
“میرا ایمان کرپشن فری پاکستان “….تحریر: #شیرآیازخان
نیب خیبر پختونخواہ نے حکم دیا ہے کہ صوبہ بھر کے سکولوں کے گیٹ پر “میرا ایمان کرپشن فری پاکستان ” لکھا جائے تاکہ کرپشن کا قلع قمع کیا جائے- کرپشن کے خلاف سوچ پیدا کرنے کے لئے یہ ایک اچھی کوشش ہو سکتی ہے- اس سے پہلے بھی بچوں کے ٹیکسٹ بک اور نوٹ بک کی کور پیج پر ایسے الفاظ کندہ کرائے گئے تھے جو شاید موثر نہ رہے تبھی تو سکول گیٹ پر یہی نعرہ لکھنے کی نوبت ائی- خدانخواستہ اس کے بعد بھی اگر کرپشن میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا تو کافی سارے چنیدہ مقامات اور بھی ہیں جہاں کرپشن کے خلاف نعرے لکھ کر دیکھا جانا چاہیے کہ کیا نتیجہ نکلتا ہے-
کرپشن کے خلاف آواز کو موثر بنانے کیلئے سکول گیٹ کے علاوہ ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے دروازے کے اوپر بھی یہی نعرہ لکھا جائے تاکہ ایک دفعہ یہاں نظر ڈال کر اندر جانے والوں کو کرپشن کے واردات سے پہلے کرپشن کی برائی کی یاد دہانی ہو- صاحب بہادر کے انتظارگاہ میں بھی یہ نعرہ چسپاں ہو تاکہ انتظار میں بیٹھے محروم سائلین کو حوصلہ ملے کہ وہ اپنا مدعا صاف بیان کر سکے اور حق مانگ سکے- کچہری میں عوامی دفترات کے سائے تلے سٹمپ وینڈر کے چھتری کے اوپر بھی یہ نعرہ جلی حروف میں لکھا جائے جہاں 100 روپے کی سٹمپ 300′ 500 اور 1000 روپے میں بیجا جاتا ہے- جہاں روزانہ عام ادمی خوشی ‘ غمی’ شادی ‘ خریداری ‘ نوکری’ رضامندی’ ڈومیسائل ‘ شناختی کارڈ اور بہت سے کام نمٹانے کے لئےکئی دفعہ سٹیمپ خریدتے ہیں-
انفراسٹرکچر بنانے والے’ ٹینڈر نوازشات کرنے والے’ 1 ارب روپے پراجکٹ میں ایک کروڑ کمیشن/ رشوت دیکر ایک لاکھ کا کام زمین پر اور باقی کا کام کاغذوں پر دیکھانے والے ہر ایک خاص و عام ‘ چپڑاسی سے لیکر چیف انجینئر تک ملوث افراد کے پیشانی پر بھی کرپشن کے خلاف نعرے لکھ دینا چاہیے تاکہ یہ لوگ بھی شاید کرپشن کو برا سمجھنے لگے-
ڈیم فنڈ اور کرونا فنڈ میں اربوں روپے/ ڈالر غبن کرنے والے دبلے پتلے شخص کیساتھ موٹے فربے شخص کے آمدن سے ذائد ہر ایک سکے پر سرخ سیاہی سے کرپشن کے خلاف نعرے کیساتھ ساتھ ان کے نام اور عہدے بھی لکھے جائے تاکہ جب تک یہ سکے گردش میں رہے تب تک کرپشن کے خلاف نعرہ بھی چلتا رہے-
خود نیب کے اس فائل کے اوپر یہ نعرہ کیوں نہ لکھا جائے جہاں مستوج شندور روڈ کو ہوائی طور پر کاغذوں میں تیار اور بلیک ٹاپ دیکھانے کے جرم میں پلی بارگنگ کے زریعے ملوث ٹھیکیداروں کو “با عزت” بھاری کردیا گیا ہے-
مسجدوں اور عبد گاہوں کو ٹی وی کے ٹیرف بھیجنے والوں ‘ بجلی کی میٹر دیکھے بغیر اکٹھا زائد یونٹ 10 روپے کے بجائے 20 روپے میں مہنگے دام غریب عوام کو بیجنے والے کاہل اور مکار اہلکاروں اور کام نہ کرکے تنخواہ اور کام کرکے پیسے بٹورنے والوں کے ہاتھوں میں بھی کرپشن کے خلاف نعرے تھما دینا چاہیے تاکہ وہ یہ سمجھنے لگے کہ وہ ایساجو کچھ کر رہے ‘ برا کر رہے ہیں-
ان پالیسی سازوں کے دماغ میں بھی کرپشن کے خلاف نعرے ڈالنے چاہیے جو ایک ہی رقم پر دوسری ‘ تیسری ‘ چوتھی بار اور بار بار ٹیکس بٹور کر عام آدمی اور ملازم کو کنگال کرتے ہیں اور امیر کو ٹیکس سے استثنی اور سہولت دیتے ہیں-
جنگلات کے نگرانی کے لئے تنخواہ لینے والے ان افراد کے گلے میں بھی کرپشن کے خلاف نعرے لکھ کر آویزاں کیا جائے جو ٹمبر مافیا کو سہولت دیکر درختوں کی سمگلنگ میں ملوث ہوتے ہیں- جو مقامی لوگوں کی جائز ضرورت کیلئے بھی سکھے عمارتی لکڑیوں کے استعمال پر پابندی لگاتے ہیں اور خود سرسبز درخت گراکر مافیاز کے ساتھ سونے کی نرخ پر اگے بیج دیتے ہیں-
اور بھی بہت سارے مقامات ہیں جہاں کرپشن فری پاکستان کا نعرہ بلند کرکے نتیجہ جانچنا چاہئے- پھر بھی اگر کرپشن کم ہونے کے بجائے افزائش پاتا ہے- تو ہمیں اپنے پالیسس کی نظر ثانی کرنی چاہئے- کیونکہ بچہ سکول گیٹ کے اوپر ” میرا ایمان کرپشن فری پاکستان” کے نعرہ ء مستانہ کے نیچے سے گزر کر سیدھا اس غبن زدہ سڑک کے کھڈے’ کیچڑ اور غیر معیاری پل پر گزر کر گھر پہنچتا ہے تو کرپشن فری پاکستان کے معنی کو گہرائی سے سمجھتا ہے- وہ کچہری کے سامنے ڈومیسائل بنانے کیلئے بھی جاتا ہے- وہاں عملی کام اور نعرے کی تمیز سمجھتا ہے- سکول گیٹ سے گزر کر بچے معاشرے کے بہاو میں شامل ہوجاتے ہیں جہاں عملی طور پر ان سرگرمیوں کو اپناتے ہیں جو معاشرے کے بڑے کرتے ہیں- جو کچھ معاشرے کے بڑے کرتے ہیں وہ معاشرے کے قدریں کہلاتے ہیں-
