تازہ ترین

ایک دو دنوں میں چینی کی فی کلو قیمت 135 روپے سے کم ہو کر 90 روپے ہو جائے گی۔وزیراعلیِ محمود خان

پشاور(چترال ایکسپریس)صوبے میں چینی کی بڑھتی قیمتوں کو کم کرنے کے لئے ایک ہنگامی اجلاس جمعہ کے روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کو چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو معمول پر لانے کے لئے محکمہ خوراک اور انتظامیہ کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت صوبے میں چینی 135 روپے کلو کے حساب سے بک رہی ہے، جسے کم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں ۔اس سلسلے میں کراچی سے دس ہزار میٹرک ٹن درآمدی چینی کی کھیپ خیبرپختونخوا روانہ ہو گئی ہے اور ایک دو دنوں میں یہ کھیپ خیبرپختونخوا پہنچ جائے گی، یہ چینی 86 روپے فی کلو کے حساب سے ڈیلرز کو فراہم کی جائے گی، جو مارکیٹ میں 90 روپے فی کلو کے حساب سے عوام کو دستیاب ہوگی۔ مزید بتایا گیا کہ صوبے کے تمام اضلاع کو روزانہ ایک ہزار سے ڈیڑھ ہزار ٹن چینی فراہم کی جائے گی جسے صوبہ بھر میں چینی کی قیمتیں معمول پر آجائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ چینی کی ذخیرہ اندوزی سے ملوث عناصر کے خلاف فوری اور مو¿ثر کریک ڈاون شروع کی جائے اور چینی کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو سیدھا جیل بھیج کرانہیں قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ صوبائی اراکین کابینہ عاطف خان، شہرام ترکئی، تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش ، اشیاق ارمڑ، ریاض خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور متعلقہ انتظامی سیکرٹریوں نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں سرکاری آٹے کی قیمتوں کا بھی جائزہ لیا گیا اور اجلاس کے شرکاءکو بتایا گیا کہ اس وقت سرکاری آٹا 1100 روپے فی 20 کلو کے حساب سے مارکیٹ میں دستیاب ہے اور عوام کی آسانی کے لئے سرکاری آٹے کی تھیلی پر لفظ “سرکاری” واضح درج کیا جاتا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ سرکاری آٹا کی مقررہ نرخ پر فروخت کو یقینی بنانے کے لئے انتظامیہ کی طرف سے مسلسل مانیٹرنگ کی جاتی ہے اور گزشتہ دنوں سرکاری آٹا عام تھیلی میں ڈال کر مہنگا فروخت کرنے والے تین افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور ان کے خلاف مزید کاروائی کا عمل جاری ہے۔وزیراعلیٰ نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ سرکاری آٹا مہنگے داموں فروخت کرنے والوں کے خلاف آہنی ہاتوں سے نمٹنا جائے اور اس بات کو ہر لحاظ سے یقینی بنایا جائے کہ گندم پر حکومت کی طرف سے فراہم کی جانے والی ریلیف کا سو فیصد فائدہ عوام تک پہنچے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔