تازہ ترینمضامین

چترال،صنوبر کے نایاب درختان کو شدید خطرات لاحق۔۔صنوبر کے گیلے درختان کی بے دردی سے کٹائی۔تحریر محمد ایوب

آجکل فیس بک پر چترال گول نیشنل پارک میں مارخوروں کی تعداد گھٹنے کا خوب چرچا جاری ہے جسمیں وائلڈ لائف کے ذمہ داروں کو خوب نشانہ بنایا گیا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کی توسط سے آج اس جیسے ایک ایسے سنگین صورتحال کا تذکرہ کرنا چاہوں گا جسکا تعلق فارسٹ ڈپارٹمنٹ سے ہے۔ جی ہاں مارخور کی طرح آجکل صنوبر کے نایاب درختان کو شدید خطرات لاحق ہیں اور سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو معدومیت سے دوچار ہمارے ان قیمتی ذخائر کو ناپید ہونے میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔ چترال کے بعض دیہات میں انسانی مداخلت سے بچے کھچے صنوبر کے تھوڑے بہت درختان اب بھی موجود ہیں جن کی انسانی ہاتھوں بیخ کنی جاری ہے اور اگر محکمہ جنگلات کے ذمہ دار و دیگر اہلکاران کی سستی وغفلت یونہی جاری رہی تو آنے والی نسلوں کو صنوبر کے درخت کی شناخت کتابوں میں ہی ملیں گے۔
بحیثیت جنگلات کے ایک طالبعلم اور قریب دس پندرہ سال سوشل فارسٹری اور وائلڈ لائف میں رہنے کے بعد مجھے مارخور اور صنوبر کی اہمیت کا خوب ادراک ہے۔
پچھلے دنوں مجھے گولین ویلی جانے کا اتفاق ہوا لیکن وہاں پر صنوبر کے گیلے درختان کی جس بے دردی سے کٹائی کا حال میں نے دیکھا شاید زندگی بھر مجھ سے حضرت انسانی کی یہ درندگی بھولا نہ پائے گا۔ گاوں بیرموغ سے گزرتے ہوئے صنوبر کے میچور اور جڑوں سے اکھاڑ کر جمع کردہ تردرختان کے لکڑیوں پر نظر پڑی تو دل بے اختیار خون کے آنسو رونے لگا۔ دوران سفر چند ایک گھروں میں جانے کا بھی اتفاق ہوا۔ معزز ناظرین یقین جانیں ہر گھر پر منوں کے حساب سے صنوبر کے خشک و تر سوختی لکڑی اسٹاک کئے دیکھا۔ اپنے سفر کے دوران اندازہ یہ لگایا کہ پورے گولین ویلی میں ستر سے اسی فیصد علاقہ مکین صنوبر درختان کی بیخ کنی میں ملوث ہیں اور اگر محکمہ جنگلات اس کی روک تھام میں کوئی کلیدی کردار آدا نہ کر پایا تو چند ایک سالوں کے دوران یہ ختم ہونے والے ہیں۔ حالانکہ گاوں استور میں اے کے آر اس پی کا بنایا 500kv کا ہائیدرل پاور اور گاوں بیرموغ میں اس آر اس پی کا بنایا گیا 2 میگاواٹ بجلی گھر کام کر رہے ہیں جن سے وافر مقدار میں سستی ترین بجلی پوری ویلی مکینوں کو دستیاب ہیں اور وہ ہر قسم کے فوائد ان سے لے رہے ہیں۔ لھذا علاقے میں ہیٹنگ کے متبادل ذرائع کے ہوتے ہوئے ان قیمتی ذخائر کی بے دردی سے استعمال علاقے کے باشندوں اور متعلقہ محکمے کی کار کردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
چترال کے میرے سنیئر فارسٹرز دوست،محترم عزیز علی، محمد اسمعیل، خورشید احمد، اعجاز احمد، شفیق اللہ خان، سید نذیر، ریاض احمد و دیگر دوست سو سے ایک سو پچاس سال بعد میچور بننے وال یصنوبر کی اہمیت افادیت پر خوب روشنی ڈالیں گے جو ظالم سماج کے ہاتھوں آج معدومیت کا شکار ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔