تازہ ترین

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے 16 ہزار سرکاری ملازمین کو نوکریوں پر بحال کرنے کا حکم

گریڈ 8 سے 16 تک کے جن ملازمین کے لیے ٹیسٹ درکار تھا انھیں اب ٹیسٹ دینا ہوگا۔

اسلام آباد(چترال ایکسپریس) سپریم کورٹ آف پاکستان  نے برطرف ملازمین کی بحالی سے متعلق کیس کا مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے 16000 ملازمین کی برطرفی کے خلاف نظرِ ثانی اپیلیں خارج کرتے ہوئے ملازمین کو بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاق سمیت تمام ملازمین کی نظرِ ثانی کی درخواستیں خارج کردی گئی ہیں اور یکم نومبر 1996 سے لے کر 12 اکتوبر 1999 تک گریڈ ایک سے سات تک کے برطرف ہونے والے ملازمین کو بحال کیا جائے۔

تاہم عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ بد عنوانی، مِس کنڈکٹ اور کرپشن پر نکالے گئے ملازمین عدالتی فیصلے سے مستفید نہیں ہوسکیں گے۔

اسی طرح صرف ان ملازمین کو بحال کیا جائے جن کے لیے ٹیسٹ یا انٹرویو دینا ضروری نہیں تھا۔ جبکہ گریڈ 8 سے 16 تک کے جن ملازمین کے لیے ٹیسٹ درکار تھا انھیں اب ٹیسٹ دینا ہوگا۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے یہ فیصلہ دیا اور چار ایک کے تناسب سے دائر کردہ اپیلیں خارج کردی گئیں، جبکہ جسٹس منصور علی شاہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔

مختصر فیصلہ جسٹس عمر عطا بندیال نے پڑھ کر سنایا اور کہا کہ برطرفی کے خلاف نظرِ ثانی کی اپیلیں خارج کرنے کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملازمین کی بحالی کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 184 کی شِق تین کے دائرہ اختیار کو استعمال کرتے ہوئے دیا گیا ہے۔

ملازمین کی برطرفی کا معاملہ ہے کیا؟

یکم نومبر 1993 سے 30 نومبر 1996 کے دوران تقریباً 72 محکموں میں 16000 ہزار لوگوں کو نوکریوں پر بھرتی گیا تھا۔

یہ پاکستان پیپلز پارٹی کا دور تھا۔ نوکریوں پر رکھے جانے والے افراد کو بتایا گیا کہ انھیں مرحلہ وار ترقی دی جائے گی۔ پھر پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوئی اور معراج خالد کی عبوری حکومت کا دورانیہ پورا ہونے سے دو دن پہلے ان تمام افراد کو ایک آرڈر کے ذریعے مخلتف محکموں سے برطرف کردیا گیا۔

اس دوران یہ تمام ملازمین دس سال تک گھروں میں بند ہو کر رہ گئے۔

پھر 2009 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں ان افراد کو دوبارہ بحال کردیا گیا۔ اس دوران حکومت نے ایک آرڈیننس متعارف کروایا اور اسے ‘سیکڈ امپلائیز (ری انسٹیٹمنٹ) ایکٹ 2010’ کا نام دے کر پارلیمان سے منظور کروایا گیا۔

اس ایکٹ کو پارلیمان سے منظور کرانے کے پیچھے وجہ ان تمام لوگوں کو اپنی نوکریوں پر دوبارہ بحال کرنا تھا جو نومبر 1993 سے نومبر 1996 کے دوران نوکریوں پر رکھے گئے تھے۔

پھر 17 اگست 2021 میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں بننے والے تین رکنی بینچ نے ‘سیکڈ امپلائیز (ری انسٹیٹمنٹ) ایکٹ 2010 ‘ پر اعتراض کرتے ہوئے 42 صفحے کا فیصلہ سنایا۔

واضح رہے کہ یہ فیصلہ مختلف ہائی کورٹس میں آئی بی، سوئی گیس، سٹیٹ لائف انشورنس، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، سول ایوی ایشن اور متعدد ملازمین کی جانب سے دائر کی جانے والی اپیلوں کو سننے کے بعد کیا گیا تھا۔

اس فیصلے میں کہا گیا کہ اس قانون کے تحت ملازمین کو بے جا سہولیات دی جارہی ہیں اور اسی لیے وفات پانے والے یا ریٹائرڈ ملازمین کے کیسز میں جائے بغیر ان تمام سروس پر مامور افراد کو اس قانون کے آنے سے پہلے کے عہدوں پر فائز کردیا جائے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سنہ 2019 میں فیصلہ محفوظ کیا اور پھر تقریباً 20 ماہ کی تاخیر کے بعد (یعنی قریب دو سال بعد) ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ سنا دیا۔

اس سے ایک بار پھر ان تمام افراد کے لیے معاملات غیر یقینی صورتحال اختیار کر گئے۔ یعنی ایک بار پھر یہ افراد اپنی نوکریوں سے فارغ کردیے گئے تھے اور اگلے چار ماہ تک ملازمین نے احتجاج کرنا بہتر سمجھا۔

 

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔