تازہ ترین

صوبے میں کھیلوں کا فروغ شروع دن ہی سے حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل رہا ہے،وزیراعلی محمود خان

صوبے میں کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کے لئے 1250 کھلاڑیوں کو ماہانہ وظیفہ دیا جارہا ہے۔

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبے میں کھیلوں کا فروع شروع دن ہی سے ان کی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل رہا ہے ، صوبائی حکومت صوبے میں کھیلوں کے فروغ کے سلسلے میں نئے اسپورٹس گراؤنڈز اور دیگر انفراسٹرکچر کی تعمیر اور پہلے سے موجود انفراسٹرکچر کی بحالی و بہتری کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو کھیلوں کے لئے درکار دیگر تمام سہولیات کی فراہمی اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے لیے ان کی بھر پور حوصلہ افزائی کے سلسلے میں ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے۔ صوبائی حکومت کے ان اقدامات کے خاطرخواہ نتائج سامنے آرہے ہیں اور صوبے میں مختلف سطح پر کھیلوں کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت کھیلوں کے فروغ سے متعلق منعقدہ ایک اجلاس میں بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کے دوران کیا۔ اجلاس میں پاکستان اسپورٹس بورڈ کے انتظامی ڈھانچے کی از سر نو تشکیل، صوبوں کی باہمی مشاورت سے نیشنل اسپورٹس پالیسی کے مسودے کو حتمی شکل دینے اور دیگر متعلقہ امور کے پر تفصیلی غورو خوض کے بعد متعدد اہم فیصلے کئے گئے اور اس سلسلے میں وزیر اعظم کی طرف سے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو اہم ہدایات جاری کی گئیں۔ وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کے علاوہ وفاقی اکائیوں کے وزرائے کھیل اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔
خیبر پختونخوا میں کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروع اور نوجوان کو کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے صوبائی حکومت کے اقدامات کے بارے میں وزیر اعلی نے بتایا کہ صوبے میں گذشتہ تین سالوں کے دوران مختلف کھیلوں کی متعدد سرگرمیاں منعقد کی گئیں جن میں انڈر 23 گیمز، انڈر 21 گیمز، انڈر 16 گیمز، نیشنل گیمز، اسپیشل گیمز اور بین الصوبائی گیمز کے علاوہ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام، خیبرپختونخوا ہاکی لیگ ، خیبر پختونخوا سکول کرکٹ چیمپئن شپ اور دیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔ صوبے میں کھیلوں کے انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے بارے میں وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ صوبے میں نچلی سطح پر کھیلوں کی ایک ہزار سہولیات کی فراہمی کے لئے پانچ ارب روپے کے منصوبے پر کام جاری ہے جن میں متعدد مکمل کئے گئے ہیں۔ اسی طرح تمام اضلاع کی سطح پر اسپورٹس کمپلیکسز کی تعمیر و بحالی کے منصوبے کے علاوہ تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر اسپورٹس گراؤنڈز کی تعمیر کے منصوبے پر بھی کام زور و شور سے جاری ہے۔ علاوہ ازیں ضم اضلاع میں نئے اسپورٹس گراؤنڈز کی تعمیر اور پرانے گراؤنڈز کی بحالی کے لئے 2 ارب روپے سے زائد کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے، صوبے میں خواتین کو کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں ہر ریجن کی سطح پر انڈور جمنازیم تعمیر کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کالام کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر، ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کی بین الاقوامی طرز پر اپگریڈیشن اور حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر اسپورٹس انفراسٹرکچر کی بہتری کے لئے صوبائی حکومت کے اہم منصوبے ہیں جبکہ صوبے میں بین الاقوامی معیار کے 13 ہاکی آسٹروٹرفس بچھانے پر بھی کام جاری ہے جن میں سے تین اب تک مکمل کئے جاچکے ہیں۔ وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ صوبے میں کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کے لئے 1250 کھلاڑیوں کو ماہانہ وظیفہ دیا جارہا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔