تازہ ترین

جے پور انٹرنیشنل فلم فیسٹول (جے آئی ایف) میں فلم ” دریا کے اس پار ” کو اسپشل جوری منشن ایوارڈ کے ایوارڈ سے نوازا گیا

اسلام آباد (شجاعت علی بہادر ) چودہویں جے پور انٹرنیشنل فلم فیسٹول (جے آئی ایف) میں فلم ” دریا کے اس پار ” کو اسپشل جوری منشن ایوارڈ کے ایوارڈ سے نوازا گیا

جے پور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کی پررونق تقریب بھارت کی شہر جے پور میں منقعد ہوئی۔ تقریب 52 ممالک سے 279 نمائشی فلم پیش کی گئیں۔ امریکہ میں مقیم چترال کی قابل فخر بیٹی نگہت اکبر شاہ کی پیشکش فلم “دریا کے اس پار” کو مختصر فلم ” اسپیشل جوری منشن ایوارڈ ” کے ایوارڈ سے گیا۔

فلم فیسٹیول کے بانی ڈائریکٹر ہنو رو ج اور ترجمان راجندر بوڑا نے نمائش کیلئے۸؍ ممالک کی ۳۰؍منتخب فلموں کی تیسری اورحتمی فہرست جاری کرتے وقت منگل کو کہا کہ دکھانے سے پہلے ہی ایوارڈ  کا اعلان کرنے والی جے آئی ایف دنیا کی پہلی تقریب ہے۔

 ایسا کرنے سے فلم شائقین کو سب سے اچھی فلمیں دیکھنے کا موقع مل جاتی ہیں اور لوگ اپنی پسند کے مطابق فلموں کا لطف لے سکیں گے۔

واضح رہے پاکستانی فلم ” دریا کے اس پار ” کو 9 جنوری 2022 کو جے پور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں دکھائی جائے گی۔

اس فلم میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور خیبر پختونخوا کے اضلاع اپر اور لوئیر چترال میں نفسیاتی مسائل بالخصوص خواتین کے ذہنی مسائل اور اُن سے جنم پذیرصورت حال کو اجاگر کیا گیا ہے۔

جے پور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں 52 ممالک سے 279 فلمیں مدمقابل تھیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستانی فلم “دریا کے اس پار” انٹرنشنل لیول کی بڑی بڑی فلموں کی صف میں ممتاز بنائی بلکہ ” اسپیشل جوری منشن ایوارڈ ” بھی اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

فلم کی پروڈیوسر نگہت اکبر شاہ نے ہمارے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلم پروڈکشن کا یہ ان کا پہلا تجربہ تھی اللہ کا شکر ہے کہ پہلا تجربہ ہونے کے باوجود ہماری اس فلم کو بین الاقوامی سطح پر توقع سے بڑھ کر بے پناہ پزیرائی۔ اس میں جہاں اہل ِ چترال کے لیے فخر کی بات ہے وہاں پورے پاکستان کے لیے بھی خوشی کا مقام ہے۔

انہوں نے کہا فلم ڈائریکٹر شعیب سلطان خصوصی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ان کا تیار کردہ فلم امریکن میکسیکن اور انڈیین فلموں کی فہرست میں جگہ بنا پائی ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔