تازہ ترین

خطیب شاہی مسجد چترال مولانا خلیق الزمان کو بھی اعزاز دیا جائے، فاتحہ خواں مزار قائدقاری محمد شمس الدین

مولانا خلیق الزمان نے بھی مبینہ گستاخی کرنے والے کو بچا کر خون خرابہ ٹال دیا تھا،قانون ہاتھ میں لینے کی سوچ مٹانے کیلئے ایسے کرداروں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے

کراچی (چترال ایکسپریس) مزار قائد کے فاتحہ خواں قاری محمد شمس الدین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سیالکوٹ واقعے میں مقتول سری لنکن شہری کو بچانے کی کوشش کرنے والے قومی ہیرو ملک عدنان کی طرح مبینہ گستاخی کے واقعے میں خون خرابہ روکنے والے شاہی مسجد چترال کے خطیب مولانا خلیق الزمان کاکا خیل کو بھی قومی اعزاز عطاکیا جائے تاکہ قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کی حوصلہ شکنی ہو۔ قاری شمس الدین نے ان خیالات کا اظہار اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ واقعہ نے دین و ملت کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس واقعے میں ملوث عناصر ایک بے گناہ انسان کے قتل کے جرم کے ساتھ ساتھ دین اور ملک کو بدنام کرنے کے جرم کے بھی مرتکب ہیں، مجرموں کو ان تمام سنگین جرائم کی سخت سزا دی جانی چاہئے۔ فاتحہ خواں مزار قائد نے کہا کہ سیالکوٹ واقعے میں بے گناہ سری لنکن باشندے کو بچانے کیلئے اپنی جان داؤ پر لگانے والے پاکستانی شہری ملک عدنان بجا طور پر قوم کے ہیرو ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ملک عدنان کو ایوارڈ سے نوازنا قابل ستائش ہے۔ اس سے عوام میں شعور بڑھے گا اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی سوچ کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ قاری شمس الدین نے 2017 میں شاھی مسجد چترال میں مبینہ گستاخی کے واقعے کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اپریل 2017 میں اجتماع جمعہ کے دوران ایک مبینہ طور پر ابنارمل شخص کی جانب سے مجمع کے سامنے قابل اعتراض گفتگو پر نمازیوں میں شدید اشتعال پیدا ہوگیا تھا اور پورا مجمع اس شخص کو گستاخ قرار دے کر قتل کرنے کے درپے ہو گیا تھا، اس موقع پر شاہی مسجدکے خطیب مولانا خلیق الزمان کاکا خیل نے اپنی جان پر کھیل کر اس شخص کو اشتعال میں بپھرے ہوئے ہجوم سے بحفاظت نکال کر قانون کے حوالے کیا۔ جس کی پاداش میں مشتعل عوام نے خطیب مولانا خلیق الزمان کاکا خیل کی گاڑی نذر آتش کر دی اور ان کی جان کے لاگو ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ خطیب شاہی مسجد چترال کے اس امن پسندانہ عمل کو پاکستان میں موجود بیرونی سفرا اور عالمی اداروں نے بھی سراہا۔ بین الاقوامی نشریاتی اداروں نے ان کے انٹرویوز کئے۔ جرمنی کے سفیر سمیت کئی سفارت کاروں نے خطیب صاحب سے ملاقات کرکے ان کی امن پسندی اور تدبر و بصیرت کی تحسین و ستائش کی، جس کے باعث علاقہ ایک خونی حادثے سے محفوظ رہا، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس وقت کی لیگی حکومت نے خطیب صاحب کے کردار کو کوئی پذیرائی نہیں بخشی۔ فاتحہ خواں مزار قائد قاری شمس الدین نے کہا کہ آج جہاں بجا طور پر ملک عدنان کو ایک قابل تقلید کام پر ایوارڈ دیا گیا ہے، وہاں خطیب شاہی مسجد چترال مولانا خلیق الزمان کاکا خیل بھی اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کو قومی اعزاز سے نوازا جائے تاکہ قوم میں امن و اعتدال کو عوامی سطح پر فروغ حاصل ہو۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔