
چترال میں لوکل باڈیز الیکشن اپریل کے مہینے میں کرائے جائیں،محمد سید خان لال کی چیف الیکشن کمشنر سے اپیل
تاکہ ضلعے سے باہر چترالی واپس آکر اپنا حق رائے دہی استعمال کرکے اپنے لئے نمائندے چن لینے کے قابل ہوسکیں۔
چترال (چترال ایکسپریس) جمعیت علمائے اسلام کے سینئر رہنما اور سابق ڈسٹرکٹ پولیس افیسر محمد سید خان لال نے کہا ہے کہ جنوری کے مہینے میں چترال میں بلدیاتی انتخابات قطعی طور پرناممکن ہے جہاں سے سردی کے موسم میں ووٹروں کی 85فیصد پشاور،اسلام آباد اور دوسرے شہروں میں منتقل ہوتے ہیں۔ ایک اخباری بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ چترال کے ضلعے سے تقریباً سوفیصد جوان موسم سرما کی آمد سے پہلے روزگار اور ملازمت کے سلسلے میں ملک کے دیگر شہر چلے جاتے ہیں جبکہ ایک بہت بڑی تعداد موسم سرما کی شدت سے بچنے کی خاطر گرم علاقوں کی طرف نکل جاتے ہیں اور یہاں چند بیماراورعمر رسیدہ لوگ رہ جاتے ہیں جوکہ ووٹ پول کرنے کیلئے پولنگ اسٹیشن جانے کے بھی قابل نہیں ہوتے اوران حالات میں ووٹروں کی ٹرن آوٹ کی شرح ایک فیصد سے بھی کم رہ جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ووٹروں کی 99فیصد کو باہر رکھ کریہاں بلدیاتی الیکشن کرانا کسی طرح بھی درست نہیں ہے اورنہ قانونی طور پر یہ ممکن ہے کیونکہ الیکشن کی درستگی کے لئے کم آز کم 40فیصد ٹرن آوٹ لازمی ہے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سے اپیل کی ہے کہ چترال میں لوکل باڈیز الیکشن اپریل کے مہینے میں کرائے جائیں تاکہ ضلعے سے باہر چترالی واپس آکر اپنا حق رائے دہی استعمال کرکے اپنے لئے نمائندے چن لینے کے قابل ہوسکیں۔
