تازہ ترینمضامین

پاکستان نرسنگ کونسل نرسنگ کالجز کے لئے یکساں فیس پالیسی متعین کریں…تحریر۔ ناصر علی شاہ 

درد جب حد سے گزرتا ہے تو ہم گاتے ہیں اور نہ ہی بجاتے ہیں بلکہ قلم اٹھاتے ہیں.نرسنگ پیشے کی فروغ اور پروفیشنلز کی خدمات کو ہمیشہ اچھے انداز میں عوام کے سامنے پیش کرنے کی بھرپور کوشش کرتا رہا ہوں. پیشے کی بالادستی کی خاطر حکومت وقت پر تنقید کیساتھ ساتھ اس پیشے کے اندر تبدیلی لانے کے لئے ممکنہ حل بتاتے ہوئے لکھتا رہا اور آج 4 سال پہلے کے نرسنگ سے موازنہ کرکے پیشے کے اندر نمایاں تبدیلی دیکر اطمینان اور دل خوش ہوتا ہے مگر جہاں خوشی ہوتی ہے وہاں لوگوں کے چمڑے اتارتے دیکر انتہائی دکھ بھی ہوتا ہے کیونکہ پرائیوٹ نرسنگ کالجز فی میں بے تحاشہ اضافہ کرکے والدین کے ساتھ طلباء کو بھی زہنی اذیت میں مبتلا کرچکے ہیں. کیا کوئی ان کالجوں کو لگام دینے والا ہے یا نہیں ؟

مجھے پتہ ہے یہ لوگ با اثر ہیں مگر میری نظر میں بھوکے ہیں جو غریب والدین کے چمڑے اتارنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے.

خیبر پختنخواہ کے اندر نرسنگ کالجز کی تعداد 100 سے تجاوز کر چکا ہے اور کالجز کی اجازت پاکستان نرسنگ کونسل سے ملتا ہے اب کس کو دینا چاہئے اور کس کو نہیں یہ الگ موضوع ہے اور آج موجودہ نرسنگ کالجز کی فی سٹریکچر کے بارے میں اپنے الفاظ تحریر کی شکل میں حکومت وقت اور پاکستان نرسنگ کونسل تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں.

کچھ دن پہلے ایک فیک آئی ڈی سے درست رسیدیں دیکھنے کو ملی, جس میں کے پی کے اندر نرسنگ کالجز کی خود ساختہ فی سٹریکچر دیکھ کر دل رنجیدہ ہوا یقیناً سب حیران و پریشان ہونگے کہ آخر یہ کس کی اجازت پر من پسند فی لے رہے ہیں اور وجوہات کیا ہیں؟

پاکستان نرسنگ کونسل نرسز کا ریگولیرٹی ادارہ ہے اور اس ادارے کی تمام زمہ داریوں میں سے ایک اہم زمہ داری فی سٹریکچر کا تعین بھی ہے. جب ادارہ کھولنے کی اجازت پی این سی طرف سے ملتا ہے تو مناسب و موزوں فی سٹریکچر کا تعین بھی انہی کی طرف سے ہونا چاہئے. پاکستان نرسنگ کونسل کا اس غیر منصفانہ روایے پر آنکھیں بند کرنا ان کی بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہے جو یقیناً افسوسناک فعل ہے مگر اس کے باوجود یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ یہ زمہ داری پاکستان نرسنگ کونسل کی ہے اور آپ نے پورا کرنی ہے مساوات کا نظام رائج کرکے ادارے کا وقار بڑھانا اس ادارے کے اندر کام کرنے والوں کی زمہ داری ہے.

میری پاکستان نرسنگ کونسل کیساتھ ساتھ حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ غیر معیاری کالجز پر پابندی لگانے کیساتھ پورے ملک کی نرسنگ کالجز کے لئے منصفانہ فی سٹریکچر متعین کرے تاکہ متواسط طبقے سے تعلق رکھنے والے والدیں کی پریشانی دور ہو اور طالب علموں کو فی کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے میں کوئی مشکلات نہ ہو کیونکہ سیکھنے کے دور میں فی جمع کروانے کی پریشانی سے پڑھائی متاثر ہوسکتی ہے اور ہم معاشرے اور خاص کر مریضوں کا خیال رکھنے کے لئے زہنی معذور شخص ہی دے سکتے ہیں جوکہ مریضوں کے ساتھ زیادتی ہوگی.

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔