جس میں کہا گیا کہ چترال ٹوکالاش ویلیز روڈ جوکہ صرف کالاش ویلیز کا ہی نہیں بلکہ پورے چترال اور اس سے بھی بڑھ کر پورے پاکستان کا دیرینہ اور فوری حل طلب مسئلہ ہے۔اس کی توسیع اور فوری تعمیرنہ صرف علاقائی کمیونٹی کے مسائل کا حل ہے بلکہ محکمہ سیاحت ایک مرکزی حیثیت کا حامل علاقہ تک رسائی کا معاملہ ہونے کی بنا پر پورے ملک اور عالمی کمیونٹی کے مشکلات کا تدارک ہے۔
قراردادمیں مشترکہ اور متفقہ مطالبہ کیا گیا کہ مذکورہ بالا چترال ٹو کالاش ویلیز کی پہلے سے منظور شدہ سڑک بلا تاخیر کام شروع کیا جائے اور آئندہ سیاحتی سیزن آمد سے پہلے مذکورہ بالا سڑک کی توسیع وتعمیر پرہنگامی بنیادوں پرکام شروع کرکے علاقائی آبادی اور سیاحتی آمدرفت کے سلسلے میں آسانیاں پیدا کی جائیں۔چترال ٹو کالاش ویلیز روڈ کی تعمیر وتوسیع میں تاخیر سے پورے علاقے کے لوگ جوکہ پہلے سے بے حد متاثر ہیں مزید پریشانیوں اور ناقابل تلاقی نقصانات سے دوچار ہوں گے۔اس لئے سڑک مذکورہ بالا کی فوری تعمیر شروع کیجائے۔
اجلاس میں متفقہ طورپر موجودہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو مطلع کیا گیا کہ اس مذکورہ سڑک کی تعمیر پر آج کی تاریخ سے ایک ماہ کے اندر اگرکام شروع کرکے پورے علاقے کے لوگوں کی تسلی نہ کرے گا تو آئیندہ کے لائحہ عمل کے لئے باہمی مشاورت سے اقدامات کا آغاز کیاجائیگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔