تازہ ترین

پی ڈی ایم کے پشاورجلسے پروزیراعلی خیبر پختونخوا محمودخان کا ردعمل

جلسہ مکمل طور پرایک فلاپ اورناکام شو قرار

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے ہفتے کے روز پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے زیر اہتمام پشاور میں ہونے والے جلسے کو مکمل طور پر ایک فلاپ اور ناکام شو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کی ساری جماعتیں مل کر پورے ایک مہینے کی تیاریوں کے باوجود بھی ایک ہزار سے زائد لوگ اکٹھے نہیں کر سکے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے عوام پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کے ساتھ ہیں اور انہوں نے پہلے کی طرح اس دفعہ بھی پی ڈی ایم کو یکسر مسترد کردیا۔ پی ڈی ایم کے جلسے سے متعلق یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعلی نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم مسترد شدہ اور سیاسی بے روزگاروں کا ٹولہ ہے، ان کے پاس عوام کو بتانے اور دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے اور وہ اس طرح کے ناکام سرگرمیوں کے ذریعے اپنی ڈوبتی ہوئی سیاسی کشتی کو سہارا دینے کی کوشش کررہے ہیں لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ خیبر پختونخوا سمیت پورے ملک کے عوام نے ان کے بیانیے کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ محمود خان کا کہنا تھا کہ پشاور جلسے کی بری طرح ناکامی سے پی ڈی ایم والوں کی آنکھیں کھلنی چاہیے اور انہیں اپنی شکست برملا تسلیم کرلینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام 2018 کی طرح اب بھی پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں اور 2023 کے عام انتخابات میں بھی صوبے کے عوام ایک بار پھر پی ٹی آئی اور عمران خان پر بھرپوراعتماد کا اظہار کریں گے۔ وزیراعلی نے مزید کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات اور عوام دوست پالیسیوں کی بدولت پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہورہاہے، مہنگائی کا راگ آلاپنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ موجودہ مشکل حالات ان کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ہیں اور یہ بات باشعور عوام بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال میں حکومت کوعوام کو درپیش مشکلات کا بھر پور احساس ہے، عمران خان کی قیادت میں موجودہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بھر پور اقدامات اٹھا رہی ہے اور بہت جلد نیا پاکستان کارڈ کی صورت میں عوام کو ریلیف دینے کے لئے ایک جامع پیکیج کا اجراء کیا جائے گا۔…

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔