داد بیداد …بلدیات سے آگے …ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی 

خیبر پختونخوا میں بلدیا تی انتخا بات کا پہلا مر حلہ اختتام کو پہنچا 6قیمتی جا نیں ضا ئع ہوئیں 13بے گنا ہ شہری زخمی ہوئے ایک شہری خود اپنی گو لی کا نشا نہ بن کر زند گی کی بازی ہار گیا نتیجے میں 17اضلا ع کے اندر 4شہروں کے مئیر حزب اختلاف کو ملے 64تحصیلوں میں سے 56تحصیلوں کے چیئر مین کے عہدے بھی حزب اختلاف کو ملے اس نتیجے کا مطلب یہ ہوا کہ سر کاری جما عت نے ووٹ میں ہیرا پھیری نہیں کی انتخا بات قانون کے مطا بق آزاد انہ اور غیر جا نبدارانہ تھے ایسا نہ ہوتا تو سر کاری پارٹی کے لئے ساری نشستیں اپنی جیب میں ڈالنا مشکل نہیں تھا ما ضی میں ایسے کا م ہم نے بہت دیکھے یہ پہلا مو قع ہے کہ سر کاری پارٹی نہ صرف ہار گئی بلکہ اپنی شکست کو تسلیم کرنے میں کسی تردد اور ہچکچا ہٹ سے کا م نہیں لیا اب آگے سر کاری پارٹی کا دوسرا بڑا امتحا ن آرہا ہے امتحا ن یہ ہے کہ جن حلقوں میں حزب اختلا ف کے لو گ کا میاب ہوئے ان کو حلقے میں تر قیا تی کا موں کے لئے فنڈ ملینگے یا نہیں؟ اگلے دو سالوں میں سر کاری پارٹی اس امتحا ن سے یا سر خرو ہو کر نکلے گی یا نتیجہ اس کے بر عکس ہو گا پھر عام انتخا بات کا مر حلہ آئیگا جمہو ری مما لک میں عام طور پر سر کاری پارٹی خود انتخا بات کراتی ہے ہمارے ہاں اس کی جگہ عبوری حکومت لا ئی جا تی ہے کیونکہ سر کاری پارٹی پر کوئی اعتبار نہیں کر تا جمہوری مما لک میں ووٹ ختم ہونے کے پندرہ دن یا ایک مہینہ بعد نتیجہ آتا ہے تما م پو لنگ سٹیشنوں سے ووٹوں کے بکسے مر کزی شہر کے مر کزی دفتر میں جمع کئے جا تے ہیں وہاں ووٹوں کی گنتی ہو تی ہے لیکن ہمارے ہاں اعتما د کا شدید فقدان ہے اعتما د کے فقدان کی وجہ سے کسی کو بھروسہ نہیں کہ ووٹ کے بکسے کسی بڑی گڑ بڑ کے بغیر پو لنگ سٹیشن سے مر کزی دفتر لا ئے جائینگے اعتما د، اعتبار اور بھرو سے کا یہ بحران ہمارے ملک کے تما م بحرانوں کی جڑ ہے اس بد اعتمادی سے شک پید ا ہو اہے پا کستان کے سوا دنیا کے 192مما لک میں کوئی بھی ملک ایسا نہیں جہان سیا سی جما عتوں میں جا نی دشمنی ہو ں آپ کو کسی جمہو ری، نیم جمہوری یا غیر جمہوری ملک میں ایسا نا قا بل برداشت ما حول نہیں ملے گا جس میں سیا ستدان ایک دوسرے کو جا نی دشمن کا درجہ دیتے ہوں سیا سی ما حول قبا ئلی دشمنی اور رقا بت سے بد تر ہو، نہیں پا کستان کے سوا کسی بھی ملک میں ایسا نہیں ہو تا پا کستان میں دشمنی کی یہ فضا نئی نہیں ہے 1949ء سے یہ فضا چلی آرہی ہے مشرقی پا کستا ن میں مو لوی اے کے فضل حق، سندھ میں جی ایم سید اور خیبر پختونخوا میں خان عبد الغفار خا ن کو ذاتی دشمنی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا پھر 1956سے 1970تک یہ سلسلہ جاری رہا اس دشمنی کی وجہ سے مشرقی پا کستان علٰحیدہ ہوا آج بلو چستان، سندھ جنو بی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے ضم اضلا ع میں جو احساس محرومی ہے وہ بھی اس طرح کی جا نی دشمنی کی وجہ سے ہے نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک دوسرے کو جا نی دشمن کا در جہ دیا، آج بھی سر کا ری پارٹی کے لو گ حزب اختلا ف کے لو گوں کو جا نی دشمن کہہ کر پکار تے ہیں حالانکہ سیا سی لیڈروں کی مثال وکلا ء کی طرح ہوتی ہے جس طرح وکلا ء عدالت میں ایک دوسرے کے مقا بل ہوتے ہیں عدالت سے با ہر گہر ے دوست بن جا تے ہیں سیا ستدانوں کی آپس میں مخا لفت پا رلیمنٹ تک محدود ہو تی ہے پار لیمنٹ سے با ہر آکر وہ آپس میں گہر ے دوست ہوتے ہیں ان میں قبا ئلی رقابت اور دشمنی نہیں ہو تی اس جا ن لیوا دشمنی کو کیسے ختم کیا جا ئے؟ یہ سوال بہت مشکل ہے بعض دوستوں کا خیال ہے کہ سر کاری پارٹی وسیع القلبی کا مظا ہر ہ کرے تو دشمنیاں ختم ہو سکتی ہیں اس کے بر عکس دیگر دوستوں کا خیال یہ ہے کہ ملک میں 30سالوں کے لئے سیا سی جما عتوں پر پا بندی لگا ئی جا ئے انتخا بات کا سلسلہ منقطع کیا جا ئے 30سال تک ایک فرد کی باد شا ہت ہو اس کے بعد نئے طرز کی سیا ست آئے گی نئی سیا سی جماعتیں ہونگی تو ان میں جا نی دشمنی نہیں ہو گی، اصو لوں کی سیا ست ہو گی منشور کی بنیاد پر انتخا بات ہو نگے جھگڑا کوئی نہیں ہو گا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔