مضامین

ٹوارزم کا فروغ وقت کی ضرورت…تحریر: اشتیاق احمد

کسی بھی ملک کی معیشت میں بہتری،استحکام اور زد مبادلے میں اضافے کا باعث بننے والے کئی ایک عوامل اور محرکات شامل ہوتے ہیں وہیں پہ ٹوارزم کے فروغ سے مندرجہ بالا فوائد کا حصول ممکن ہو سکتا ہے۔
پاکستان کو اللّٰہ رب العزت نے حسین وادیوں،دلکش سبزہ زاروں،بلند و بالا پہاڑوں،قدرتی حسن سے مالامال آبشاروں اور ان علاقوں میں بسنے والے منفرد تمدن اور ثقافت سے مالامال لوگوں سے نوازا ہے کہ ان کی ثقافت اور وہاں کی منفرد اور دل کو چھو لینے والے آمن و آشتی سے مزین تہذیب و تمدن سے لیس افراد کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرکے پاکسان کی لڑکھڑاتی ہوئی معیشت اور زرمبادلے میں اضافے کا سامان کیا جا سکتا ہے چونکہ پی ٹی آئی کی حکومت کی سیاحت اور ان علاقوں میں سیاحت کے فروغ کے اقدامات روز روشن کی طرح عیاں ہیں،ان علاقوں میں ٹوارزم کےفروغ کو موجودہ حکومت نے جتنی اہمیت دی ہے اس سے نظریں چرانا کسی بھی صورت ممکن نہیں۔
پی ٹی آئی کی حکومت نے سیاحت کو اپنا فرض آولین سمجھتے ہوئے ان علاقوں جن میں سوات،مالم جبہ،ناران کاغان،گلیات،کمراٹ اور چترال کو سیر و سیاحت کے لئے سر فہرست رکھا،ان علاقوں میں ملکی وغیر ملکی سیاحوں کا نہ رکنے والا قافلہ آمڈ آیا۔
وزیر اعظم عمران خان خود کئی دفعہ کہ چکے ہیں کہ ڈومیسٹک سیاحت کو فروغ دے کر ہم اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتے ہیں جو ان علاقوں میں بسنے والے افراد کی زندگیوں میں خوشحالی لا سکتی ہے اور وہاں کے باسیوں کیلئے تلاش روزگار میں کسی اور علاقے کی طرف رخ کرنے کی روش پر بھی قابو پا جا سکتاہے۔یورپ کے کئی ممالک کے علاوہ پاکستان کا دیرینہ دوست ملائیشیا ٹوارزم سے کروڑوں ڈالرز کما رہی ہے اور یہ خطیر رقم صرف واحد سمندری ٹوارزم سے حاصل کر رہا ہے ،ترکی پاکستان کی برآمدات سے بھی زیادہ ٹوارزم سے حاصل کر رہی ہے اور ایک اندازے کے مطابق چالیس ارب روپے اس مد میں ان کو مل رہی ہیں اور سوئزر لینڈ کو اس مد میں ساٹھ سے اسی ارب ڈال حاصل ہو رہے ہیں۔
چونکہ چترال بھی قدرتی حسن سے مالامال،اپنی منفرد ثقافت،تمدن،اپنی روایتی مہمان نوازی(جس کا اظہار کئی سربراہاں مملکت بھی کر چکے ہیں) وادی کیلاش اور اس میں بسنے والے اپنی مخصوص ثقافت کے حامل افراد،فری سٹائل پولو،پر آمن اور محبت سے سرشار لوگوں کی بستی ہے جہاں پر لہلہاتے کھیت،بلند وبالا پہاڑ،اپنی علاقائی مصنوعات،کیبل کار،نیشنل پارک،گرم چشمے،وادی بروغل اور وہاں کا فیسٹیول کے علاوہ حال ہی میں منعقد ہونے والی زائنی ٹاپ واقع موڑکہومیں نیشنل پیرا گلائیڈنگ کے مقابلے اس وادی کی اہمیت میں مزید چار چاند لگا دیتے ہیں اور ان کے علاوہ کئی اور علاقے ہیں جن کی طرف توجہ مبذول کراکے حکومت اور یہاں کے باشندے اپنی زندگی میں انقلاب لا سکتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی آمدنی بڑھ سکتی ہے اور ملکی معیشت،بیروزگاری پر خاطر خواہ قابو پایا جا سکے گا اور ان فیسٹیولز اور علاقوں کو وسائل و بین الاقوامی سطح پر میڈیا کوریج فراہم کرکے ان کی ثقافت اور تہذیب و تمدن کو اجا گر کیا جا سکتا ہے اور اللّٰہ کے فضل و کرم سے یہاں کے لوگوں کی پر آمن اور علاقے کی پر امن ہونے کی دلیل کو مزید تقویت مل جائے اور اس راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے اور موجودہ حکومت کی طرح آنے والی حکومتیں بھی اگر سیاحت کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں تو وہ وقت دور نہیں جب مملکت خدادا کی طرف سیاحوں کا نہ تھمنے والا قافلہ آمڈ آئے اور ان حسین و جمیل وادیوں کا رخ کریں جس کی وجہ سے ملکی معیشت میں استحکام،زر۔مبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے علاوہ ہمارے پیارے ملک کا بہتر امیج مزید اجاگر کیا جا سکے جو کہ اس مملکت خداداد کے بد خواہوں کو اپنی موت آپ مار دے گی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔