تازہ ترینمضامین

دادبیداد۔۔۔صحت کار ڈ کی کا میا بی ۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی 

خیبر پختونخوا میں صحت کارڈ کی کا میا بی آنے والے سالوں میں مو جو د ہ حکومت کے ایک کار نا مے کے طور پر یا د رکھی جا ئیگی یہ ایسا کا ر نا مہ ہے جو اس سے پہلے کسی حکومت کے حصے میں نہیں آیا اب یہ سکیم پنجا ب اور گلگت بلتستان میں بھی لا ئی جا رہی ہے فلا حی ریا ست میں مفت علا ج کی سہو لت کو بنیا دی اہمیت حا صل ہے اگر چہ سما جی تحفظ کی چار اور سکیمیں بھی سویڈن، بر طا نیہ، نا ر وے اور دیگر مما لک میں شہر ت رکھتی ہیں ان میں راشن اور گذارہ الا ونس، مفت تعلیم، آسان اور مفت انصاف کے ساتھ معا شرے کے کمزور طبقوں کا تحفظ بھی شا مل ہے ہمارے ہاں اب تک سما جی تحفظ کا نا م کسی نے نہیں سنا تھا اگر صحت کارڈ اور ہیلتھ انشورنس پر تقریر کی جا تی تو کسی کی سمجھ میں نہ آتی حکومت کی کا میاب حکمت عملی یہ ہے کہ پہلے سکیم لا ئی گئی اس کو گھر گھر پہنچا یا گیا یوں انگریزی اصطلا ح کے مطا بق گراس روٹ کی سطح پر لو گوں نے فائدہ اٹھا یا اب فائدہ اٹھا نے والے لو گ بول رہے ہیں اور حکومت کو دعائیں دے رہے ہیں اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ وزیر ستان، شانگلہ، چترال اور بٹگرام، کو ہستان کے دور دراز علا قوں اور پہا ڑی دیہات سے غریب اور نا دار مریض ریسکیو 1122کے مفت ایمبو لینس میں ایبٹ اباد، مردان اور پشاور کے بڑے ہسپتا لوں تک جا تے ہیں ہسپتال کے اپریشن پر کوئی خر چہ نہیں آتا، 3سال پہلے یہ ایک خواب تھا اب یہ حقیقت ہے ایک نا دار مزدور کی بیوی کو فا لج کے علا ج کے لئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوار ٹر ہسپتال لا یا گیا وہاں ایم آر آئی اور سی ٹی سکین کی سہو لیات نہیں تھیں مریض کو پشاور کے لئے ریفر کیا گیا اُسے ریسکیو 1122نے 10گھنٹوں کے سفر کے بعد پشاور پہنچا یا، جہاں بڑے ہسپتال میں انصاف صحت کارڈ پر اس کا مفت علا ج ہوا ڈی ایچ کیو ہسپتال آتے وقت اُس کی جیب میں 20ہزار روپے تھے بڑے ہسپتال میں 15دن علا ج کے بعد واپس اپنے گھر پہنچا تو 5ہزار روپے اس کی جیب میں بچ گئے تھے جس پر یہ وقت نہیں آیا اُس کو اس طرح کی سہو لیات کا اندازہ نہیں ہو گا خیبر پختونخوا کا با شندہ اوکاڑہ چھا ونی میں ملا زمت کرتا ہے اس کی والدہ بیمار ہوئی اپریشن کا حکم ہوا اپریشن کے اخراجا ت کا تخمینہ ساڑھے چار لا کھ روپے لگا یا گیا، فو جی ملا زم اپنی والدہ کو پشاور لے آیا یہاں اس کا مفت اپریشن ہوا،صحت کارڈ کی مدد سے دوائیں بھی مفت مل گئیں واپس جا کر اُس نے اوکاڑہ چھا ونی میں یہ واقعہ سنا یا تو کسی کو یقین نہ آیا اگر کوئی رپورٹر ہسپتا لوں میں سے اس طرح کی مثا لیں ڈھونڈ کر سامنے لا ئے تو معلو م ہو گا کہ ایک سال کے اندر ایک کروڑ سے زیا دہ مریضوں کو اس کا براہ راست فائدہ ہوا ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ غریب، نا دار اور بے چارہ شخص کسی طاقتور کی سفارش کے بغیر یہ سہو لت حا صل کر تا ہے ایم پی اے اور ایم این اے کے ذریعے دھکا لگا کر سہو لت حا صل کر نے کی ضرورت نہیں اگر نا خواندہ اور نا واقف آدمی ہسپتال آکر شکا یت اور افسوس کر تا ہے کہ میرے پا س صحت انصاف کار ڈ نہیں تو پا س بیٹھا ہوا خواندہ شخص اس کو بتا تا ہے کہ اپنا شنا ختی کارڈ اس دفتر میں دکھا ؤ ساراعلا ج مفت ہو جا ئے گا، انشورنس کمپنی کا نما ئیند ہ بھی لو گوں کی رہنما ئی کر تا ہے ہسپتال کا عملہ بھی لو گوں کی رہنما ئی کر تا ہے اس طرح صحت کارڈ کی افادیت زکوۃ اور بیت المال سے ہزار گنا بڑھ گئی ہے زکوۃ اور بیت الما ل کو سفا رشی کلچر نے غریبوں کی پہنچ اور رسائی سے بہت دور کر دیا تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ سوات ایکسپریس وے اور بی آر ٹی کی طرح صحت کارڈ کی سہو لت کو بھی مو جو دہ حکومت کے بڑے منصو بے اور کامیاب کار نا مے کے طور پر یا د رکھا جائے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔