تازہ ترینمضامین

چترال یونیورسٹی کے مرکزی کیمپس کی تعمیر…(تحریر: ڈاکٹر ظہیر الدین بہرام)

چترال یونیورسٹی کے مرکزی کیمپس کی تعمیر
(تحریر: ڈاکٹر ظہیر الدین بہرام)

چترال میں یونیورسٹی کا قیام اور اس کے لیے باقاعدہ کیمپس کی تعمیر علاقے کے لوگوں کا دیرینہ خواب ہے۔ یونیورسٹی کے قیام کا اعلان اور ایک پروجیکٹ کے طور اس کے سرگرمیوں کا آغاز چند سال قبل کیا گیا تھا۔ اب باقاعدہ طور پر یونیورسٹی کا چارٹر صوبائی اسمبلی سے پاس ہو چکا ہے اور صوبائی گورنر بحیثیت چانسلر اس کے قیام کی منظوری دے چکے ہیں نیز پروجیکٹ ڈائریکٹر کی جگہ وائس چانسلر کی تقرری بھی عمل میں لائی گئی ہے تاہم یونیورسٹی کے لیے باقاعدہ کیمپس بنانے کا منصوبہ ابھی تک عملی جامہ پہنانے کا منتظر ہے۔ اس حوالے سے کوششیں جاری ہیں اور منصوبے پر کام ہو رہا ہے مگر عام لوگوں کے نزدیک اس کی رفتار تسلی بخش نہیں۔ جب سے چترال یونیورسٹی کے مرکزی کیمپس کی تعمیر کی باتیں ہو رہی ہیں اس وقت سے اس کے بارے میں بعض نادان دوستوں کی طرف سے یک طرفہ مہم چلائی جا رہی ہے اور اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لیے یونیورسٹی کی تعمیر اور اس سے متعلق دیگر امور کے حوالے سے حقائق کو مسخ کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا ہےجسے اس یونیورسٹی کے خلاف سازش کرنے کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔ یونیورسٹی کی تعمیر ایک سنجیدہ اجتماعی کام ہے اس لیے اس حوالے سے غیر جانبدارانہ تجزیہ کرنے اور غیر متنازعہ موقف سامنے لانے کے ساتھ ساتھ اس کے تمام پہلؤوں کا گہرائی سے جائزہ لینے اور کسی موقف کے بارے میں حتمی رائے قائم کیے بغیر دیانتدارانہ رائے دینے کی ضرورت ہے۔ اس مختصر تحریر میں اس مسئلے کے تمام پہلؤوں کا کما حقہ جائزہ لینا ممکن نہیں تاہم قارئین کی معلومات کو درست کرنے کی غرض سے کچھ اہم امور کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
پس منظر:
چترال کا خطہ صوبائی اور مرکزی دار الحکومت اور بڑے شہروں سے دور ہندوکش کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں موجود ایک الگ تھلگ اور دور افتادہ علاقہ ہے جو قیام پاکستان سے قبل اس خطے کی ایک بڑی ریاست تھی۔ قیام پاکستان کے بعد یہ دو اضلاع یعنی ضلع چترال اور ضلع مستوج پر مشتمل الحاق شدہ ریاست کے طور پر پاکستان کا حصہ رہی، جسے 1969ء میں پاٹا ریگولیشن کے تحت صوبائی انتظام کے تحت قبائلی علاقے (Provincially Administrated Tribal Area) کے طور پر اس وقت کے شمال مغربی سرحدی صوبے کا ایک ضلع بنایا گیا۔ حالیہ حکومت کے دور میں اسے ایک بار پھر دو اضلاع یعنی زیرین اور بالائی چترال میں تقسیم کیا گیا ہے۔
تعلیم کے اعتبار سے چترال بڑا زرخیز خطہ مانا جاتا ہے اور یہاں کی شرح تعلیم صوبے کے کئی شہری اور ترقی یافتہ علاقوں کی نسبت بہت اچھی ہے نیز یہاں کے باسی صوبائی، ملکی اور عالمی سطح پر تعلیم سمیت کئی شعبوں میں نمایاں مقام کے حامل ہیں۔ تاہم دور افتادہ ہونے کی وجہ سے یہاں پر اعلی تعلیم کے حوالے سے بہت مسائل رہے ہیں جس کے پیش نظر یہاں یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ ایک عرصے سے کیا جا رہا تھا۔ انہی مطالبات کے نتیجے میں ابتدائی طور پر یہاں عبد الولی خان یونیورسٹی مردان اور بے نظیر بھٹو یونیورسٹی شرینگل کے علاقائی کیمپس قائم کیے گئے۔ چند سال قبل چترال یونیورسٹی کے پروجیکٹ اور پھر باقاعدہ یونیورسٹی کے قیام کے فیصلے کے بعد مذکورہ بالا دونوں یونیورسٹیوں کے علاقائی مراکز کو ان کے طلبہ اور املاک کے ساتھ اس میں ضم کیا گیا۔ اس وقت سین لشٹ میں واقع عبد الولی خان یونیورسٹی مردان کے علاقائی مرکز کو (جو بنیادی طور پر فنی تعلیم کے ایک ادارےکی عمارت میں قائم تھا) چترال یونیورسٹی کا موقت (Temporary) کیمپس بنایا گیا۔ چترال یونیورسٹی کی مستقل عمارت اور مرکزی کیمپس کی تعمیر کے لیے منصوبے بنتے رہے اور کوششیں جاری رہیں۔ چترال یونیورسٹی اور ضلعی انتظامیہ کے ذمہ داران کے نزدیک موجودہ موقت کیمپس سے متصل سین لشٹ کا مقام مرکزی کیمپس کی تعمیر کے لیے اولین ترجیح رہی ہے جو اپنے محل وقوع کے اعتبار سے بہت مناسب سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سید آباد (اسپاغلشٹ) کے مقام پر شرینگل یونیورسٹی کے علاقائی کیمپس کے لیے اُس وقت کی خریدی ہوئی زمین (جو فی الوقت چترال یونیورسٹی کی ملکیت ہے) پر کیمپس بنانے کی تجویز بھی زیر غور رہا ہے لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ۔ تاہم اس دوران کچھ لوگوں کی طرف سے سید آباد میں کیمپس بنانے کے لیے مہم شروع کی گئی اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہاں کیمپس بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا جسے اس وقت کے پروجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری صاحب نے ذاتی مفادات کے تحت تبدیل کرکے سین لشٹ میں ہی کیمپس بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ یاد رہے کہ چترال یونیورسٹی اور خصوصا سین لشٹ کیمپس کے خلاف مہم چلانے والے احباب نہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں کام کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں اور نہ ہی تعمیراتی کاموں اور معاشرتی علوم کے ماہرین میں شمار ہوتے ہیں۔ بعض لوگوں کی طرف سے چترال یونیورسٹی کا مین کیمپس بالائی چترال میں واقع قاقلشٹ کے مقام پر تعمیر کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ رائے رکھنا یا مطالبہ کرنا اپنی جگہ لیکن نہ تو کیمپس قاقلشٹ میں بنانے کے لیے بالائی چترال والوں کی طرف سے کوئی مہم چلائی گئی ، نہ ہی سین لشٹ کے موقت کیمپس کو مستقل کیمپس بنانے کے لیے چترال ٹاؤن اور اس کے مضافات خصوصا سین لشٹ کے قریبی علاقوں کے مکینوں کی طرف سے کوئی پھرتی دکھانے کی کوشش کی گئی ہے اور نہ ہی ان دونوں موقف والوں کی طرف سے یونیورسٹی اور ضلعی انتظامیہ کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی ہے۔
اب جبکہ یونیورسٹی کا باقاعدہ قیام عمل میں لایا گیا ہے اور اس کے لیے وائس چانسلر کی تعیناتی بھی ہو چکی ہے تو مین کیمپس کی تعمیر کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے اور اس کا مطالبہ بھی روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ چند دن قبل یونیوورسٹی کا مین کیمپس سین لشٹ میں بنانے کے مبینہ سرکاری اعلان کے بعد سید آباد میں کیمپس قائم کرنے کے خواہشمند عناصر نے ایک مرتبہ پھر واویلا شروع کیا ہے اور مختلف قسم کی بے سر و پا دلیلیں پیش کرکے اس حوالے سے رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ذیلی سطور میں کیمپس کی تعمیر کے بارے میں تمام تجاویز اور امکانات کا غیر جانبدارانہ کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔
سید آباد میں کیمپس بنانے کی تجویز:
چترال شہر سے جنوب کی طرف تیس پینتیس کلومیٹر کی مسافت پر واقع نسبتا غیر آباد گاؤں سید آباد (سابقہ اسپاغلشٹ) میں بے نظیر بھٹو یونیورسٹی شرینگل کے علاقائی کیمپس کے لیے تقریبا ایک سو ساٹھ کنال زمین خریدی گئی تھی جو چترال یونیورسٹی کے قیام کے بعد اس کی ملکیت بن چکی ہے۔سید آباد کے قریبی گاؤں ایون اور جنوبی تحصیل دروش کے بعض افراد کی طرف سے چترال یونیورسٹی کا مین کیمپس یہاں بنانے کے لیے سوشل اور پرنٹ میڈیا میں مہم کافی عرصے سے چلائی جا رہی ہے۔ اس تجویز اور مطالبے کے حق اور مخالفت میں پیش کیے جانے والی نکات حسبِ ذیل ہیں:
سید آباد کیمپس کے حق میں پیش کیے جانے والی نکات:
1. چترال دیر کے مرکزی شاہراہ پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں پہنچنے میں آسانی ہوگی۔
2. اس مقام پر کافی مقدار میں زمین موجود ہے جو نسبتا غیر آباد ہونے کی وجہ سے بغیر کسی رکاوٹ کے یونیورسٹی کی تعمیر اور توسیع کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے یوں یہ مستقبل میں ایک مکمل تعلیمی شہر بن سکتا ہے۔
3. یہ یونیورسٹی چونکہ زیرین چترال کے لیے بنائی گئی ہے لہذا زیرین چترال کے دو بڑے شہروں یعنی چترال اور دروش کے تقریبا وسط میں واقع ہونے کی وجہ سے تمام علاقوں کے لوگ اس سے یکسان مستفید ہو سکتے ہیں۔
سید آباد کیمپس کی مخالفت میں پیش کیے جانے والی نکات:
1. چترال کے شہری آبادی اور گنجان آباد علاقوں سے بہت دور واقع ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی سے وابستہ لوگوں (طلبہ، اساتذہ اور ملازمین) کو سید آباد پہنچنے میں بڑی دقت ہوگی۔ یونیورسٹی ابتدائی مراحل میں ہونے کی وجہ سے لوگوں کے نقل و حمل (ٹرانسپورٹ) کا خاطر خواہ انتظام نہیں کر سکتی اس لیے لوگ لا محالہ پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹیکسی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کے رحم و کرم پر ہوں گے جن کا استحصالی ذہن اور غیر متعاون رویہ سب کو معلوم ہے۔
2. بنیادی ضروریات اور شہری سہولیات کے فقدان کی وجہ سے یونیورسٹی والوں کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
3. قریب میں کوئی بازار یا مارکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے بنیادی ضروریات کے سامان اور لازمی اشیائے صرف کے لیے چترال یا دروش شہر جانا پڑے گا۔
4. قریبی علاقوں میں رہائشی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے یہاں ہوسٹل اور رہائشی کالونیوں کی تعمیر تک (جس میں کئی سال لگ سکتے ہیں) طلبہ، اساتذہ اور ملازمین کی اکثریت کو چترال شہر اور دیگر علاقوں سے روزانہ آنے اور جانے کا بندوبست کرنا پڑے پر خطیر رقم اور قیمتی وقت صرف ہونا یقینی امر ہے۔
5. پہاڑ عین نیچے واقع ہونے کی وجہ سے زیادہ بارشوں اور زلزلوں کے دوران یہاں پہاڑ سے پتھر اور مٹی کے تودے گرنے کے خدشات موجود ہیں۔ اس جگہ پہاڑ سے گرے ہوئے بڑے بڑے پتھروں کی موجودگی بلکہ بہتات ان خدشات کو تقویت دیتا ہے۔
6. محفوظ اور ہموار زمین کی قلت کی وجہ سے سید آباد یونیورسٹی کے مرکزی کیمپس کے لیے مناسب نہیں۔
قاقلشٹ میں کیمپس بنانے کی تجویز:
کچھ لوگوں خصوصا بالائی چترال ضلعے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا خیال ہے کہ چترا ل یونیورسٹی دونوں اضلاع کی واحد یونیورسٹی ہونے کی وجہ سے اس کی تعمیر میں بالائی چترال کو بھی مدِ نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے بالائی چترال میں موجود بڑے مقدار کا غیر آباد علاقہ قاقلشٹ یونیورسٹی کے کیمپس کے لیے بہت موزون ہے۔
قاقلشٹ کیمپس کے حق میں پیش کیے جانے والی نکات:
1. قاقلشٹ کے غیر آباد علاقے میں وافر مقدار میں زمین موجود ہے جو یونیورسٹی اور اس سے متعلق دیگر ضروریات کو لمبے عرصے تک پورا کرنےکی صلاحیت رکھتی ہے۔ مستقبل میں ایک مکمل تعلیمی شہر بنانے خواب یہی مقام پورا کر سکتا ہے۔
2. بالائی چترال کے تمام علاقوں کے ساتھ ساتھ زیرین چترال کے لوگ بھی اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
3. ورشگوم (گلگت کا ضلع غذر جو لمبے عرصے تک ریاست چترال کا حصہ رہا ہے اور وہاں کے باشندے بھی کھوار زبان بولتے ہیں) کے لوگ بھی چترال یونیورسٹی کے قاقلشٹ کیمپس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
قاقلشٹ کیمپس کی مخالفت میں پیش کیے جانے والی نکات:
1. قاقلشٹ چترال شہر (جو عرصہ دراز سے پورے چترال کا مرکز رہا ہے) اور اکثریتی آبادی والے زیرین چترال کے علاقوں سے بہت دور اور رسائی کے اعتبار سے مشکل علاقہ ہے۔ وہاں چترال کی (فی الوقت) واحد یونیورسٹی کا کیمپس بنانا زیرین چترال کی بڑی آبادی کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔
2. قاقلشٹ بالائی چترال کے تمام علاقوں کے لیے موزوں ہو سکتا ہے لیکن پورے چترال اور خصوصا زیرین چترال کے لوگوں کے لیے قطعا موزوں نہیں۔
3. بالائی چترال سے تعلق رکھنے والے لوگ بڑی تعداد میں زیرین چترال خصوصا چترال شہر اور اس کے مضافات میں آباد ہیں اور قدیم الایام سے آج تک بالائی چترال والوں کو یہاں آنے جانے کے حوالے کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔
4. شہری سہولیات اور بنیادی ضرورت کی اشیاء سے محروم اس علاقے میں یونیورسٹی کا کیمپس بنانا لوگوں کو بلا وجہ مشکل میں ڈالنے کے مترادف ہوگا۔
5. یونیورسٹی کی عمارت بشمول طلبہ کے لیے ہاسٹل اور اساتذہ و ملازمین کے لیے رہائشی کالونیوں کی تعمیر تک (جس میں کئی سال لگ سکتے ہیں) لوگوں کو اپنے گھروں اور شہری سہولیات والے مقامات بونی اور چترال شہر سے آنے جانے کے علاوہ کوئی صورت نہیں۔ اس پہ مستزاد علاقے میں ٹرانسپورٹ کی دگرگوں صورتحال کے پیش نظر قاقلشٹ کے غیر آباد اور دور افتادہ علاقے میں یونیورسٹی کا کیمپس بنانا لوگوں کے لیے ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہوگا۔
سین لشٹ میں کیمپس بنانے کی تجویز:
چترال کے دونوں اضلاع کی غالب اکثریت سین لشٹ میں چترال یونیورسٹی کا مین کیمپس بنانے کے حق میں ہے۔ چونکہ یونیورسٹی اور ضلعی انتظامیہ بھی اسی موقف کی طرف مائل ہے اس لیے سین لشٹ میں کیمپس بنانے کے لیے مہم چلانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی ہے جس سے بظاہر یوں لگتا ہے کہ یہاں کیمپس بنانے کے منصوبے کوعوامی حمایت حاصل نہیں۔ لیکن مطالبہ کرنے اور مہم چلانے کی نوبت اس وقت آتی ہے جب کسی کام کے حوالے سے خدشات یا نا امیدی ہو ، جب کسی مطالبے اور مہم کے بغیر ہی لوگوں کی خواہشات اور ضروریات کے مطابق کام ہو رہا ہو تو مطالبہ اور مہم تحصیل حاصل کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوگا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ سین لشٹ کیمپس کے حامیوں کے نزدیک اس کی مخالفت میں جو دلائل دیے جاتے ہیں وہ اس قابل نہیں کہ ان کا جواب دیا جائے اور نہ ہی سین لشٹ کیمپس کے حق میں مہم چلانے کی کوئی ضرورت ہے کیونکہ اس کا فیصلہ متعلقہ ادارے کر چکے ہیں۔ بہرحال اس کے حق اور مخالفت میں پیش کیے جانے والے نکات حسبِ ذیل ہیں:
سین لشٹ کیمپس کے حق میں پیش کیے جانے والی نکات:
1. یونیورسٹی کا مرکزی کیمپس اکثریتی آبادی اور شہری سہولیات کی دستیابی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بنانا چاہیے۔ سین لشٹ کا مقام اس مقصد کے لیے بہترین ہے کیونکہ یہ نہ صرف چترال کی مرکزی مقام یعنی چترال شہر سے قریب ترین مقام ہے جہاں یونیورسٹی تعمیر کی جا سکتی ہے بلکہ زیرین چترال کی اکثریتی آبادی کے ساتھ ساتھ بالائی چترال کے لوگوں کے لیے بھی یہ جگہ سید آباد کی نسبت زیادہ موزون مقام ہے۔
2. تمام شہری سہولیات کی دستیابی کے ساتھ ساتھ چترال شہر سے چند کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہونے کی وجہ سے سین لشٹ کیمپس آنے جانے اور رہائش کے حوالے سے دیگر تمام علاقوں کی نسبت نہایت موزوں ہے۔ خصوصا لینیک سنگور پل کی تعمیر کے بعد نہ صرف چترال شہر سے یونیورسٹی پہنچنے کے لیے دو مستقل راستے دستیاب ہو گئے ہیں بلکہ کوہ یونین کونسل اور بالائی چترال والوں کو براہ راست یونیورسٹی پہنچنے کا آسان راستہ مل گیا ہے۔
3. سین لشٹ قدرتی آفات کے حوالے چترال کے محفوظ ترین علاقوں میں سے ایک ہے جہاں نہ زمین کو دریا کی کٹاؤ کا خطرہ ہے، نہ قریبی پہاڑ سے پتھر گرنے کا کوئی امکان ہے اور نہ ہی سیلابی ریلے کے زد میں آنے کا کوئی خطرہ ہے کیونکہ اس کے قریب کوئی بڑا اور سیلاب آور نالہ نہیں ہے۔
4. یونیورسٹی کی انتظامیہ اور ضلعی و صوبائی حکومت کے ذمہ داران بھی سین لشٹ کو ہی چترال یونیورسٹی کے مرکزی کیمپس کے لیے موزون مقام سمجھتے ہیں اور کئی سرکاری فورمز میں اسی تجویز کو مناسب قرار دیا گیا ہے۔
5. سین لشٹ میں گورنمنٹ ہائی سکول، آغا خان ہائر سیکنڈری سکول، آغا خان یونیورسٹی کے مجوزہ کیمپس (جس کے لیے زمین کی خریداری اور بنیادی منصوبہ بندی کا کام عمل میں آ چکا ہے اور عنقریب اس کی تعمیر کا کام شروع ہونے والا ہے) اور دیگر تعلیمی اداروں کی موجودگی کی وجہ سے مستقبل قریب میں یہ مقام چترال شہر کے مضافاتی علاقے میں ایک مکمل تعلیمی شہر کی صورت میں سامنے آئے گا جس سے خاص و عام کو آسانی سے استفادے کا موقع ملے گا۔
6. مجوزہ چترال تاجکستان شاہراہ پر واقع ہونے کی وجہ سے مستقبل میں چترال یونیورسٹی وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ روابط میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
سین لشٹ کیمپس کے مخالفت میں پیش کیے جانے والی نکات:
1. سین لشٹ کیمپس کے خلاف سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس سے زرعی زمینات متاثر ہوں گی۔
2. دوسرا اہم اعتراض یہ ہے کہ جب یونیورسٹی کے پاس سید آباد میں ایک سو ساٹھ کنال زمین موجود ہے تو اسے استعمال میں لائے بغیر نئے سرے سے زمین خریدنے پر خطیر رقم خرچ کرنے کی کیا ضرارت ہے؟
3. اس کے علاوہ بے بنیاد خدشات، غیر معقول اعتراضات، غلط بیانیوں، تعصبات کو ابھارنے، حقائق سے چشم پوشی کرنے کی لمبی فہرست ہے جنہیں سین لشٹ کیمپس کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی گئی حتی کہ مسئلے کو سیاسی و مذہبی رنگ دینے اور اقلیتوں کا کارڈ استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا ہے۔ یہ خدشات اور اعتراضات ایسے نہیں کہ انہیں کوئی وقعت دی جائے لیکن چونکہ بعض عناصر بڑی ڈھٹائی کے ساتھ ان کو استعمال کرتے ہیں اور لوگ انجانے میں ان سے متاثر ہوتے ہیں اس لیے ان کا تذکرہ کرنا اور ان کی حقیقت کو واضح کرنا بہت ضروری ہے:
‌أ. یونیورسٹی سے مستفید ہونے والی آبادی کو بنیاد بنا کر سین لشٹ کے مقابلے میں سید آباد کو زیادہ موزون قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں بھی مکر و فریب سے کام لے کر صرف زیرین چترال کی آبادی کے بارے میں اعداد و شمار کا ڈھونگ رچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالانکہ سب کو معلوم ہے سید آباد سے صرف چترال کے جنوبی حصے (ایون اور دروش تحصیل) کی آبادی کا فائدہ پہنچے گا جبکہ سین لشٹ سے چترال شہر اور اس مضافات کے گنجان آباد علاقوں کے علاوہ ، کوہ، گرم چشمہ، کریم آباد، ارکاری اور گولین کی وادیوں کے مکین مستفید ہوں گے۔ یوں زیرین چترال کے دو تحصیلوں یعنی لٹکوہ اور چترال کی آبادی کے لیے سین لشٹ سید آباد کے مقابلے میں بہت بہتر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ذہن شنین کرنے کی ضرورت ہے کہ فی الحال یہ چترال کے دونوں اضلاع کی واحد یونیورسٹی ہے اور ضلع چترال بالا کے لوگوں کے لیے سید آباد کی نسبت سین لشٹ زیادہ مناسب ہے۔
‌ب. یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ سین لشٹ کی زمین غیر محفوظ ہے کیونکہ اسے ساتھ بہنے والے دریائے لٹکوہ سے کٹاؤ کا خطرہ ہے اور اوپر سے سیلاب کا امکان بھی موجود ہے۔ یہ انتہائی لغو اور احمقانہ اعتراض ہے کیونکہ جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ سین لشٹ کی زمین اور خصوصا یونیورسٹی کے لیے مجوزہ قطعہ ارضی چترال کے محفوظ ترین مقامات میں سے ہے۔ دریائے لٹکوہ کی وجہ سے گزشتہ کئی صدیوں سے کٹاؤ کا کوئی معمولی واقعہ بھی رونما نہیں ہوا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی امکان موجود ہے کیونکہ اس کے آس پاس کوئی بڑا نالہ نہیں جس میں سیلابی ریلا آنے سے دریا کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافے یا تودا گرنے سےپانی کے بہاؤ میں رکاوٹ کا کوئی خدشہ ہو اور نہ ہی پہاڑ کی طرف سے سیلاب آنے کا کوئی خطرہ ہے۔
‌ج. یہ باور کرانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے کہ سین لشٹ چترا ل شہر سے شمال کی طرف ہونے کی وجہ سے رسائی کے اعتبار سے مناسب نہیں جبکہ اس کی نسبت سید آباد مین چترال پشاور روڈ پر واقع ہونے کی وجہ سے قابل رسائی ہے۔ یہاں بھی حقائق کو درست انداز میں پیش کرنے کے بجائے جانبداری سے کام لیا جاتا ہے۔ سید آباد یقینا چترال پشاور شاہراہ پر واقع ہے لیکن یہ چترال شہر اور گنجان آباد علاقوں سے بہت دور ہے۔ چترال شہر سے سید آباد کی مسافت سین لشٹ کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔ سین لشٹ چترال شہر سے متصل علاقے میں مین گرم چشمہ روڈ (اور مجوزہ چترال تاجکستان شاہرہ) پر واقع کی وجہ سے رسائی کے اعتبار سے سید آباد سے زیادہ مناسب اور آسان ہے۔
‌د. یہ بات بھی بڑے زور و شور سےکی جاتی کہ یونیورسٹی کو شہری آبادی سے باہر بنانا چاہیے۔ اصولی طور پر اس بات سے اختلاف نہیں کیونکہ ترقی یافتہ ممالک اور میدانی علاقوں اس کی مثالیں بھی موجود ہیں لیکن چترال کے خصوصی تناظر میں اس نکتے کو بنیاد بنا کر سید آباد یا قاقلشٹ میں یونیورسٹی بنانے کی تجویز قطعا درست نہیں کیونکہ پہاڑی علاقے کے پرپیچ راستوں اور ٹرانسپورٹ کی ابتر صورتحال کے پیش نظر شہری آبادی سے تیس پینتیس کلو میٹر دور بے آب و گیاہ اور شہری سہولیات سے محروم مقام پر یونیورسٹی بنانا نہایت غیر دانشمندانہ عمل ہوگا۔ سین لشٹ چترال شہر سے باہر ضرور ہے لیکن سید آباد اور قاقلشٹ جتنا دور نہیں بلکہ شہری آبادی سے چند کلومیٹر اور چند منٹ کی مسافت پر ہونے کی وجہ سے ہر اعتبار سے تمام علاقوں کی نسبت مثالی جگہ ہے۔
‌ه. یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سین لشٹ میں یونیورسٹی کی توسیع کے لیے جگہ کم ہے جبکہ اس کی نسبت سید آباد میں وافر مقدار میں زمین موجود ہے۔ یہ دعویٰ بھی حقائق کے منافی ہے۔ سین لشٹ کے مجوزی مقام میں زمین کی کوئی کمی نہیں بلکہ یہاں ایک بجائے دو یونیورسٹیاں بنائی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ بوقت ضرورت سین لشٹ کے جنوبی بالائی حصے اور اس سے متصل دلومچ گاؤں میں موجود وافر مقدار میں نسبتا غیر آباد زمینوں سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں سید آباد میں شرینگل یونیورسٹی کے علاقائی کیمپس کے لیے خریدی گئی زمین مکمل یونیورسٹی کے لیے ناکافی ہونے کے علاوہ آس پاس مناسب مقدار میں زمین نہ ہونے کی وجہ سے پہاڑ کے دامن میں واقع ڈھلوان (پراش) یا پھر کچے کی زمین (شوتار) سے استفادے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں اور یہ دونوں غیر محفوظ بلکہ خطرناک جگہے ہیں۔
‌و. سین لشٹ میں یونیورسٹی تعمیر کرنے کے لیے زرعی زمینوں کے ضیاع کی بات یقینا قابل توجہ ہے لیکن اس میں بھی مبالغہ آرائی سے کام لیا جاتا ہے۔ اس خطے میں درخت بالکل نہیں جن کی کٹائی سے ماحول کی خرابی یا فضائی آلودگی کا کوئی خدشہ ہو (سید آباد کیمپس کے حامیوں نے سین لشٹ کیمپس کے خلاف ماحولیاتی تبدیلی اور اس حوالے سے وزیر اعظم کی ترجیحات کو بھی کیش کرنے کی کوشش کی ہے)۔ درحقیقت یہ مختلف افراد میں تقسیم چھوٹے چھوٹے کھیتوں پر مشتمل قطعہ ارضی ہے جن میں معمول کی کاشتکاری ہوتی ہے جو ان زمینوں کے مالکان کی غذائی ضروریات کو پوری کرنے کے لیے بھی کافی نہیں چہ جائیکہ اس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جائے کہ ان زمینوں پر یونیورسٹی بنانے سے چترال کی غذائی ضروریات پر اثر پڑے گا۔ چند مرلوں اور کنالوں پر مشتمل زمینوں پر محدود پیمانے کی کاشتکاری میں فائدے کی نسبت خرچہ اور محنت و مشقت زیادہ ہوتی ہے اس لیے اس قسم کی کاشتکاری کا رجحان پورے چترال میں روز بروز ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اب اس ناقابلِ ذکر کاشتکاری کو ایک بڑا مسئلہ بنا کر یونیورسٹی جیسے اہم ادارے کی تعمیر کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟
خلاصہ کلام:
کسی بھی قومی منصوبے کے بارے آگاہی حاصل کرنا اور متعلقہ اداروں کو مفید مشورے دینا تمام شہریوں کا حق بھی ہے اور ان کی ذمہ داری بھی لیکن ذاتی یا علاقائی مفادات کے پیش نظر ایک اہم قومی منصوبوں کو متنازعہ بنانا، متعلقہ اداروں کو سازشوں کا مرکز قرار دینا اور ان کے ذمہ داران پر بے بنیاد الزامات لگانا اور حقائق کو مسخ کرکے لوگوں کو گمراہ کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ یہ کسی کا حق نہیں اور نہ کسی کو اس کی اجازت دینی چاہیے۔
یونیورسٹی کا مرکزی کیمپس جہاں بھی بنے اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ اوپر بیان کردہ حقائق کی روشنی میں اہلِ چترال کی غالب اکثریت سین لشٹ کو اس مقصد کے لیے موزون ترین سمجھتی ہے لیکن اس کے باوجود حتمی فیصلے کا حق یونیورسٹی کے ذمہ داران اور متعلقہ سرکاری اداروں کی صوابدید پر چھوڑنا چاہیے، وہ منصوبے کے مختلف پہلؤوں کو مدِ نظر رکھ کر جو بھی فیصلہ کریں وہ سب کے لیے قابل قبول ہونا چاہیے، چاہے وہ فیصلہ کسی کی رائے اور خواہش سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔
چترال میں صرف ایک یونیورسٹی نہیں کئی اور یونیورسٹیاں، میڈیکل کالجز اور انجینئرنگ کالجز بننی چاہئیں۔ ہمارے نادان دوست اگر موجودہ چترال یونیورسٹی کے خلاف محاذ آرائی کرنے کے بجائے سید آباد، قاقلشٹ یا کسی اور مقام پر علیحدہ یونیورسٹیاں یا میڈیکل کالج یا انجینئرنگ کالج بنانے کے لیے کوششیں کریں گے تو اس سے نہ صرف علاقے کو فائدہ پہنچے گا بلکہ ان دوستوں کی طرف سے اخلاص اور علم دوستی کا اظہار بھی ہوگا۔ تمام اہل چترال سے دردمندانہ درخواست ہے کہ اللہ کے واسطے چترال یونیورسٹی کے عظیم منصوبے کو کالا باغ ڈیم نہ بنائیں۔ علاقائی ، نسلی، مذہبی تعصبات اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اس عظیم منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔
اللہ تعالی ہمیں صحیح موقف اختیار کرنے اور اختلافات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔