تازہ ترین

صدر عارف علوی کا تاریخی لاہور قلعہ(یونیسکو عالمی ثقافتی ورثے)کے اہم حصےPicture Wall اور شاہی باورچی خانے کا دورہ

لاہور(چترال ایکسپریس) اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر، ڈاکٹر عارف علوی نے لاہور قلعہ(یونیسکو عالمی ثقافتی ورثے)کے اہم حصےPicture Wall اور شاہی باورچی خانے کا دورہ کیا۔صدر پاکستان کا استقبال آغا خان کونسل برائے پاکستان کے صدر، حافظ شیر علی،ڈائریکٹر جنرل، والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی (WCLA)، کامران لاشاری اور آغا خان کلچرل سروس پاکستان (AKCS-P) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، خواجہ توصیف احمد نے کیا۔

شاہ برج گیٹ (ہاتھی پول) کے ساتھ واقع یہ Picture Wallقلعہ کا اصل نجی داخلہ بناتی ہے۔ اس دیوار کو شکاراور جنگ کے مناظر، فرشتوں اور شیطانوں، انسانی شبیہوں، جانوروں، پرندوں،جغرافیائی اور پھولوں کی تصاویر سے نہایت عمدگی سے سجایا گیا ہے۔ یہ دیوار تقریباً 400 سال قبل،مغل دور میں، تعمیر کی گئی تھی جو دُنیا کی سب سے بڑی دیواروں میں سے ایک ہے۔ یہ دیوار نقشین گلیزڈ ٹائل پر مشتمل موزائیک کے کام، زردوزی، اَستر کاری، پینٹ کیے ہوئے چونے کے پلاستر اور کٹی ہوئی اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہے۔

مغلیہ زمانے کے نفیس اور پیچیدہ کام میں انتہائی گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے صدر عارف علوی نے اسلامی تاریخ کے اس اہم حصے کو محفوظ کرنے کی تفصیلی کوششوں کو سراہا۔

Picture Wall اور شاہی باورچی خانے کے تحفظ کا کام آغا خان ٹرسٹ برائے کلچر (AKTC) اور ملک میں اُس کے ملحق ادارے آغا خان کلچرل سروس-پاکستان نے (WCLA) Walled City of Lahore Authority کے تعاون سے انجام دیا ہے۔

آغا خان ٹرسٹ برائے کلچر کی توجہ دنیا بھر میں کمیونٹیز کی مادی، سماجی، ثقافتی اور اقتصادی بحالی پر مرکوز ہے۔ اس میں آغا خان ایوارڈ فارآرکیٹیکچر، آغا خان ہسٹورک سٹیز پروگرام، آغا خان میوزک پروگرام، آن لائن ریسورسArchnet.org، ہارورڈ یونیورسٹی میں آغا خان پروگرام فار اسلامک آرکیٹکچر اور میسوچیسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی شامل ہیں۔

آغا خان ایوارڈ برائے آرکیٹکچر کا آغاز 1980ء میں لاہورکے شالامار باغ سے ہوا تھا۔ اْس موقع پر ہز ہائنس دی آغا خان نے تاریخی یادگاروں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا:”ہمیں اْنھیں اچھی طرح سمجھنا چاہیے،نہ صرف اْنھیں ماضی کے عجائب گھروں کے طور پر محفوظ کرنا، بلکہ اُس کے ہر حصے کو محسوس کرنا چاہیے- پتھر کی ُچنا ئی، اینٹوں کا ایک گنبد، ایک کھڑکی، ایک زیور یا با غ کا انتظام – وہ منفرد جذبہ،وہ منفرد اندازجو اِن یادگاروں کو اسلامی بنایاہے۔تبھی ہم تکنیکی ذرائع اور آج کے طریقوں میں وہی جذبہ پیدا کر سکیں گے۔“

2007 سے، آغا خان ہسٹورک سٹیز پروگرام نے والڈ سٹی آف لاہورکی بحالی اور مغل دور کی اِس یادگار کو محفوظ کرنے کا کام حکومت پنجاب اور والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کی شراکت داری سے شروع کیا۔ ا س میں مسجد وزیر خان اور شاہی حمام کی بحالی کا کام بھی شامل تھا۔ لاہور قلعہ کے اندر بحالی کا کام جاری ہے۔ان میں سے بہت سے پراجیکٹس کو ناروے، جرمنی اور یو ایس اے کی طرف سے تعاون فراہم کیاگیا۔اس پروگرام نے صوبہ گلگت بلتستان کی اونچی وادیوں میں کئی بڑے قلعوں، روایتی بستیوں، مساجد اور عوامی مقامات کو بھی بحال کیا ہے، خاص طور پر وادیء ہنزہ میں بلتت اور التت قلعے او ر بلتستان میں شگر قلعہ اور خپلو پیلس قابل ذکر ہیں۔

آغا خان ہسٹورک سٹیزپروگرام کے پروجیکٹس دنیا کے مختلف حصوں میں جاری ہے جن میں افغانستان، مصر، ملائیشیا، پاکستان، شام، تاجکستان اور تنزانیہ شامل ہیں۔ جنھوں نے، دنیا کے انتہائی غریب اور دور درازعلاقوں میں بھی،تحفظ سے بڑھ کر عمدہ گورننس، سول سوسائٹی کی ترقی، آمدنی اور معاشی مواقع میں اضافے، انسانی حقوق کے لیے زیادہ احترام اور ماحول کے لیے اسٹوارڈشپ کا مظاہرہ کیا ہے اور اْنھیں فروغ بھی دیا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔