اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں…محمد شریف شکیب

سیالکوٹ میں چمڑے کی مصنوعات بنانے والی فیکٹری میں توہین مذہب کا الزام لگاکر سری لنکا سے تعلق رکھنے والے منیجر کو سینکڑوں افراد نے تشدد کے ذریعے قتل کردیا۔ اس کی لاش سڑکوں پر گھسیٹتے رہے اور بعد ازاں لاش کو آگ لگادی گئی۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق فیکٹری میں رنگ روغن کا کام جاری تھا، سری لنکن منیجر نے فیکٹری کے اندردیوارپر لگے کچھ پوسٹرز اتارے تو منیجر اور ملازمین میں معمولی تنازعہ ہوابعد ازازں منیجر نے غلط فہمی کا اعتراف کرتے ہوئے معذرت بھی کی۔فیکٹری کے کچھ ملازمین نے بعد میں دیگر افراد کو اشتعال دلایا۔ جس پر فیکٹری کے ملازمین جمع ہوگئے اورمنیجر کو مارنا شروع کردیا،تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق فیکٹری کے اندر قتل کرنے کے بعد اس کی لاش باہر لائی گئی۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق تشدد سے اس کی تمام ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں اور جسم کا بیشتر حصہ جل چکا تھا۔ پولیس کے مطابق فیکٹری کے اندر قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی وجہ سے اکثر ملازمین غیر ملکی منیجر کو ناپسند کرتے تھے۔ اور پوسٹر اتارنے پر توہین مذہب کا الزام لگاکر اسے راستے سے ہٹادیاگیا۔اس واقعے سے پوری دنیا میں پاکستان اور مسلمانوں پر لعن طعن ہوئی ہے۔ چند افراد نے ذاتی مقاصد نے ملک اور قوم کو پوری دنیا میں بدنام کردیا۔ سری لنکن انجینئر غیر ملکی مہمان تھا۔ وہ ہماری زبان، رسومات اور عقائد سے واقف نہیں تھا۔ اردو سے نابلد ہونے کی وجہ سے وہ پوسٹر میں لکھے گئے الفاظ سمجھ نہیں سکتا تھا۔ جب اسے سمجھایاگیا تو انہوں نے معافی بھی مانگ لی۔ اس کے بعد قانون اپنے ہاتھ میں لے کر اسے سزائے موت دینے کا کوئی اخلاقی، قانونی اور شرعی جواز نہیں تھا۔ ملک کے تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام نے واقعے کی مذمت کی ہے۔شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا کہ توہین رسالت انتہائی سنگین جرم ہے لیکن ملزم سے اس کے ارتکاب کے ثبوت بھی اتنے ہی مضبوط ہونے ضروری ہیں،کسی پر یہ سنگین الزام لگا کر خود ہی اسے وحشیانہ اور حرام طریقے سے سزا دینے کاکوئی جواز نہیں۔ اس واقعہ میں مسلمانوں کی بھونڈی تصویر دکھاکر ملک وملت کو بدنام کیا گیا ممتاز عالم دین مولانا طاہر اشرفی، مولانا طارق جمیل، مفتی منیب الرحمان، مولانا عبدالخبیر آزاد،مولانا فضل الرحمان اور دیگر علمائے کرام نے بھی واقعے کو افسوسناک اور ملک و قوم کے لئے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ واقعہ بے حسی اور بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے، ہم نے معاشرے میں ٹائم بم لگا دیئے ہیں، ان بموں کوبروقت ناکارہ نہ کیا تو وہ پھٹ جائیں گے اور بڑی تباہی ہوگی۔سری لنکا ہمارا بہترین دوست ملک ہے اس نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ اپنے شہری کے بہیمانہ قتل پر اپنے ردعمل میں سری لنکاکے وزیراعظم مہندا راجا پکسی کا کہنا تھا کہ یقین ہے عمران خان سری لنکن شہری کے قاتلوں کوسزا دیں گے،سری لنکا کے عوام توقع رکھتے ہیں کہ واقعے میں ملوث افراد کو سزا دے کر متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیاجائے گا۔ پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ900فیکٹری ملا زمین کے خلاف میں درج کیا گیا ہے۔اور متعدد مرکزی ملزمان سمیت تقریباً ڈیڑھ سو افراد گرفتار کئے گئے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ واقعے سے پاکستان کی ساکھ کو جو نقصان پہنچا ہے اس کا مداوا کیسے ہوگا۔ حکومت کو تحقیقات میں اس پہلو پر بھی غور کرنا ہوگا کہ یہ واقعہ کسی دشمن کی سازش تو نہیں؟مسلمانوں کو تنگ نظر، رجعت پسند، دہشت گرد، متعصب اور انتہا پسند قرار دینے کے لئے بھارت اور اس کے حواری مسلسل سازشوں میں مصروف ہیں اور بدقسمتی سے اپنے ہی لوگ دشمنوں کا آلہ کار بن کر اپنے ملک اور قوم کو نقصان پہنچا رہے ہیں ایسے عناصر کو قوم کے سامنے بے نقاب کرنے کے ساتھ انہیں نشان عبرت بنانے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ کوئی اپنے ذاتی مفادات کے لئے ملک و قوم اور دین اسلام کی بدنامی کا ذریعہ بننے کی جرات نہ کرسکے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔