تازہ ترینمضامین

معتبر اداروں کی بے توقیری…محمد شریف شکیب

لوئر دیر میں میڈیکل کی طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی اور رشوت لینے کے الزام میں گرفتار سینئر سول جج کو جیل بھیج دیا گیا۔انصاف کی کرسی پر بیٹھے شخصکا اخلاقی اور قانونی جرم میں ملوث ہونا نہ صرف افسوس ناک بلکہ قابل مذمت ہے۔ زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون کا دعویٰ ہے کہ سینئر سول جج نے اس کی بہن کو نوکری دلانے کے لئے رشوت کے طور پر پندرہ لاکھ روپے مانگے تھے۔چونکہ وہ بی ڈی ایس کی طالبہ ہے اس کے پاس نقد رقم نہیں تھی اس لئے انہوں نے اپنے زیورات جج کے سپرد کردیئے جن کی مالیت پندرہ لاکھ روپے بنتی تھی۔ کچھ دن بعد جج نے بتایا کہ وہ اس کی بہن کونوکری نہیں دلاسکا۔زیورات لوئر دیر میں ان کی رہائش گاہ میں پڑے ہیں۔وہاں سے آکر لے جائیں۔جج پر بھروسہ کرتے ہوئے وہ پشاور سے اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر لوئر دیر چلی گئی۔ جہاں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر جج نے اس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انکار پر اس نے زبردستی اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنادیا اور زیورات واپس کرنے سے بھی صاف انکار کردیا۔ دیر پولیس کے مطابق ایف آئی آر درج کرانے والی خاتون نے اپنا نام دعا اورتعلق چترال سے بتایا اس کا کہنا تھا کہ وہ پشاور میں بی ڈی ایس کی طالبہ ہے۔ خاتون کے بیان پر بہت سے سوالات اٹھتے ہیں۔ اس کا تعلق سندھ کے علاقہ خیرپور سے بتایاجاتا ہے۔چترال سے اس کا سرے سے تعلق ہی نہیں ہے۔اپنی اصل شناخت چھپانا بھی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔دانستہ طور پر اپنا تعلق چترال سے بتاکر انہوں نے پوری چترالی قوم کی عزت و ناموس کو بھی داغدار کردیا ہے۔جس پر ہتک عزت کا دعویٰ بھی بنتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ وہ پندرہ لاکھ روپے رشوت دے کر اپنی بہن کو سرکاری نوکری دلوانا اور اہل لوگوں کا حق مارنا چاہتی تھی۔ پشاور میں مقیم خیرپور کی خاتون کا دیر کے سول جج سے تعلق کیسے بن گیا؟ وہ اپنے زیورات واپس لینے کے لئے جج کے ساتھ پشاور سے اکیلی دیرکیوں چلی گئی؟ان تمام سوالات کا جواب دیر پولیس نے خاتون سے پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔اور میڈیا کو ایف آئی آر کی کاپی جاری کردی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پورے ملک میں عدلیہ کو بدنام کرنے کی ایک منظم مہم شروع کردی گئی ہے۔ کبھی سابق چیف جسٹس آف پاکستان پر بددیانتی، رشوت لینے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات لگائے جارہے ہیں اور کبھی گلگت بلتستان کے سابق چیف جج کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے آلہ کار بنایاجاتا ہے اب تو ججوں پر جنسی زیادتی، رشوت لے کر غیر قانونی طور پر نوکریاں دینے، دھوکہ دہی اور جعل سازی کے الزامات بھی لگنے لگے ہیں۔عدلیہ کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا ہمارے ہاں روایت بن گئی ہے۔ کبھی قانون مصلحت کے تحت آئین سے ماورا فیصلے کروائے جاتے ہیں کبھی دھونس، دھمکی اور دباؤ کے ذریعے من پسند فیصلے حاصل کئے جاتے ہیں۔ جسٹس منیر اور جسٹس قیوم جیسے لوگ عدلیہ میں بھی ہوتے ہیں لیکن انہیں ٹارگٹ بناکر پوری عدلیہ کو مورد الزام نہیں ٹھہرایاجاسکتا۔ عدالتیں ہی لوگوں کے لئے حصول انصاف کا واحد ذریعہ اور امید کی کرن ہیں۔وہی آئین اور قانون کی تشریح کرتی ہیں ظالم کا ہاتھ روکتی ہیں اور مظلوم کو انصاف فراہم کرتی ہیں۔ ان کی عزت و وقار کو ٹھیس پہنچایاگیا تو دیگر اداروں کی طرح عوام کا ان پر سے بھی اعتماد اٹھ جائے گا اور لوگ انصاف کے حصول کے لئے قانون اپنے ہاتھ میں لینے کو ترجیح دیں گے۔ جس سے معاشرے میں انارکی اور بدامنی پھیل سکتی ہے۔عدالت عالیہ سول جج دیر پائیں کے کیس کا ازخود نوٹس لے کر معاملے کی جوڈیشل انکوائری کرائے تو اصل حقائق سامنے آسکتے ہیں اور حقائق معلوم کرنا عدلیہ اور طب کے پیشے کا تقدس برقرار رکھنے کے لئے بھی ناگزیر ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔