تازہ ترین

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا گورنمنٹ ملازمیں کیساتھ افسوسناک رویہ …تحریر: ناصر علی شاہ

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا گورنمنٹ ملازمیں کیساتھ رویہ افسوسناک رہا ہے تین سالوں کے اندر ملازمین کسی نہ کسی وجہ سے ڈیوٹیاں چھوڑ کر سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کئے جاتے رہے۔ حکومت ایسی چال چلتی ہے جس کی وجہ سے ملازمیں کو مجبوراً نکلنا پڑتا ہے اور حکومت اسی احتجاج کا فائدہ اٹھا کر سادہ لوح عوام کی ذہنوں میں ملازمین کے خلاف نفرت پیدا کرتی ہے ان کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ملازمیں کو سب سہولیات مہیا کرنے کے باوجود بھی خوش نہیں اور احتجاج کررہے ہیں، مگر صورتحال ایسا نہیں ہے کسی کو احتجاج کا شوق نہیں ملازمین خود تنگ آچکے ہیں مگر مجبوراً نکلنا پڑتا ہے تاکہ کسی کا مستقبل بچایا جا سکے۔
صورتحال ملاحظہ فرمائیں۔
تحریک انصاف کی حکومت نے پشاور کی ہسپتالوں کو ایم ٹی آئی نام دیکر نیم پرائیوٹائز کر دی ہے ، یہی نہیں آہستہ آہستہ وہاں سرکاری ملازمین کا داخلہ بند کروا دی گئی اور دہاڑی سسٹم کے حساب سے ایم ٹی آئی ملازمیں بھرتی کئے جارہے ہیں ، اچھا یا برا وہ ان کا اختیار تھا کر دئیے مگر ساتھ گورنمنٹ ملازمیں کو تنگ کرکے بھگانے کا سلسلہ جاری رہا اور آج عہدوں کا غلط استعمال کرکے ایم ٹی آئی ہسپتالوں سے سول سرونٹ یا سرکاری ملازمین کو زور و زبردستی ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز رپورٹ کرنے کا حکم صادر کیا جا چکا ہےجو سراسر ظلم اور نا انصافی کے سوا کچھ نہیں ۔
کچھ سوالات ۔۔
کیا یہ سرکاری ملازمین صوبہ خیبر پختونخوا کے شہری نہیں ؟
کیا صوبے میں نفرت و تصادم کو ہوا نہیں دی جارہی؟؟
کیا یہی سرکاری ملازمین پشاور کے ہسپتالوں میں بہتریں خدماتِ نہیں دے چکے ہیں؟؟
کئی ملازمین ادارے سے این او سی لیکر لاکھوں روپے خرچ کرکے ڈیوٹیوں کیساتھ ایجوکیشن حاصل کر رہے ہیں ان کی نقصان کا ازالہ کون کریگا؟؟
سرکاری ملازمت ختم کروانے کا بہانہ:
ایم ٹی آئی ایکٹ کو جواز پیش کرکے صوبے سے سرکاری ملازمتیں ختم کروائی جا رہی ہیں وہ تمام عوام جن کے بچے ابھی پڑھ رہے ہیں جان لیں ان کے لئے عزت مند نوکریاں نہیں ہیں۔
حکومت کے تمام کارندے جو اپنے مفاد کی خاطر یہ سب کچھ کر رہے ہیں جان لیں وہ جابرانہ طرز کی حکمرانی کر رہے انا پرستی بلکہ شیطاں کے راستے کو اپنائے ہوئے جو اللہ کو سخت نا پسند ہے حکمرانی کے نشے میں دھت کچھ دیکھائی نہیں دے رہا۔۔
سرکاری ملازمین جو ایم ٹی آئی ہسپتالوں میں بہترین انداز میں ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے ہیں ان کو ری لیو کروانا جبر و زبردستی ہے اتنے سارے لوگوں کو ڈی جی ہیلتھ کہاں ایڈجسٹ کریگا پھر بھی اگر ریلیو کروانا ہے تو سرکاری ملازمین کی پوسٹوں کے ساتھ ری لیو کروایا جائے تاکہ اپنی پوسٹ کے ساتھ وہ کسی ہسپتال میں داخل ہوسکے۔ اب تک ایم ٹی آئی ہسپتالوں نے 400 سول سرونٹ پوسٹس ہڑپ کر چکے ہیں اور اب مزید کو ری لیو کرکے سارے پوسٹیں ختم کرنے کا پروگرام بنائے ہوئے ہیں۔
حکومت خیبر پختونخوا حکومت سے گزارش ہے کہ ملازمین کی ملازمتوں کے ساتھ کھلواڑ نہ کیا جائے اور انہیں ہسپتالوں میں تنگ کئے بغیر اپنے ڈیوٹیاں نبھانے دی جائے اگر ایسا نہ ہوا تو نقصان عوام کے ساتھ ساتھ آپ لوگوں کا بھی ہوگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔