تازہ ترینمضامین

تیل کی قیمتوں میں پھراضافہ…محمد شریف شکیب

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چارروپے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔وزارت خزانہ کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے کے بعد نئی قیمت 144.82 روپے فی لیٹر ہوگئی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے، مٹی کے تیل کی قیمت میں تین روپے 95پیسے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں چار روپے پندرہ پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا۔ اپوزیشن کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو حکومت کی طرف سے عوام پر پٹرول بم گرانے کے مترادف قرار دیاگیا ہے۔دوسری جانب حکومت نے ایل پی جی کی قیمت میں 6روپے فی کلوکمی کرکے اسے عوام کے لئے نئے سال کا تحفہ قرار دیا ہے۔حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کا ملک کی 72 فیصدآبادی کو براہ راست فائدہ ہو گا۔دوسری جا نب بھارتی ریاست جھارکھنڈکی حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 25 روپے کمی کا اعلان کیا گیاہے۔ریاستی حکومت نے اپنے اقتدار کے دو سال مکمل ہونے پر عوام کو تیل کی قیمتوں میں کمی کا تحفہ دیا ہے۔اور ہر خاندان کو 10 لیٹر پرسبسڈی دینے کا اعلان کیا گیاہے۔ہماری حکومت نے بھی موٹر سائیکل سواروں کو پٹرول پر سبسڈی دینے کا اعلان کیاتھا۔مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔نئے سال کے پہلے ہی روز تیل کے دام بڑھانے کے اعلان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حکمران پوری طرح بیوروکریسی کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس چکے ہیں۔ وزیراعظم اور وفاقی وزراء کی طرف سے چند ہفتوں سے عوام کو یہ خوشخبری سنائی جارہی تھی کہ آئندہ چند مہینوں کے اندر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بتدریج کمی ہوگی۔لیکن پٹرول کی نئی قیمتوں نے عوام کی امیدوں پر پانی پھیردیا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ بھارت کی ایک نیم خود مختار ریاست عوام کے لئے پٹرول کی قیمت میں پچیس روپے فی لیٹر کمی کا تحفہ دے سکتی ہے تو ہمارے عوام کی قسمت میں مہنگائی ہی کیوں لکھی گئی ہے۔حالانکہ پاکستان کو موخر ادائیگی پر سعودی عرب سے تین ارب ڈالر کا تیل بھی مل چکا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت تیل کی قیمت پندرہ بیس روپے فی لیٹر کم کرتی۔تاکہ مہنگائی کے مارے عوام کو سال نو پر کچھ ریلیف مل جاتا۔ تیل مہنگا ہونے سے کرائے خود بخود بڑھ جاتے ہیں جس سے ہرچیز کی قیمت متاثر ہوتی ہے۔ مشکل وقت ہر قوم پر آتا ہے اس کا پوری قوم مل کا مقابلہ کرتی ہے۔ ہمارے ہاں مشکل وقت میں صرف عوام سے ہی قربانی کا تقاضا کیاجاتا ہے۔ حکمران اور اعلیٰ افسران اپنی عیاشیاں کم کرنے کو کبھی تیار نہیں ہوتے۔ صدر، وزیراعظم، چاروں صوبوں کے گورنرز، وزرائے اعلیٰ، وفاقی و صوبائی وزراء، اراکین سینٹ، قومی اور صوبائی اسمبلی،اعلیٰ سول و فوجی افسران اورعدلیہ کے ججوں سے پٹرول کی سہولت واپس لی جائے تو حکومت کو بار بار عوام پر بوجھ ڈالنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ ماہانہ لاکھوں روپے کمانے والے اپنا پٹرول کا خرچ خود برداشت کرسکتے ہیں۔ موٹرسائیکل، رکشہ، سوزوکی و ٹیکسی والوں اور غریب عوام پر ان کی عیاشی کا بوجھ ڈالنا سراسر ظلم ہے۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، پیرس کلب، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں سے سخت شرائط پر جو قرضے لئے گئے ان سے غریبوں کوکوئی فائدہ نہیں پہنچا ہے۔ان قرضوں کی قسطیں بھاری سود سمیت عوام سے ظالمانہ ٹیکسوں کی صورت میں وصول کرنے کا کیاجواز ہے۔ حکومت ٹیکس نیٹ کو بڑھانا چاہتی ہے۔جو لوگ پہلے سے ہر چیز پر ٹیکس دیتے ہیں ان پر مزید بوجھ لادنا زیادتی ہے۔ جاگیر داروں، کارخانے داروں، صنعت کاروں، برآمد کنندگان، بڑے تاجروں، سمگلروں اور کالا دھن رکھنے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی ضرورت ہے۔کسی بھی حکومت نے انہیں ٹیکس نیٹ میں لانے کی جرات نہیں کی۔ پرائیویٹ کلینک، ہسپتال، لیبارٹریاں اور فارماسیوٹیکل کمپنیاں چلانے والے ڈاکٹر اور کوچنگ سینٹر چلانے والے پروفیسرز سالانہ کروڑوں روپے کماتے ہیں ان کی آمدنی کا کوئی حساب کتاب نہیں رکھتا نہ ہی ان سے کوئی ٹیکس وصول کیاجاتا ہے۔ حکمران اگر بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالنے کی جرات کریں تو انہیں عام آدمی کی رگوں سے خون نچوڑنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔