تازہ ترینمضامین

ڈریپ کا نیا ضابطہ اخلاق۔۔۔محمد شریف شکیب

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان نے فارماسیوٹیکل اور ہربل کمپنیوں اور ڈاکٹروں کے لئے اخلاق جاری کردیا ہے جس کے تحت دوا ساز کمپنیوں کو پابند بنایاگیا ہے کہ وہ مریضوں کے لئے ادویات تجویز کرنے کے بدلے ڈاکٹروں کو نقد رقوم،انعامات کی صورت میں گاڑی، بنگلے اور دیگر قیمتی تحائف نہیں دے سکتیں۔فارماسیوٹیکل کمپنیوں اور ڈاکٹروں کے رابطہ کار پر مبنی ضابطہ اخلاق وفاقی کابینہ کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے۔دوا ساز ادارے ڈاکٹروں کے اہل خانہ اور دیگر افراد کے سفری اخراجات برداشت نہیں کریں گے۔ ڈاکٹروں کواپنے محکمے کی طرف سے این او سی لائے بغیر غیر ملکی سفر کے اخراجات نہیں دئیے جائیں گے۔تعلیمی اور سائنٹیفک کانفرنسوں کے لیے رقوم کی فراہمی بھی روک دی گئی۔ تمام طبی تعلیمی کانفرنسیں ملک کے اندر منعقد کی جائیں گی اور طبی کانفرنسوں کے دوران تفریحی پروگرام، مہنگے کھانے اور تحائف دینے پر بھی پابندی ہوگی۔ ضابطہ اخلاق کے تحت دوا ساز اداروں کو ڈاکٹروں کے ذاتی تفریحی اور سفری اخراجات اور ان کے خاندانوں کے لئے تفریحی سرگرمیوں کے انعقاد پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کی نگرانی کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔بعد از خرابی بیسیار ہی سہی، ڈریپ کا نیا ضابطہ اخلاق عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لئے ناگزیر تھا۔ پاکستان کے ہر شہر کی گلی کوچوں میں ادویات تیار کرنے والے ادارے قائم کئے گئے ہیں جو اپنی مصنوعات کی فروخت کے لئے ڈاکٹروں کو پرکشش مراعات دیتے ہیں۔یہ دوائیاں ڈاکٹروں کے کلینک سے متصل مخصوص میڈیکل سٹورز پر ہی دستیاب ہوتی ہیں۔یہ ادارے نیشنل اور ملٹی نیشنل مشہور کمپنیوں کا لیبل لگاکر جعلی ادویات تیار کرتے ہیں اور انہیں اصلی ادویات کی قیمت پر مریضوں کو فراہم کیاجاتا ہے۔ غیر معیاری خام مال استعمال کرکے آٹھ دس روپے کی دوائی تیار کرکے چار پانچ سو روپے میں فروخت کی جاتی ہے۔ جس میں ڈاکٹر، میڈیکل سٹور کے مالک اور کمپنی کے نمائندوں کا حصہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر حضرات ہر مریض کو دس بارہ مختلف اقسام کی دوائی تجویز کرتے ہیں جان بچانے کے لئے غریب لوگ قرضہ لے کر بھی وہ دوائیاں خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں ان غیر معیاری اور جعلی ادویات کے استعمال سے مرض ٹھیک ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کرتا ہے۔اور ڈاکٹروں کو جاں بہ لب مریض کا آپریشن کرکے مزید ہزاروں روپے کمانے کا موقع مل جاتا ہے۔ طبی کانفرنسوں میں شرکت کے لئے سالانہ سینکڑوں ڈاکٹر بیرون ملک سرکاری خرچے پر جاتے تھے۔ جن پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اور فائدہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ڈریپ کی طرف سے اندرون ملک طبی کانفرنسوں کے انعقاد کے احکامات سے جہاں میڈیکل کے شعبے میں تحقیق کو فروغ ملے گا وہیں میڈیکل کے طالب علموں کو بھی فائدہ ہوگا۔ڈریپ کو صرف ضابطہ اخلاق جاری کرنے پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہئے۔بلکہ اس پر سو فیصد عمل درآمد کو بھی یقینی بناناہوگا تاکہ اپنے ذاتی مالی مفادات کے لئے انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایاجاسکے اور طب کے مقدس اور معتبر شعبے پر لوگوں کا اعتماد بحال ہوسکے۔جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کو بھی عام آدمی کی قوت خرید تک لانے کے لئے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔خود سرکار کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ گذشتہ دو سالوں کے دوران 200اقسام کی ادویات کی قیمتوں میں 300فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ جن میں گلی کوچوں میں تیار ہونے والی ادویات بھی شامل ہیں۔ ادویات کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ دکھی انسانیت کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ عوام کی جان و مال اور عزت و آبروکا تحفظ حکومت کی سب سے اولین ذمہ داری ہے اور دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنا بھی اس ذمہ داری میں شامل ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔