تازہ ترینمضامین

نادرا آفس اپر چترال میں عوام کی بے بسی۔…ذاکرمحمد زخمی

اپر چترال ضلع کم و بیش اٹھ ہزار مربع کلو مٹر پر پھیلا علاقہ ہے جہاں کھونگیر دیرو بوہت سے بروغل،ریچ تورکھو،شاگروم تریچ اور شاڈوک لوٹ اویر تک احاطہ کرتی ہے ڈھائی لاکھ سے زیادہ آبادی پر محیط ہے۔اس وسیع اور دور افتادہ علاقے میں جہاں بہت سارے مسائل ہونگے لیکن ایک مسلہ جو سالوں سے عوام کو درپش ہے اور حل ہونے کا نام نہیں لیتا وہ نادرہ میں کارڈ بنوانے یا رجسٹریشن کرانے کا ہے۔عوام نادرہ اپر چترال کے باہر روڈ پر جس طرح ذلیل وخوار ہوتے ہیں وہ اللہ بہتر جانتا ہے۔لگتا یوں ہے کہ اس مسلہ کا حل پاکستان میں کسی کے پاس نہیں اور یوں ذلیل و خوار ہونا عوام کامقدر ہے۔پورا اپر چترال میں یہ واحد نادرہ آفس ہیڈ کوارٹر بونی میں واقع ہے۔اس کے علاوہ تورکھو،موڑکھو مستوج یا یارخون میں اس کا کوئی شاخ نہیں۔حکومتِ وقت بضد ہے کہ لوگ اسی طرح خوار ہوتے رہے اور مہنگائی کے اس بدترین دور میں مزید بدحالی سے دوچار ہو۔سکون کا کوئی لمحہ ان کو میسر نہ ہو۔ اور ہمیں بدعائیں ملتے رہے۔اس واحد نادرہ آفس میں نمازِ فجر کے بعد قطار لگنے شروع ہو جاتے ہیں اور جب دفتر کھلتی ہے تو پہلے ائیے پہلے پائیے کے بنیاد پر لوگ سینکڑوں سے تجاوز کرتے ہیں۔قریب گاون والے تو نمبر لینے میں کامیاب ہوتے ہیں باقی دور کے مسافر بروغل،یارخون،ریچ،تریچ یا لوٹ اویر والوں کی شامت اس وقت اتی ہے جب وہ گاڑی دو طرفہ بک کرکے جان کے مارے دفتر پہنچتے ہیں تو ایک جلوس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اب سرِ راہ رسوائی ان کا مقدر بنتا ہے۔تنگ ترین روڈ کے دونو اطراف جلسہ گاہ کا منظر پیش کرتا ہو ا دیکھائی دیتا ہے۔اگر اس وقت بلدیاتی الیکشن کا اغلان ہوتا ہے تو امیدواروں کو دوسرے جگہوں پر جانے کی بھی ضرورت نہیں پڑتے اور باری باری وہاں خطاب کرکے اپنے منشور ان تک پہنچاکر اپنا وقت اور پیسہ بچاتے لیکن شومئی قسمت امیدواروں کی کہ الیکشن ملتوی ہوا۔دفتر کے اندر محدود عملہ صبح سے شام تک اپنی فرائضِ منصبی نبھانے میں مصروف رہتے ہیں اس میں شاید چائے اور نماز کا وقفہ بھی ان کو میسر نہیں۔ساتھ مفت میں لعن طعن سن کر ذہنی اذیت میں جب شام کو گھر لوٹتے ہیں تو رات نہ ڈھلنے کی دعا کرتے ہیں مگر رات کو ہر صورت دن میں بدلنا ہے اور صبح دفتر کا رخ کرنا ہے۔اسٹاف کے ساتھ بھی کوئی جادوئی عمل نہیں کہ لمحوں میں سب کو فاریع کرکے سکون کی لمحات پا سکے۔ اسٹاف کے حتہ المقدور کوششوں کے باوجود روزانہ اسی80 سے100سو بندے اگلے صبح کے انتظار میں ناکام و نامراد کسی رشتہ دار کے ہاں ٹھیرتے یا ہوٹل کا رخ کرتے ہیں۔گاڑی والوں کو دو طرفہ کرایہ ادا کرنے کے باوجود واپس گھر پہنچ کر ارام کرنا ان کو نصیب نہیں ہوتا۔ اس طرح مہنگائی کے اس عظیم دور میں دو طرفہ کرایہ اور ہوٹل کا کرایہ ساتھ پیٹ کی آگ کو بھجانے میں کتنا خرچہ اتا ہے اس کا اندازہ سب کو ہے۔اس میں عجیب صورت اس طرح بھی ہے کہ جب کوئی رجسٹریشن کے لیے دفتر اتاہے تو کہا جاتا ہے کہ سربراہ کو لیکر حاضری دے۔ توجب پچاس یاساٹھ سال کا عمررسیدہ سربراہ سپورٹنگ اسٹیک لیے دفتر میں داخل ہوتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ زبان کی خانے میں اپ کا مادری زبان کھوار یا چترالی کے بجائے بلتی یا کچھ اور لکھا گیا ہے لہذا اسے درست کرنے لیے آپ کو سو روپے ادا کرنے پڑینگے اور اس کے بعد اپ کے بچوں کی رجسٹریشن ہوگی۔پہلے یہ پچاس،ساٹھ سال میں بندہ تین بار یا زیادہ شناختی کارڈ بنایا ہوتا ہے اس میں مادری زبان کے خانہ میں وہ ضرور کھوار یا چترالی لکھا ہوگا استفسار پر بتایا جاتا ہے مینول سے کمپیوٹیرائز ہوتے وقت غلطی ہوئی۔اب اس غلطی کا زمہ دار کون ہے کونسی نادیدہ قوت پُشت در پُشت کے اس چترالی باشیندے کو چترال سے نکال کر بلتیستان میں پھینک دیا ہے۔کسی کو کچھ معلوم نہیں لیکن جو سزا چترال کے غریب عوام بھگت رہی ہے اس ناکردہ غلطی پر اس کا اندازہ خود کریں جو اوپر بیاں ہو چکے ہیں اپنے بچوں کو پاکستانی ثابت کرنے کے لیے کیا کیا پاپیڑ بیلنا پڑتا ہے۔اس کے لیے گرمی،سردی،گردو غباراور طویل انتظار کی مصیبتیں سب کچھ برداشت کرنے کے بعد تب جاکے پاکستانی بننے کا مقام پایا جاتا ہے۔ان تمام کے باوجود جو صبح سے شام تک روڈ پہ اس انتظار میں رہتا ہے کہ اِدھر اُدھر ہوجاوں تو باری کوئی اور لے سکتا ہے تو پھیر سے اکے آخری نمبر پہ جگہ پانا ہے تو اپنے جگہے سے ہل بھی نہیں سکتا ہے۔تو اندازہ لگانا آسان ہےکہ وہ کتنی صعوبتیں برداشت کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ انسان ہے خاص کر خواتین بچے،بیمار اور ضعیف العمر لوگ وہ کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔ ان کے بھی مجبوریات ہوتے ہیں انہیں بھی واش روم جانے کی ضرورت پڑتی ہے۔لیکن خدا کے کسی بندے نے آج تک احساس تک نہ کی ان کی ان مجبوریوں کو ایم این اے کے علم میں بھی ہے،ایم پی اے بھی خوب جانتا ہے۔ ڈی سی کے ہر کھلی کچہری میں یہ دہریا جاتا ہے کہیں پریس فوروم ہو وہاں آواز بلند کی جاتی ہے۔ایجنسی والے روز روز یہ تما شا دیکھتے ہیں۔ پر اس مسلے پر کسی نہ یا تو توجہ نہ دی یا اسے مسلہ ہی نہیں سمجھا ۔حلانکہ کی روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کی وقت پیسے ضائع ہو جاتے ہیں ذہنی کوفت ان کے علاوہ ہے۔ڈی سی اپر چترال نادرہ آفس دورہ کرکے مسلہ حل کرانے کی یقین دہانی کرچکے ہیں لیکن مسلہ اتنا آسانی سے حل ہونا دیکھائی نہیں دیتا۔ اس لیےچیرمین نادرہ سے عاجزانہ درخواست ہے اس مسلے کو سنجیدہ لیا جاکر حکومتِ وقت کی اس دعوے کو سچ ثابت کریں کہ ،،انصاف کی حصول دہلیز پر،،اس کے لیے موڑکھو،تورکھو اور مستوج میں دفترات قائم کی جائے تب تک ان علاقوں میں موبائل ٹیم کے ذریعے سہولیات پہنچانے کا فوری انتظام ہو۔تاکہ عوام سکون کا سانس لے سکھیں۔اس وقت موسم بھی برف باری کا شروع ہو چکا ہے مزید اپر چترال کے غریب عوام کو مصیبت میں نہ ڈالا جائے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔