تازہ ترینمضامین

خطرہ ابھی ٹلا نہیں…محمد شریف شکیب

کورونا وائرس کی شدت میں بتدریج کمی آنے سے کاروبار زندگی معمول پر آنے لگا ہے۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق ملک میں مثبت کیسز کی شرح 1.44 فیصد ریکارڈ ہوئی ہے۔این سی او سی نے ملک کے مختلف شہروں میں ویکسی نیشن کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد60فیصد ویکسی نیشن والے شہروں سے پابندیاں اٹھانے کا اعلان کیاہے۔ جن میں پشاور، اسلام آباد،، گلگت، میرپور،راولپنڈی، اسکردو، ہنزہ، باغ، بھمبر، جہلم، غذر اور کھرمنگ کو بھی ویکسین شدہ شہر قرار دیاگیاان شہروں میں چالیس سے ساٹھ فیصد تک ویکسی نیشن مکمل ہوئی ہے۔ بہترین ویکسین شدہ شہروں میں شادی بیاہ کے اجتماعات پر عائدپابندیاں ہٹادی گئیں ان شہروں میں اسپورٹس گراونڈز، تجارت، ان ڈور ڈائننگ اور کاروبار پر سے پابندیاں بھی اٹھالی گئیں بہتر ویکسی نیشن والے شہروں کے اندر اور بین الاضلاعی سفر میں مسافروں کی تعداد 100فیصد کردی گئی۔40فیصد سے کم ویکسی نیشن والے شہروں میں اجتماعات، شادی بیاہ اور اسپورٹس گراؤنڈزپر پابندیاں 15نومبر تک برقراررہیں گی، ان شہروں میں تجارت،کاروبار، ان ڈورڈائننگ، سنیما،جم، مزارات اور ٹرانسپورٹ کے شعبے پر پابندیاں بدستور موجود رہیں گی۔کاروباراور میل جول کی اجازت ملنے کے باوجود مہلک وائرس کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ دو سال قبل چین سے کورونا کی وباء پھیلی تھی۔ چین نے فوری حفاظتی اقدامات کی بدولت وباء پر قابو پالیا تھا۔ مگر اب یہ وباء چین میں دوبارہ سر اٹھانے لگی ہے۔ کورونا سے بچ جانے والے واحد افریقی ملک ٹونگا میں بھی یہ وائرس پہنچ گیا ہے۔پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک کو کورونا کی پہلی لہر کے بعد دوسری، تیسری اور چوتھی لہر کا بھی سامنا کرنا پڑا۔دنیا بھر میں اس وباء کی وجہ سے جتنی اموات ہوئی ہیں وہ دوسری جنگ عظیم کے دوران مجموعی اموات سے زیادہ ہں۔ جانی نقصانات کے ساتھ اس خوفناک مرض نے دنیا کی معیشت کو تہہ و بالا کردیا ہے۔ ممالک کے درمیان تجارت بند ہونے سے اشیائے ضروریہ کی طلب اور رسد میں فرق کے باعث قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں امریکہ، جرمنی، فرانس، ہالینڈ اور برطانیہ جیسے صنعتی ترقی یافتہ اور متمول ممالک میں بھی مہنگائی نے لوگوں کی چیخیں نکال دی ہیں۔تیل کی دولت سے مالا مال عرب ممالک نے معاشی مسائل کی وجہ سے غیر ملکی ورکرز کی تعداد نصف سے بھی کم کردی ہے۔پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا سمیت ترقی پذیر ممالک کی معیشت ابھی تک ڈانواں ڈول ہے۔ پاکستان نے جزوی لاک ڈاؤن کے ذریعے کورونا کے منفی اثرات کو کافی کم کیا ہے۔ پہلی اور دوسری لہر کے دوران لوگوں نے حفاظتی اقدامات کا خصوصی خیال رکھا تاہم پابندیوں میں نرمی کے بعد لوگوں نے احتیاط برتنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ ماسک اور سینی ٹائر کا استعمال اب خال خال ہی نظر آتا ہے۔ سماجی فاصلے کا خیال رکھنا پرانی بات ہوگئی۔ خدمات اور سفری سہولیات کوویکسی نیشن سے مشروط کرنے کی بدولت اکثر لوگوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی ویکسی نیشن کروائی ہے۔این سی او سی نے بارہ سال تک کی عمر کے بچوں کی بھی ویکسی نیشن کی ہدایت کی ہے۔ اس کے باوجود بائیس کروڑ کی آبادی میں سے صرف ایک کروڑ افراد ویکسی نیشن کراچکے ہیں۔ اور یہ تعداد اور ویکسی نیشن کی رفتار تسلی بخش نہیں۔آج بھی ملک میں روزانہ مثبت کیسز کی تعداد ہزاروں میں ہے اور اب بھی ہزاروں افراد وینٹی لیٹر پر ہیں جب تک عالمی ادارہ صحت اور این سی او سی کی طرف سے وباء کے خاتمے کا اعلان نہیں کیاجاتا۔ احتیاط برتنا لازمی ہے۔ کمر توڑ مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل اسی وباء سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہمیں اپنی جان، اپنے والدین، بہن بھائیوں، بیوی بچوں اور عزیز و اقارب کی زندگی بچانے کے لئے احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے۔ ویکسی نیشن ضرور کروائیں ویکسین کی ایک ڈوز کی قیمت ساڑھے آٹھ ہزارروپے ہے ۔یہ سہولت حکومت کی طرف سے مفت فراہم کی جارہی ہے۔ جس سے بھرپور استفادہ کرنا چاہئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔