تازہ ترینمضامین

دادبیداد…خوراک کی کمی کا خد شہ…ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

دو خبریں ایک ساتھ آئی ہیں پہلی خبر یہ ہے کہ عالمی ادارہ خوراک (WFP)نے افغا نستا ن میں خوراک کی کمی سے پیدا ہو نے والے قحط کی پیشگوئی کی ہے دوسری خبر یہ ہے کہ ٹریڈنگ کار پوریشن آف پا کستان نے صو بہ خیبر پختونخوا کو گندم کی فرا ہمی سے معذرت کر تے ہوئے 11ارب 94کروڑ روپے کے سابقہ بقا یا جا ت کی فوری ادائیگی کا مطا لبہ کیا ہے گویا ڈیورنڈ لائن کے ”دونوں طرف آگ ہے برابر لگی ہوئی“ اور یہ کوئی دوسری آگ نہیں پیٹ کے جہنم کی آگ ہے اقوام متحدہ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں اس خد شے کا اظہار کیا ہے کہ اگلے سال کی دوسری ششما ہی تک افغا نستا ن کی 55فیصد آبادی یعنی 2کروڑ 30لا کھ افراد کو شدید قحط کی صورت حال کا سامنا ہو گا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غذائی اجنا س کی قلت کے ساتھ ساتھ غر بت اور بے روز گاری کی شرح میں بھی مسلسل اضا فہ ہو رہا ہے گزشتہ ڈھا ئی مہینوں کی غیر یقینی صورت حال کے پیش نظر افغا نستان میں 30لا کھ ہنر مند مزدور اور کاریگر بے روز گار ی سے دو چار ہوئے ہیں یہ آنے والے سال کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے عالمی نشر یا تی ادارہ بی بی سی نے اپنے حا لیہ پروگرام میں عالمی ادارہ خوراک (WFP) کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلے (David Beasley) کا بیان نشر کیا ہے بیان میں عالمی ادارہ خوراک کے سر براہ نے امریکہ، یو رپ اور دیگر خوشحال یا متمول اقوام سے انسا نیت کے نا م پر درد مندانہ اپیل کی ہے کہ افغا نستان میں قحط کا شکار ہونے والے بچوں اور بچیوں کو اپنے بچوں اور بچیوں کی نظر سے دیکھو اور دل کھول کر اس مد میں امداد فراہم کرو تا کہ 60کروڑ 80لا کھ ڈالر کی مطلو بہ رقم مہیا ہو سکے نیوز ڈیسک کی رپورٹ یہ ہے کہ افغا نستا ن4کروڑ کی ابادی کا زرخیز ملک ہے اس ملک کی زمین 1978تک سونا اگلتی تھی گندم، جوار، چاول، جو اور دالوں کی زبردست فصلیں ہوتی تھیں یہ ملک انگور، انار، بادام، تر بوز، کشمش وغیرہ کے لئے مشہور تھا 43سالوں کی خا نہ جنگی اور 20سالوں کی براہ راست امریکی حکمرا نی کے بعد ملک کی 55فیصد آبادی قحط سے کیوں دو چار ہوئی؟ اس کے تین بڑے اسباب تھے پہلا سبب یہ تھا کہ افغا نستان کے دیہی اور شہری علا قوں سے ایک کروڑ کے لگ بھگ ابادی وطن چھوڑ کر نقل مکا نی پر مجبور ہوئی ان میں سے 50لا کھ افغا نی اب بھی وطن سے با ہر ہیں اس نقل مکا نی نے زراعت اور با غبا نی کو متا ثر کیا دوسرا سبب یہ تھا کہ 2001میں چار مہینوں تک بی- 52طیا روں کی کارپٹ بمباری میں ہر مو آب(Moab) اور ڈیزی کٹر (Dezycutter) بم نے 20فٹ کی گہرائی اور دوہزار مر بع فٹ کے احا طے تک زمین کو فصل اور سبزے کے لئے نا کا رہ بنا دیا رہی سہی کسر بارودی سرنگوں نے پوری کی تیسرا سبب یہ تھا کہ انا ج اور با غا ت کی جگہ پوست کی کا شت کو فروغ حا صل ہوا چنا نچہ افغا نستان اپنی خوراک کی ضروریات کے لئے بیرونی امداد کا محتاج ہوا دوخبروں کی روشنی میں ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف قحط کے شدید خدشات ہیں، اگر ہماری صو بائی حکومت نے اپنے ذمے کم و بیش 12ارب روپے کے واجبات ادا کئے تو ہم قحط سے بچ سکتے ہیں تا ہم افغانستان میں خوراک کی کمی کا خد شہ بر قرار رہے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔